🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1928. ‏(‏187‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ ذِكْرِ اللَّهِ فِي الطَّوَافِ
طواف کے دوران اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2738
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ، وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ لَيْسَ لِغَيْرِهِ" ، انْتَهَى حَدِيثُ بُنْدَارٍ، وَزَادَ الآخَرُونَ فِي الْحَدِيثِ: وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”بیشک جمرات کو رمی کرنا اور بیت اللہ شریف کا طواف کرنا، یہ سب اللہ تعالی کے ذکر کرنے کے لئے مقرر کیے گئے ہیں، اس کے سوا کوئی مقصد نہیں۔“ جناب بندار کی روایت انہی الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے۔ دیگر راویوں کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کا مقصد بھی اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2738]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 503، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2738، 2882، 2970، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1691، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1888، والترمذي فى (جامعه) برقم: 902، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1895، 1896، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9748، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24989»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1929. ‏(‏188‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي التَّكَلُّمِ بِالْخَيْرِ فِي الطَّوَافِ، وَالزَّجْرِ عَنِ الْكَلَامِ السَّيِّئِ فِيهِ
طواف کے دوران خیر و بھلائی کی گفتگو کرنے کی رخصت اور بُری بات چیت کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2739
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّايِبِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلاةِ، إِلا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فَلا يَتَكَلَّمْ إِلا بِخَيْرٍ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِدَ الرَّجُلِ يَسِيرُ قَدْ زَنَقَهُ بِهِ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ وَهُوَ طَائِفٌ بِالْبَيْتِ مِنْ بَابِ الْكَلامِ الْحَسَنِ فِي الطَّوَافِ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابٍ آخَرَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بیشک بیت اللہ شریف کا طواف نماز کی مانند ہے مگر اس میں تمہیں بات چیت کی اجازت ہے۔ لہذا جو شخص بات چیت کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی والی بات چیت کرے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کرنے کے دوران اس شخص کو حُکم دینا جو ایک آدی کی ناک میں چمڑے کی رسی ڈالے اُسے طواف کرا رہا تھا، کہ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر طواف کرائے، یہ حدیث بھی اچھی اور عمده كلام کرنے کے باب کے متعلق ہے۔ میں نے اس حدیث کو ایک اور باب میں بیان کیا ہے۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2751) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2739]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 507، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2739، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1692، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2922، والترمذي فى (جامعه) برقم: 960، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9384، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15662»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1930. ‏(‏189‏)‏ بَابُ الطَّوَافِ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ
حطیم کے باہر سے طواف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2740
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ، لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مِنْ وَرَائِهِ، وَقَالَ اللَّهُ: وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ سورة الحج آية 29" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ الْحَجَرُ مِنَ الْبَيْتِ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الاسْمَ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ بِالأَلِفِ وَاللامِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ الشَّيْءِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْحِجْرِ، وَقَالَ:" الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ"، أَرَادَ بَعْضَ الْحِجْرِ لا كُلَّهُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، لَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ: الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ جَمِيعَ الْحِجْرِ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَهُ عَلَى مَا خَبَّرَتْ عَائِشَةُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ بَعْضَ الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ، لا جَمِيعَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کا طواف حطیم کے باہر سے کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «‏‏‏‏وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ‏‏‏‏ [ سورة الحج: 29 ] ”اور چاہیے کہ وہ قدیم گھر (بیت اللہ) کا طواف کریں۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے“ یہ اسی قسم کے ہیں۔ جس کے بارے میں ہم اپنی کتب میں کئی مقامات پر واضح کرتے ہیں کہ الف لام کے ساتھ اسم معرفہ کا اطلاق (کل چیز کی بجائے) بعض دفع کسی چیز کے کچھ حصّے پر بول دیا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حطیم میں نماز پڑھنے کا حُکم دیا تھا اور فرمایا تھا: ”حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے“ آپ کی مراد یہ تھی کہ کچھ حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے مکمّل حطیم (بیت الله کا) حصّہ نہیں ہے اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس فرمان ”حطیم بیت اللہ میں سے ہے“ سے ان کی مراد یہ نہیں کہ مکمّل حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے، بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ کا حصّہ ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ہے کہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ میں سے ہے، پورا حطیم بیت اللہ کا حصّہ نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2740، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1694، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9413، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9149، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10988»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1931. ‏(‏190‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى صِحَّةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی جو تاویل میں نے کی ہے،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2741
مَا تَأَوَّلْتُ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْبَيَانُ أَنَّ بَعْضَ الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ لَا جَمِيعِهِ
اس کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان اور اس بات کا بیان کہ حطیم کا پورا حصّہ بیت اللہ کا حصّہ نہیں بلکہ کچھ حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2741]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2741
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . حَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرَوَانَ فِي خِلافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَإِنِّي لَوْلا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي، فَلأُرِيكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ" ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا"؟ قُلْتُ: لا، قَالَ:" تَعَزُّزًا أَلا يَدْخُلَهَا إِلا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَرِهُوا أَنْ يَدْخُلَهَا دَعُوهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ"، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ، وَمَا تَحَمَّلَ، جَمِيعًا لَفْظًا وَاحِدًا غَيْرَ أَنَّ مُحَمَّدًا، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ جَنَابٍ، وَقَالَ: قَالَ الْحَارِثِ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: فَكَانَ الْحَارِثُ مُصَدَّقًا لا يُكَذَّبُ، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" لَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ"، وَقَالَ:" يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي"
جناب عبد اللہ بن عبید بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان کے دور حکومت میں حارث بن عبد اللہ ان کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے گئے تو عبدالملک نے کہا کہ میرے خیال میں سیدنا ابو خبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سُنی نہیں ہے جس کے سُننے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ جناب حارث کہتے ہیں کہ کیوں نہیں، وہ حدیث تو میں نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے۔ عبد الملک نے کہا کہ تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جناب حارث کہتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کردیا تھا اور اگر وہ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں اس حصّے کو بیت اللہ کی بنیادوں میں دوبارہ شامل کردیتا جو اُنہوں نے چھوڑ دیا تھا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم بیت الله کو (پُرانی بنیادوں پر) بنانا چاہے، تو آؤ میں تمہیں وہ حصّہ دکھا دوں جو اُنہوں نے چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تقریبا ساٹھ ہاتھ کے برابر کی جگہ دکھائی (جو بیت اللہ میں شامل نہیں کی گئی تھی اور وہ حطیم یا مجر کہلاتی ہے) یہ روایت جناب عبد اللہ بن عبید کی ہے۔ جناب ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں بیت اللہ کے زمین سے ملے ہوئے دو دروازے بناتا، ایک مشرقی جانب اور دوسرا مغربی جانب۔ کیا تمہیں معلوم ہے تیری قوم نے بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں رکھا تھا؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکبر و غرور کے اظہار کے لئے، تاکہ بیت اللہ شریف میں صرف و شخص داخل ہوسکے جس کو یہ اجازت دیں۔ اور جب ان کا ناپسندیدہ شخص اس میں داخل ہونے کے لئے اوپر چڑھتا تو وہ اسے چڑھنے دیتے، حتّیٰ کہ جب وہ بیت اللہ میں داخل ہونے کے قریب ہوتا تو اسے دھکا دیکر گرا دیتے۔“ عبد الملک نے حارث سے کہا کہ کیا تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، سنا ہے۔ اس پر عبد الملک کچھ دیر سر جھکائے زمین کریدتا رہا پھر کہنے لگا کہ کاش میں بیت اللہ کو (سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی تعمیر کی ہوئی بنیادوں پر) باقی رہنے دیتا اور (بیت اللہ کو توڑ کر نئے سرے سے بنانے کی ذمہ داری انہی پر رہنے دیتا، جو اُنہوں نے اپنے ذمہ لی تھی۔ سب راویوں کی روایات کے الفاظ متحد ہیں، صرف محمد کی روایت میں یہ الفاظ مختلف آئے ہیں۔ ولید بن عطاء بن جناب بیان کرتے ہیں کہ حارث نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سُنی ہے۔ جناب حارث اس حدیث کی تصدیق کرنے والے تھے۔ جھٹلانے اور انکار کرنے والے نہیں تھے۔ عبد الملک نے پوچھا کہ تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جناب حارث نے جواب دیا کہ میں نے انہیں سنا وہ فرما رہی تھیں کہ رسول اللہ نے فرمایا، اور فرمایا کہ ”تو میں اس کے دو دروازے بناتا۔“ اور فرمایا: ”وہ اس شخص کو اوپر چڑھنے دیتے“۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2741، 3023، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9150»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1932. ‏(‏191‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْعِلَّةِ الَّتِي لَهَا طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ
اس علت اور سبب کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے باہر سے طواف کیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2742
إِذِ الطَّائِفُ بِبِنَاءِ الْبَيْتِ إِذَا خَلَّفَ الْحِجْرَ وَرَاءَهُ غَيْرُ طَائِفٍ لِجَمِيعِ الْكَعْبَةِ إِذْ بَعْضُ الْحِجْرِ مِنَ الْكَعْبَةِ عَلَى مَا خَبَّرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- أَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ لَا بِبَعْضِهِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2742
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ، فَبَنَيْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اسْتَقْصَرَتْ فِي بِنَائِهِ، وَجَعَلَتْ لَهُ خَلْفًا" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي بَابًا آخَرَ فِي خَلْفٍ، ثَنَاهُ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: لِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نکل کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر اسے حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر بنا دیتا۔ کیونکہ قریش نے (اسے تیار کرتے وقت) اس کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا اور میں کعبہ شریف کی پچھلی جانب ایک دروازہ بناتا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”خَلْفًا“ کا معنی ہے، ایک اور دروازہ پچھلی جانب بنا دیتا۔ سلم بن جنادہ نے اس کو ابومعاویہ کے حوالے سے ہشام سے بیان کیا ہے۔ لیکن اس میں ”لِي“ (مجھے) کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2742]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1336، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، 2742، 3018، 3019، 3020، 3021، 3022، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2900، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1933. ‏(‏192‏)‏ بَابُ ذِكْرِ طَوَافِ الْقَارِنِ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ عِنْدَ مَقْدِمِهِ مَكَّةَ
حج قران کرنے والے کے مکّہ مکرّمہ پہنچ کر طواف کرنے اور اس بات کا بیان کہ حج قران کرنے والے پر صرف ایک ابتدائی طواف واجب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2743
وَالْبَيَانُ أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ طَوَافٌ وَاحِدٌ فِي الِابْتِدَاءِ، ضِدُّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلَى الْقَارِنِ فِي الِابْتِدَاءِ طَوَافَيْنِ وَسَعْيَيْنِ
اس شخص کو قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ حج قران کرنے والے پر ابتداء میں دو طواف اور دو مرتبہ سعی کرنا واجب ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2743]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2743
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ، فَقَالَ: اجْعَلْهَا عُمْرَةً، فَإِنْ أَنَا صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلا وَاحِدًا، وَأُشْهِدُكُمْ إِنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجَّةً، فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا اشْتَرَى هَدْيًا وَسَاقَهُ مَعَهُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَعْنِي طَافَ ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ"
امام نافع رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا، پھر کہنے لگے کہ میں اسے عمرہ بنا لیتا ہوں، اگر مجھے راستے میں روک دیا گیا تو میں اس طرح کروںگا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔ پھر جب بیداء مقام پر پہنچے تو فرمایا کہ میرے خیال میں حج اور عمرے کا ایک ہی حُکم ہے۔ لہذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنےعمرے کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے (حج قران کی نیت کرلی ہے) پھر جب قدید مقام پر پہنچے تو قربانی کا اونٹ خریدا اور اسے اپنے ساتھ لیکر چل دیئے حتّیٰ کہ مکّہ مکرّمہ پہنچ گئے۔ پس بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کیں۔ اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2743]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1603، 1604، 1616، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1227، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2710، 2743، 2762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2731، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1805، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8946، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4708»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2744
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ قَرَنُوا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جن صحابہ کرام نے حج قرن کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 504، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2744، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3898، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1896، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24705، والبزار فى (مسنده) برقم:»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں