🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1694. ‏(‏139‏)‏ بَابُ الزَّجْرِ عَنْ صَدَقَةِ الْمَرْءِ بِمَالِهِ كُلِّهِ،
آدمی کا اپنا سارا مال صدقہ کر دینا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2442
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ" ، وَأَخْبَرَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، بِهَذَا مِثْلِهِ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ ہے، میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں حُکم دیا: اپنا کچھ مال رکھ لو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2757، 2947، 2948، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 716، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2442، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3370، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4215، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2202، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3102، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1393، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4002، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16011»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1695. ‏(‏140‏)‏ بَابُ صَدَقَةِ الْمُقِلِّ إِذَا أَبْقَى لِنَفْسِهِ قَدْرَ حَاجَتِهِ‏.‏
کم مال والا شخص اپنی ضروریات کے لئے رکھ کر باقی صدقہ کردے تو اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْبِقُ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ؟ قَالَ:" رَجُلٌ كَانَ لَهُ دِرْهَمَانِ، فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَآخَرُ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ، فَأَخَذَ مِنْ عَرَضِهَا مِائَةَ أَلْفٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم پر سبقت لے گیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک درہم ایک لاکھ درہم پر کیسے سبقت لے گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کے پاس صرف دو درہم تھے تو اُس نے ایک درہم صدقہ کردیا۔ جبکہ دوسرے شخص کے پاس کثیر مال و دولت تھا تو اُس نے اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2443، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3347، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1524، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2526، 2527، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2318، 2319، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7873، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9051، والبزار فى (مسنده) برقم: 8897»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1696. ‏(‏141‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا فَضَّلَ صَدَقَةَ الْمُقِلِّ إِذَا كَانَ فَضْلًا عَمَّنْ يَعُولُ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم مال والے شخص کے صدقے کو اس وقت افضل قرار دیا ہے جبکہ وہ مال اس کے اہل وعیال کی ضروریات سے زیادہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2444
لَا إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى الْأَبَاعِدِ وَتَرَكَ مَنْ يَعُولُ جِيَاعًا عُرَاةً، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِبَدْءِ مَنْ يَعُولُ‏.‏
اس وقت افضل نہیں جب وہ دور کے لوگوں پر صدقہ کرے اور اس کے اپنے اہل و عیال بھوکے ننگے ہوں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کا حُکم دیا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: Q2444]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مالدار شخص کا تکلیف کے ساتھ صدقہ کرنا افضل ہے۔ اور سب سے پہلے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2444]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2444، 2451، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3346، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1514، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1677، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7866، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8823»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2445
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهُنَا وَهَهُنَا"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص محتاج ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے۔ اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر مزید مال بچ جائے تو اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زیادہ موجود ہو تو پھر ادھر اُدھر ضرورتمندوں پر خرچ کردے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2445]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1056، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، 2452، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2545، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1697. ‏(‏142‏)‏ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي مَسْأَلَةِ الْغَنِيِّ مِنَ الصَّدَقَةِ
مالدار شخص کے صدقہ مانگنے پر سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَزِيدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ , قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا حُبْشِيُّ بْنُ جُنَادَةَ السَّلُولِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ" ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ:" مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ"
سیدنا حبشی بن جنادہ سلولی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بقدر کفایت مال کے ہوتے ہوئے مانگا تو بیشک وہ آگ کے انگارے کھاتا ہے۔ جناب زید بن اخزم کی روایت میں ہے کہ جس شخص نے بغیر محتاجی کے مانگا تو بلاشبہ وہ جہنّم کے انگارے کھاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2446]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2446، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17780، 17781»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1698. ‏(‏143‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْغَنِيِّ الَّذِي يَكُونُ الْمَسْأَلَةُ مَعَهُ إِلْحَافًا
مالدار شخص کا مانگنا گویا کہ چمٹ اور لپٹ کر مانگنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ، فَهُوَ مُلْحِفٌ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس اوقیہ چاندی کی قیمت (چالیس درھم) موجود ہو اور وہ سوال کرے تو وہ چمٹ اور لپٹ کو مانگنے والا شمار ہوگا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2447، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3390، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2594، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1628، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13333، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1988، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11145»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1699. ‏(‏144‏)‏ بَابُ تَشْبِيهِ الْمُلْحِفِ بِمَنْ يَسِفُّ الْمَسْأَلَةَ
چمٹ کر مانگنے والے کو مٹی پھانکنے والے ساتھ تشبیہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، فَهُوَ مُلْحِفٌ وَهُوَ مِثْلُ سَفِّ الْمَسْأَلَةِ" ، يَعْنِي: الرَّمَلَ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس حالت میں مانگا کہ اس کے پاس چالیس درہم موجود ہوں تو وہ چمٹ کر مانگنے والا ہے۔ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ریت کھاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2448]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2448، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2593، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2386، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13334، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2402»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1700. ‏(‏145‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الصَّدَقَةِ عَلَى مَنْ يَمُونُهُ مُتَطَوِّعًا
جس شخص کو صدقے کی چیز برضا و رغبت مہیا کی گئی ہو اس کے لئے وہ صدقہ استعمال کرنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِطَعَامٍ لَيْسَ مَعَهُ لَحْمٌ، فَقَالَ:" أَلَمْ أَرَ لَكُمْ بُرْمَةً؟"، قُلْتُ: بَلَى، ذَاكَ لَحْمٌ تَصَدَّقَ بِهِ عَلَيَّ بَرِيرَةُ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِنْهَا هَدِيَّةٌ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا جس کے ساتھ گوشت نہیں تھا۔ تو آپ نے پوچھا: کیا میں نے تمھاری ہنڈیا نہیں دیکھی تھی؟ (جس میں گوشت پک رہا تھا) میں نے عرض کیا کہ با لکل دیکھی تھی لیکن وہ گوشت تو سیدنا بریرہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔ اور ہمارے لئے بریرہ کی طرف سے ہدیہ ہے (اس لئے لاؤ۔ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2449]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2073، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1154، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، 1259، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1701. ‏(‏146‏)‏ بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ عَلَى الْمَمَالِيكِ إِذَا كَانُوا عِنْدَ مَلِيكِ السُّوءِ، إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ
اپنے غلاموں پر صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان جو برے مالکوں کے ماتحت ہوں، بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2450
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَدَقَةٍ أَفْضَلُ مِنْ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَى مَمْلُوكٍ عِنْدَ مَلِيكِ سَوْءٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظالم برے حاکم کے ماتحت غلاموں پر صدقہ کرنا سب صدقوں سے افضل ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2450]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2450، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7358»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں