🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1702. ‏(‏147‏)‏ بَابُ ذِكْرِ إِعْطَاءِ الْمَرْءِ الْمَالَ نَاوِيًا الصَّدَقَةَ
صدقے کی نیت سے مستحق صدقہ کو مال دے دینا صدقہ ہے
اگرچہ اسے بتایا نہ جائے کہ یہ صدقہ ہے (اس باب کے تحت حدیث موجود نہیں ہے) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 0]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1703. ‏(‏148‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا فَضَّلَ صَدَقَةَ الْمُقِلِّ إِذَا كَانَ فَضْلًا عَمَّنْ يَعُولُ، وَلَا إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى الْأَبَاعِدِ وَتَرَكَ مَنْ يَعُولُ جِيَاعًا
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم مالدار شخص کے صدقے کو افضل اس وقت قرار دیا ہے جبکہ وہ مال اس کے اہل و عیال کی ضروریات سے زائد ہو، نہ کہ وہ صدقہ جو دور کے لوگوں پر کیا جائے اور اپنے اہل و عیال کو بھوکا چھوڑ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2451
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مالدار شخص کا محنت سے کما کر کیا ہوا صدقہ افضل ہے اور سب سے پہلے ان لوگوں پرخرچ کرو جن کا نفقہ تمہارے ذمے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2451]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2444، 2451، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3346، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1514، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1677، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7866، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8823»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2452
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَا هُنَا وَهَاهُنَا"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ضرورتمند اور محتاج ہو تو سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے۔ پھر اگر مال بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اسے اپنے قرابتدار رشتہ داروں پر خرچ کرے، اسکے بعد بھی مال زیادہ موجود ہو تو اسے ادھر اُدھر محتاج لوگوں میں تقسیم کردے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1056، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، 2452، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2545، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1704. ‏(‏149‏)‏ بَابُ الزَّجْرِ عَنْ عَيْبِ الْمُتَصَدِّقِ الْمُقِلِّ بِالْقَلِيلِ مِنَ الصَّدَقَةِ،
کم مال والے شخص کے تھوڑے صدقہ کرنے پر اسے طعن کرنا اور اس کی عیب جوئی کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2453
وَلَمْزِهِ، وَالزَّجْرِ عَنْ رَمْيِ الْمُتَصَدِّقِ بِالْكَثِيرِ مِنَ الصَّدَقَةِ بِالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- هُوَ الْعَالِمُ بِإِرَادَةِ الْمُرَادِ، وَلَا إِرَادَةَ مِمَّا تُكِنُّهُ الْقُلُوبُ، وَلَمْ يُطْلِعِ اللَّهُ الْعِبَادَ عَلَى مَا فِي ضَمَائِرِ غَيْرِهِمْ مِنَ الْإِرَادَةِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: " كُنَّا نَتَحَامَلُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالصَّدَقَةِ الْعَظِيمَةِ، فَيُقَالُ: مُرَاءٍ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِنِصْفِ صَاعٍ، فَيُقَالُ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ هَذَا، فَنَزَلَتْ: الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ، وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79"
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مزدوری کیا کرتے تھے۔ تو جب کوئی شخص بہت بڑا صدقہ لیکر آتا تو کہا جاتا کہ یہ تو ریا کار ہے اور اگر کوئی شخص نصف صاع صدقہ لیکر آتا تو کہہ دیا جاتا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اس شخص کے نصف صاع سے غنی ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «‏‏‏‏الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ» ‏‏‏‏ [ سورة التوبة: 79 ] جو لوگ طعن کرتے ہیں کھلے دل سے خیرات کرنے والے مؤمنوں پر، (ان کے) صدقات کے بارے میں اور ان پر بھی جو اپنی (تھوڑی سی) محنت مزدوری کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2453]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1415، 1416، 2273، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1018، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2453، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3338، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2528، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4155، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7842، 11761، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22778»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1705. ‏(‏150‏)‏ بَابُ فَضْلِ صَدَقَةِ الصَّحِيحِ الشَّحِيحِ الْخَائِفِ مِنَ الْفَقْرِ، الْمُؤَمِّلِ طُولَ الْعُمُرِ عَلَى صَدَقَةِ الْمَرِيضِ الْخَائِفِ نُزُولَ الْمَنِيَّةِ بِهِ
ایسا مریض جسے زندگی کی امید نہ ہو بلکہ موت سے خوفزدہ ہو اس کے صدقہ پر صحت مند، مال کی حرص رکھنے والے، فاصلہ محتاجی سے ڈرنے والے اور طویل عمر کی امید رکھنے والے شخص کے صدقہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2454
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرَعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومُ، قُلْتُ لِفُلانٍ كَذَا وَلِفُلانٍ كَذَا، أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي يَقُولُ: إِنَّ الْوَقْتَ إِذَا قَرُبَ فَجَائِزٌ أَنْ يُقَالَ قَدْ كَانَ الْوَقْتُ , وَدَخَلَ الْوَقْتُ إِذَا قَرُبَ، وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ، وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ، لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ أَيْ قَدْ قَرُبَ نُزُولُ الْمَنِيَّةِ بِالْمَرْءِ إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومُ فَيَصِيرُ الْمَالُ لِغَيْرِهِ، لا أَنَّ الْمَالَ يَصِيرُ لِغَيْرِهِ قَبْلَ قَبْضِ النَّفْسِ، وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ قَوْلُ الصِّدِّيقِ: وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمُ هُوَ وَارِثٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کونسا صدقہ اجر و ثواب میں عظیم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا اس حال میں صدقہ کرنا کہ تم صحت مند ہو۔ مال کا طمع رکھتے ہو، فقر و فاقہ کا تمہیں ڈر ہو اور تمہیں زندگی کی امید۔ ہو اس وقت کا انتظار نہ کرو حتّیٰ کہ جب جان حلق میں پہنچ جائے تو تم کہو کہ فلاں کے لئے اتنا مال ہے۔ فلاں شخص کو اتنا مال دیدو، وہ تواب دوسروں کا ہوہی چکا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں یہ الفاظ کہ وہ تو اب دوسروں کا ہو چکا ہے۔ یہ مسئلہ اسی قسم کا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وقت قریب ہو جائے تو یہ کہنا جائز ہے کہ وقت ہوچکا ہے اور دَخَلَ اْلوَقْتُ (وقت ہوگیا) اس وقت کہتے ہیں جب وقت قریب ہوجائے اور یہ مال دوسروں کا ہوچکا ہے اگرچہ ابھی وقت نہیں ہوا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ یہ مال اب دوسروں کا ہوچکا ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اب اس شخص کی موت قریب آچکی ہے کیونکہ جان حلق میں اٹکی ہوئی ہے تو یہ مال اب دوسروں کا ہو جائیگا۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کی جان نکلنے سے پہلے ہی یہ مال دوسروں کا ہو جائیگا۔ اسی قسم سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے کہ بلا شبہ فلاں شخص اس کا وارث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1419، 2748، 5971، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1032، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2454، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 433، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2541، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2865، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7926، 15856، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7280»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1706. ‏(‏151‏)‏ بَابُ فَضْلِ صَدَقَةِ الْمَرْءِ بِأَحَبِّ مَالِهِ لِلَّهِ،
اللہ تعالی کے راستے میں پسندیدہ مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2455
إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- نَفَى إِدْرَاكَ الْبِرِّ عَمَّنْ لَا يُنْفِقُ مِمَّا يُحِبُّ‏.‏ قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-‏:‏ ‏ [‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏] ‏ ‏ [‏آلِ عِمْرَانَ‏:‏ 92‏]
کیونکہ اللہ تعالی نے اس شخص کو نیکی ملنے کی نفی کردی ہے جو اپنا پسندیدہ مال صدقہ نہیں کرتا۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے «‏‏‏‏لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: 92] تم ہرگز نیکی نہ پا سکوگے جب تک ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: Q2455]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، أَتَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي أَرْضٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَرْضِي بَيْرَحَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْرَحَى خَيْرٌ رَايِحٌ، أَوْ خَيْرٌ رَابِحٌ" يَشُكٌّ الشَّيْخُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: وَإِنِّي أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ" ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ حَدَائِقَ، خَبَرٌ ثَابِتٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ أَنَسٍ، خَرَّجْتُهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «‏‏‏‏لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ‏‏‏‏ [ سورة آل عمران: 92 ] تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے۔ اُنہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے اپنے تمام باغات میں سے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ محبوب ہے۔ تو نبی کریم نے فرمایا: بیرحاء تو فنا ہونے والا مال ہے (جبکہ اس کا اجر باقی رہیگا) یا فرمایا کہ بیر حاء بڑا نفع بخش باغ ہے۔ راوی کو اس میں شک ہے۔ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اس باغ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو۔ چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قرابت داروں کو اس باغ کے باغیچے تقسیم کر دیئے۔ میں نے جناب ثابت اور حمید بن انس کی روایت دوسری جگہ بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2455]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 998، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2455، 2458، 2459، 2460، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3340، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3604، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1689، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2997، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1695، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12038، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12327»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1707. ‏(‏152‏)‏ بَابُ ذِكْرِ حُبِّ اللَّهِ- عَزَّ وَجَلَّ- الْمُخْفِي بِالصَّدَقَةِ،
چھپا کر صدقہ کرنے والے شخص کو اللہ پسند فرماتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2456
إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- قَدْ فَضَّلَهَا عَلَى صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ‏.‏ قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-‏:‏ ‏ [‏إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ‏] ‏ ‏ [‏الْبَقَرَةِ‏:‏ 271‏] ‏‏.‏
کیونکہ اللہ تعالی نے خفیہ صدقے کو اعلانیہ صدقے پر فضیلت دی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے «‏‏‏‏إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ» ‏‏‏‏ [ سورة البقرة: 271 ] اگر تم اعلانیہ صدقہ کرو تو بھی اچھا ہے، اور اگر صدقات چھپا کر فقراء کو دو تو وہ تمھارے لئے بہت بہتر ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: Q2456]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمْ: فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ، إِلا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ، نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي، وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا، فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ"
سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تین قسم کے افراد سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے تو ان میں سے پہلا وہ شخص ہے جو کسی قوم کے پاس آیا تو اس نے اللہ کے نام پر ان سے مانگا اور ان کے ساتھ اپنی رشتہ داری کی بنا پر نہ مانگا۔ تو ایک شخص ان لوگوں کے پیچھے گیا اور اس شخص کو چھپا کرمال دے آیا۔ اس کے عطیہ سے صرف اللہ تعالیٰ اور لینے والا شخص ہی آگاہ ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو ساری رات سفر کرتے رہے حتّیٰ کہ جب سب چیزوں سے نیند انہیں محبوب ہوگئی تو وہ سب سواریوں سے اُتر کر سوگئے اور یہ شخص کھڑا ہوکر میرے سامنے گریہ زاری کرنے لگا اور میری آیات کی تلاوت کرنے لگا۔ تیسرا وہ شخص جوکسی جنگی لشکر میں تھا جب دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو لشکر والے شکست کھا گئے اور یہ شخص سینہ تان کر دشمن کے مقابلے میں آگیا حتّیٰ کہ قتل کردیا گیا یا اسے فتح نصیب ہوگئی۔ اور وہ تین افراد جن سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ بوڑھا زانی شخص، فقیر غرور و تکبر کرنے والا اور دولتمند ظالم ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2456، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3349، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1525، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1614، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2567، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21751»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں