صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1748. (7) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْحَجِّ عَلَى الدَّوَابِّ الْمُحْبَسَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالی کی راہ میں وقف شدہ جانوروں پر سفر حج کرنے کی رخصت کا بیان
امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کی دلیل سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جسے میں کتاب الصدقات میں بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2510]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم برقم: 2376»
1749. (8) بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ، إِذِ الْحَاجُّ مِنْ وَفْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حج کی فضیلت کا بیان کیونکہ حاجی اللہ تعالیٰ کے سفیروں میں سے ایک ہے
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَفْدُ اللَّهِ ثَلاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے سفیر تین ہیں، مجاہد، حاجی اور عمرہ کرنے والا۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2511]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2511، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3692، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1617، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2624، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2892، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10497»
1750. (9) بَابُ الْأَمْرِ بِالْمُتَابَعَةِ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ،
پے در پے حج اور عمرہ ادا کرنے کے حُکم کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2512
وَالْبَيَانُ أَنَّ الْفِعْلَ قَدْ يُضَافُ إِلَى الْفِعْلِ، لَا أَنَّ الْفِعْلَ يَفْعَلُ فِعْلًا كَمَا ادَّعَى بَعْضُ أَهْلِ الْجَهْلِ
اور اس بات کا بیان کہ ایک ہی نیک عمل متعدد بار کیا جاسکتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ عمل صرف ایک ہی بار کیا جاسکتا ہے جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: Q2512]
حدیث نمبر: 2512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا تَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذَّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ، وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پے در پے حج اور عمرہ ادا کیا کرو کیونکہ حج وعمرہ فقر و فاقہ کو مٹاتے اور گناہوں کو ایسے ہی صاف کر دیتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی میل کچیل کو صاف کر دیتی ہے اور حج مبرور کی جزا تو صرف جنّت ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2512، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3693، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2630، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3597، والترمذي فى (جامعه) برقم: 810، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3743»
حدیث نمبر: 2513
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ سُمَيٌّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُمَيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلا الْجَنَّةَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفّارہ بنتا ہے اور حج مبرور کی جزا صرف جنّت ہی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1773، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1349، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1257، وابن الجارود فى "المنتقى"، 551، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2513، 3072، 3073، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3695، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2888، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8815، والترمذي فى (جامعه) برقم: 933، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7471، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1032»
1751. (10) بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ الَّذِي لَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ فِيهِ، وَتَكْفِيرِ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا بِهِ
ایسے حج کی فضیلت کا بیان جس میں آدمی نہ اپنی بیوی سے بوس و کنار کرے اور نہ فسق و فجور میں مبتلا ہو ایسے حج سے آدمی کے گناہ اور خطائیں مٹادی جاتی ہیں
حدیث نمبر: 2514
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عِيَاضٍ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كِلاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَأَنَّمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایسا حج کیا جس میں اُس نے اپنی بیوی سے بوس و کنار کیا نہ فسق میں مبتلا ہوا تو وہ ایسے (صاف ہوکر) لوٹتا ہے گویا کہ اس کی والدہ نے اُسے (ابھی) جنم دیا ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2514]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1521، 1819، 1820، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1350، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2514، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3694، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2626، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3593، والترمذي فى (جامعه) برقم: 811، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1837، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2889، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9260، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2714، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7257»
1752. (11) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا
اس بات کا بیان کہ حج اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے
حدیث نمبر: 2515
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي شِمَاسَةَ ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، فَبَكَى طَوِيلا، وَقَالَ: فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الإِسْلامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَمِينَكَ لأُبَايِعَكَ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَقَبَضْتُ يَدِي، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا عَمْرٌو؟" قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ:" تَشْتَرِطُ مَاذَا؟" قَالَ: أَنْ يُغْفَرَ لِي، قَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرٌو أَنَّ الإِسْلامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهَدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا، وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ"
جناب ابن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس (اُن کی تیمار داری کے لئے) آئے جبکہ وہ حالت نزع میں تھے وہ بڑی دیر تک روتے رہے، پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈالدی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، اپنا دایاں دست مبارک بڑھایئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمروتمہیں کیا ہوا؟ (ہاتھ پیچھے کیوں کیا ہے)“ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسی شرط لگانا چاہتے ہو؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ اسلام لانے سے میرے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیںگے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو، کیا تمہیں علم نہیں کہ اسلام گزشتہ گناہوں کو ختم کردیتا ہے، اور ہجرت بھی سابقہ گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج بھی پچھلے گناہوں کی بخشش کا باعث بن جاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 121، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2515، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5330، 5966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7167، 18260، 18358، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18055»
1753. (12) بَابُ اسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الْحَاجِّ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرُوا لَهُ
حاجی سے دعا کرانا مستحب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجاج کرام اور جن کے لئے حجاج دعا کریں، سب کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی ہے
حدیث نمبر: 2516
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْحُجَّاجِ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَاجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ» ”اے اللہ حجاج کرام کی بخشش فرما اور ان لوگوں کو بھی معاف فرماجن کی بخشش کی دعا حاجی کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2516، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1618، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10490، والبزار فى (مسنده) برقم: 9726، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8594، والطبراني فى (الصغير) برقم: 1089»
1754. (13) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْخُرُوجِ إِلَى الْحَجِّ يَوْمَ الْخَمِيسَ تَبَرُّكًا بِفِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے تبرک حاصل کرتے ہوئے سفر حج جمعرات کو شروع کرنا مستحب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات سفر جمعرات کے دن ہی شروع کرتے تھے
حدیث نمبر: 2517
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي سَفَرِ الْجِهَادِ وَغَيْرِهِ، إِلا يَوْمَ الْخَمِيسِ"
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر جہاد وغیرہ کے لئے روانہ ہوتے تو جمعرات ہی کے دن روانہ ہوتے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2949، 2950، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2517، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8734، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2605، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2480، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2380، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10416، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16020»
1755. (14) بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّدِ لِلسَّفَرِ اقْتِدَاءً بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُخَالَفَةً لِبَعْضِ مُتَصَوِّفَةِ أَهْلِ زَمَانِنَا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے زاد سفر لینا مستحب ہے اور ہمارے دور کے بعض صوفیوں کی مخالفت کرنی چاہیے جو زاد سفر ساتھ نہیں لیتے
حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الصَّحَابَةَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجَهَّزْتُهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ فَصَنَعْتُ لَهُمَا سَفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بِكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا، فَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ، فَبِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کی اجازت ملنے پر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ کو اجازت دیدی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعہ یہ ہے کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میرا باپ آپ پر قربان میں بھی آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (تم بھی چلو)“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں تو میں نے جلدی سے دونوں کے لئے سامان سفر تیار کیا اور ان کے لئے زاد سفر کرکے ایک چرمی تھیلے میں ڈال دیا پھر سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے کمر بند کو پھاڑ کر ایک ٹکڑا اُتارا اور اس سے تھیلے کا مُنہ باندھ دیا اسی وجہ سے ان کا لقب ذات النطاق (کمربند والی خاتون) پڑ گیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4093، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2518، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6279، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4548»