صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1686. (131) بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ
صدقے کی فضیلت،
حدیث نمبر: Q2425
وَقَبْضِ الرَّبِّ- عَزَّ وَجَلَّ- إِيَّاهَا لِيُرَبِّيَهَا لِصَاحِبِهَا، وَالْبَيَانُ أَنَّهُ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ
اور اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ صدقہ قبول فرما کر صدقہ کرنے والے کے لئے اس کی پرورش کرتا ہے۔ اور اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ مال سے ہی صدقہ قبول فرماتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: Q2425]
حدیث نمبر: 2425
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ هُوَ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلا الطَّيِّبَ إِلا اللَّهُ يَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ، فَلُوَّهُ أَوْ قَالَ فَصِيلَهُ، حَتَّى تَبْلُغَ التَّمْرَةُ مِثْلَ أُحُدٍ" ، وَقَالَ عُتْبَةُ: فَلُوَّهُ قَلُوصَهُ وَلَمْ أَضْبِطْ عَنْ عُتْبَةَ مِثْلَ أُحُدٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان آدمی اپنی حلال و پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ صرف حلال مال سے کیا ہوا صدقہ ہی قبول کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیکراس کی اسی طرح پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچّے یا فرمایا کہ گائے کے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے۔ حتّیٰ کہ ایک کھجور (کا صدقہ) بھی احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔“ جناب عتبہ کہتے ہیں کہ فَلُوَّهٗ کا معنی، بچھیرا ہے اور میں نے جناب عقبہ کی روایت میں احد کے برابر کے الفاظ ضبط نہیں کیئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1410، 7430، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1014، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3651، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2425، 2426، 2427، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 270، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3302، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2524، والترمذي فى (جامعه) برقم: 661، 662، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1842، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7749»
حدیث نمبر: 2426
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّازِقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَيِّبٍ تَقَبَّلَهَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَخَذَهَا بِيَمِينِهِ، فَرَبَّاهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، أَوْ فَصِيلَهُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَةِ، فَتَرْبُوا فِي يَدِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ: فِي كَفِّ اللَّهِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ فَتَصَدَّقُوا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ اپنی حلال و پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے قبول کر لیتا ہے اور اُسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیکر اس طرح پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھیرے یا بچھڑے کی پرورش کرتا ہے۔ بیشک کوئی آدمی ایک لقمے کا صدقہ کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ یا فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ کی ہتھیلی میں پرورش پاتا ہے حتّیٰ کہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے، لہٰذا تم صدقہ کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1410، 7430، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1014، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3651، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2425، 2426، 2427، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 270، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3302، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2524، والترمذي فى (جامعه) برقم: 661، 662، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1842، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7749»
حدیث نمبر: 2427
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ جَعْفَرٌ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ الْقُطَعِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّازِقِ، زَادَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جناب عبدالرزاق کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ جناب جعفر کی روایت میں اضافہ ہے کہ اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بھی ہے «يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ» [ سورة البقرة: 276 ] ”اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2427]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1410، 7430، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1014، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3651، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2425، 2426، 2427، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 270، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3302، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2524، والترمذي فى (جامعه) برقم: 661، 662، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1842، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7749»
1687. (132) بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّقَاءِ النَّارِ- نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهَا- بِالصَّدَقَةِ، وَإِنْ قَلَّتْ
صدقے کے زریعے سے جہنّم کی آگ سے پچنے حُکم کا بیان اگرچہ صدقہ کم ہی ہو۔ ہم اللہ تعالی سے جہنّم کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 2428
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ خَيْثَمَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ"
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے جہنّم کی آگ کا تذکرہ کیا تو اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور (جہنّم سے) نفرت کرتے ہوئے دو یا تین مرتبہ اپنا چہرہ مبارک پھیرا، پھر فرمایا: ”جہنّم کی آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرکے ہی بچو، اگر تمہارے پاس یہ بھی نہ ہو تو پاکیزہ کلمہ بول کر ہی آگ سے بچو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2428]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1413، 1417، 3595، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1016، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2428، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 473، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8677، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2415 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 185، 1843، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7837، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2437، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18535»
حدیث نمبر: 2429
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَتِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرکے ہی بچو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اسماعیل سے مراد اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2429]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2429، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2707، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 962، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 12771»
حدیث نمبر: 2430
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " افْتَدُوا مِنَ النَّارِ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے نجات کے لئے صدقہ دو اگر چہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2430]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2430، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2048، 2049، والبزار فى (مسنده) برقم: 6619، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3644»
1688. (133) بَابُ إِظْلَالِ الصَّدَقَةِ صَاحِبَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْفَرَاغِ مِنَ الْحُكْمِ بَيْنَ الْعِبَادِ
قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک صدقہ، صدقہ کرنے والے پر سایہ فگن رہے گا
حدیث نمبر: 2431
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ، أَوْ قَالَ: حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ" ، قَالَ يَزِيدُ: فَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ لا يَتَصَدَّقُ مِنْهُ بِشَيْءٍ، وَلَوْ كَعْكَةً وَلَوْ بَصَلَةً
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا حتّیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔“ یا فرمایا: ”لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“ جناب یزید بیان کرتے ہیں کہ اس لئے جناب ابوالخیر ہر روز کچھ نہ کچھ صدقہ ضرور کرتے تھے اگرچہ ایک کیک یا پیاز ہی ہوتا تو وہی صدقہ کر دیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2431]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2431، 2432، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3310، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1522، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7845، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17606»
حدیث نمبر: 2432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَوَّلُ أَهْلِ مِصْرَ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَمَا رَأَيْتُهُ دَاخِلا الْمَسْجِدَ قَطُّ، إِلا وَفِي كُمِّهِ صَدَقَةٌ، إِمَّا فُلُوسٌ، وَإِمَّا خُبْزٌ، وَإِمَّا قَمْحٌ حَتَّى رُبَّمَا رَأَيْتُ الْبَصَلَ يَحْمِلُهُ، قَالَ: فَأَقُولُ يَا أَبَا الْخَيْرِ، إِنَّ هَذَا يُنْتِنُ ثِيَابَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا ابْنَ حَبِيبٍ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِي الْبَيْتِ شَيْئًا أَتَصَدَّقُ بِهِ غَيْرَهُ، إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ"
جناب یزید بن ابی حبیب مرثد بن عبداللہ مزنی رحمه الله سے بیان کرتے ہیں کہ وہ اہل مصر میں سے سب سے پہلے مسجد میں جاتے ہیں۔ اور میں نے جب بھی انہیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو ان کی آستین میں صدقہ کرنے کے لئے نقد رقم یا روٹی یا گندم ضرور ہوتی حتّیٰ کہ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ وہ صدقے کے لئے پیاز ہی لے آتے تو میں کہتا کہ اے ابوالخیر، پیاز تمہارے کپڑے بدبودار کردیتا ہے۔ تو وہ جواب دیتے کہ اے ابن حبیب، میرے گھر میں صدقہ دینے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز موجود ہی نہ تھی (اس لئے یہی لے آیا ہوں) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا کیا ہوا صدقہ ہو گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2432]
تخریج الحدیث: «اسناد حسن صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2431، 2432، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3310، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1522، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7845، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17606»
1689. (134) بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ الْأَعْمَالِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ، فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ أَبَا فَرْوَةَ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ
صدقے کی دیگر اعمال پر فضیلت کا بیان بشرطیکہ حدیث صحیح ہو۔ کیونکہ مجھے ابوفروہ کے بارے میں جرح و تعدیل کا علم نہیں
حدیث نمبر: 2433
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ ذُكِرَ لِي قَالَ: يَقُولُ:" إِنَّ الأَعْمَالَ تَتَبَاهَى، فَتَقُولُ الصَّدَقَةُ أَنَا أَفْضَلُكُمْ"
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اعمال باہم فخر کا اظہار کرتے ہیں تو صدقہ کہتا ہے کہ میں تم سب سے افضل ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2433]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف موقوف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2433، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1523، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 952»