🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1849. (108) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَدِّهِ لَحْمَ صَيْدٍ أُهْدِيَ لَهُ فِي إِحْرَامِهِ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ،
ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں آپ کو پیش کیا جانے والا شکار کا گوشت واپس کردیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2639
وَقَدْ يَحْسَبُ بَعْضُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ وَلَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْمُجْمَلِ وَالْمُفَسَّرِ مِنَ الْأَخْبَارِ، أَنَّ لَحْمَ الصَّيْدِ مُحَرَّمٌ عَلَى الْمُحْرِمِ بِكُلِّ حَالٍ، وَإِنِ اصْطَادَهُ الْحَلَالُ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2639
قَرَأْتُ عَلَى بُنْدَارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَاسْتَذْكَرَهُ، فَقَالَ: " أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ، وَقَالَ:" إِنَّا حُرُمٌ" .
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ صَيْدٍ، فَقَالَ:" لَوْلا أَنَّا حُرُمٌ، قَبِلْنَاهُ" ، حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ دَالٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارُ وَحْشٍ أَرَادَ خَبَرَهُ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رِوَايَةَ مَنْ قَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَى بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَجَعَلَ خَبَرَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي ذِكْرِ لَحْمِ الصَّيْدِ فِي قِصَّةِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، وَخَبَرَ عَائِشَةَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ظَبْيٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ كَخَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے ہمیں کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا گوشت پیش کیا گیا تھا؟ جب میں نے اُنہیں یاد دلایا تو اُنہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا گوشت پیش کیا گیا جب کہ آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے وہ گوشت واپس کردیا اور فرمایا: ”بیشک ہم حالت احرام میں ہیں۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب زہیر نے اپنی سند سے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا گوشت ہدیہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر ہم حالت احرام میں نہ ہوتے تو اسے قبول کرلیتے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ میں نے جن راویوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا۔ تو اُن کی مراد سیدنا صعب بن جثامه رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اور جن راویوں نے یہ روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا گیا۔ تو ممکن ہے کہ کسی کو شبہ ہوگیا ہو تو اُس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت میں شکار کے گوشت کا ذکر ہے۔ اس کو سیدنا صعب بن جثامه رضی اللہ عنہ کی روایت میں شامل کردیا ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہرن کا گوشت پیش کیا گیا جب کہ آپ حالت احرام میں تھے۔ تو آپ نے اُسے نہ کھایا، یہ روایت بھی سیدنا زید بن ارقم اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی طرح ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2639]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2639، 2640، 2644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3968، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2820، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1850، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10049، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19579»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ مَكَّةَ، لَمْ يَقُلِ ابْنُ مَعْمَرٍ مَكَّةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَامًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّا لا نَأْكُلُهُ، إِنَّا حُرُمٌ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مکّہ مکرّمہ تشریف لائے۔ (ا بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں کہ مکّہ مکرّمہ کا ذکر نہیں ہے) تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اُنہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے مجھے کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں گوشت پیش کیا گیا تھا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، ایک شخص نے آپ کو شکار کیے ہوئے جانور کا ایک عضو پیش کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ واپس کردیا اور فرمایا: ”بیشک ہم اسے نہیں کھا سکتے، بیشک ہم حالت احرام میں ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2639، 2640، 2644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3968، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2820، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1850، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10049، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19579»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1850. (109) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلْأَخْبَارِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا فِي الْبَابَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنِ
گزشتہ دو ابواب میں مذکور مجمل روایات کی مفسر روایت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2641
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيَّ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، أَخْبَرَهُمَا عَنِ الْمُطَّلِبِ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لا تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدُ لَكُمْ" . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَيْدُ الْبَرِّ، وَلَمْ يَقُلْ: لَحْمٌ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لئے حلال ہے جب کہ تم حالت احرام میں ہو، بشرطیکہ تم نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ خاص طور پر تمہارے لئے شکار کیا گیا ہو۔“ امام صاحب اپنے استاد نصر بن مرزوق کی سند سے یہی روایت لائے ہیں اس میں خشکی کے شکار کا ذکر ہے اورلحم (گوشت) کا لفظ مذکور نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2641]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 482، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2641، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3971، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1665، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2827، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1851، والترمذي فى (جامعه) برقم: 846، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10032، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2744، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15123»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2642
وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي، وَلَمْ أُحْرِمْ فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ، وَأَنِّي إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَأَكَلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ" ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ الزِّيَادَةُ: إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، وَقَوْلُهُ: وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَكَ، لا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ فِي خَبَرِ أَبِي قَتَادَةَ غَيْرَ مَعْمَرٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، فَإِنْ صَحَّتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ، قَبْلَ أَنْ يُعْلِمَهُ أَبُو قَتَادَةَ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ، فَلَمَّا أَعْلَمَهُ أَبُو قَتَادَةَ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ امْتَنَعَ مِنْ أَكْلِهِ بَعْدَ إِعْلامِهِ إِيَّاهُ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ، لأَنَّهُ قَدْ ثَبَتَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کے لئے) نکلے تو میرے ساتھیوں نے احرام باندھا اور میں نے احرام نہ باندھا۔ میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو اس پر حملہ کردیا اور اسے شکار کرلیا۔ پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے آپ کو یہ بھی بتایا کہ میں حالت احرام میں نہیں تھا اور میں نے یہ شکار آپ کے لئے کیا ہے۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم ہونے پر کہ یہ شکار سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے لئے کیا ہے، آپ نے خود اس میں سے نہ کھایا اور اپنے صحابہ سے کہا: ”تم کھا لو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ کہ بلاشبہ یہ شکار میں نے آپ ہی کے لئے کیا ہے اور یہ الفاظ، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے یہ شکار آپ ہی کے لئے کیا ہے تو آپ نے اس میں سے کچھ نہ کھایا۔ میرے علم کے مطابق اس سند سے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صرف معمر ہی نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے۔ اگر یہ الفاظ صحیح ثابت ہو جائیں تو پھر اس حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگلی گدھے کا گوشت کھایا تھا جب کہ ابھی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو ہی نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے خاص آپ کے لئے اسے شکار کیا ہے۔ پھر جب سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا کہ انہوں نے یہ گدھا آپ ہی کے لئے شکار کیا ہے تو پھر آپ نے گوشت کھانا ترک کردیا اور اس سے رُک گئے۔ کیوں کہ یہ بات آپ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا۔ (جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1821، 1822، 1823، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1196، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1278، وابن الجارود فى "المنتقى"، 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2635، 2636، 2642، 2643، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2815، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 847، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3093، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9955، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22962»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَكِبَ فَرَسَهُ، وَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ الرُّمْحَ أَوِ السَّوْطَ فَأَبَوْا أَنْ يُنَاوِلُوهُ، فَتَنَاوَلَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ، فَعَقَرَهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ فَلَحِقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَوْهُ بِرِجْلِهِ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، قَدْ خَرَّجْتُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ طُرُقَ خَبَرِ أَبِي قَتَادَةَ، وَذَلِكَ مَنْ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے جب کہ صحابہ کرام محرم تھے اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ غیر محرم تھے۔ انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو (اسے شکار کرنے کے لئے) اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ انہیں نیزه یا کوڑا پکڑا دیں لیکن اُنہوں نے اُنہیں وہ پکڑانے سے انکار کردیا کیونکہ وہ حالت احرام میں تھے لہٰذا انہوں نے خود ہی (نیچے اُتر کر وہ نیزہ پکڑا پھر اس گدھے کا پیچھا کیا اور (اسے پکڑ کر) ذبح کرلیا۔ پھر وہ گدھا لیکر حاضر ہوگئے۔ اور دوسرے صحابہ کرام بھی آپ کے پاس حاضر ہوئے اور سارا ماجرا سُنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ جی ہاں اور آپ کو اُس کی ران پیش کی گئی اور آپ نے اس میں سے کھایا۔ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں اور یہ ان کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1821، 1822، 1823، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1196، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1278، وابن الجارود فى "المنتقى"، 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2635، 2636، 2642، 2643، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2815، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 847، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3093، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9955، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22962»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1851. (110) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ أَكْلِ الْمُحْرِمِ بَيْضَ الصَّيْدِ، إِذَا أَخَذَ الْبَيْضَةَ مِنْ أَجْلِ الْمُحْرِمِ
جب محرم کے لئے شکاری جانور کے انڈے حاصل کیے گئے ہوں تو محرم کے لئے وہ انڈہ کھانا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ بَيْضَاتُ نَعَامٍ وَهُوَ حَرَامٌ فَرَدَّهُنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ:" لَحْمُ الصَّيْدِ حَلالٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ"، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ بَيْضَ الصَّيْدِ مُبَاحٌ لِلْمُحْرِمِ إِذَا لَمْ يُؤْخَذْ مِنْ أَجْلِ الْمُحْرِمِ، لأَنَّ حُكْمَ بَيْضِ الصَّيْدِ لا يَكُونُ أَكْثَرَ مِنْ حُكْمِ لَحْمِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، اے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شتر مرغ کے انڈے ہدیہ کیے گئے تھے جب کہ آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے وہ انڈے واپس کر دیے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، مجھے یہ بات معلوم ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جب تم حالت احرام میں ہو تو تمہارے لئے شکار کا گوشت کھانا حلال ہے جبکہ تم نے اسے خود شکار نہ کیا ہو یا وہ تمہارے لئے ہی شکار نہ کیا گیا ہو۔ اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ شکاری جانور کا انڈہ کھانا محرم کے لئے جائز ہے جب کہ وہ محرم کے لئے ہی حاصل نہ کیے گئے ہوں۔ کیونکہ شکاری جانور کے انڈے کا حُکم اس کے گوشت سے زیادہ سخت نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2639، 2640، 2644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3968، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2820، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1850، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10049، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19579»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1852. (111) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ قَتْلِ الضَّبُعِ فِي الْإِحْرَامِ،
حالت احرام میں بجو مارنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2645
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُوَلَّى بِبَيَانِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْوَحْيِ إِلَيْهِ، قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ الضَّبُعَ صَيْدٌ، وَاللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- فِي مُحْكَمِ تَنْزِيلِهِ قَدْ نَهَى الْمُحْرِمَ عَنْ قَتْلِ الصَّيْدِ فَقَالَ: لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ (الْمَائِدَةِ: 95)
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہونے والی وحی کے بیان کے ذمے دار ہیں، انہوں نے بتادیا ہے کہ بجو شکار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں محرم کو شکار کرنے سے منع کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: «‏‏‏‏لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ» ‏‏‏‏ ”جب تم حالت احرام میں ہوتو تم شکار مت مارو۔“ [ سورة المائدة: 95 ] [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: Q2645]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الضَّبُعِ، أَنَأْكَلُهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ؟" قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" ، قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"
جناب عبد الرحمن بن عبد الله بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو ملا تو میں نے اُن سے پوچھا، کیا ہم بجّو کھا سکتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے پوچھا تو کیا وہ شکار کا جانور ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ میں نے پھر عرض کیا تو کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 483، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2645، 2646، 2647، 2648، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3964، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1667، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2836، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3801، والترمذي فى (جامعه) برقم: 851، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3085، 3236، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9981، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2539، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14382»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں