🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1900. ‏(‏159‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا
گزشتہ مجمل حدیث کی مفسر روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2705
ثنا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَزْعَةُ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ بْنُ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ يَقْضِي صَلاتَهُ وَطَوَافَهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَيَسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى يَفْعَلُ هَذَا إِلا الْيَهُودَ"
جناب مہاجر بن عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنی نماز پڑھنے اور طواف مکمّل کرنے کے بعد مسجد حرام سے باہر نکلتا ہے، اور وہ بیت اللہ شریف کی طرف مُنہ کرتا ہے (اور ہاتھ اُٹھاتا ہے) تو انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ کام صرف یہودی کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2705]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2704، 2705، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2895، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3864، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1870، والترمذي فى (جامعه) برقم: 855، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9303، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15990»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1901. ‏(‏160‏)‏ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ
مسجد میں داخل ہونے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2706
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ، وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہونے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے «‏‏‏‏اللّهُـمَّ افْتَـحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتـِك» ‏‏‏‏ ”اے اللہ، میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب مسجد سے نکلنے لگے تو نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے «‏ اللَّهُمَّ أَجِرْنِيْ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ‏‏‏‏ ”اے الله، مجھے شیطان مردود سے محفوظ فرما۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2706]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 452، 2706، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2047، 2050، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 752، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9838، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 773، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4390، والبزار فى (مسنده) برقم: 8523، 8543»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1902. ‏(‏161‏)‏ بَابُ الِاضْطِبَاعِ بِالرِّدَاءِ عِنْدَ طَوَافِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوْ أَحَدِهِمَا
حج و عمرہ یا ان میں سے کسی ایک کے طواف قدوم میں چادر کو دائیں بازو کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2707
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ: " فَاضْطَبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَرَمَلُوا ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَوْا أَرْبَعَةً"
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک طویل حدیث مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے اضطباع کیا (چادر کو دائیں بازو کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالا) اور انہوں نے طواف کے پہلے تین چکّروں میں رمل کیا اور بقیہ چار میں عام رفتار سے چلے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2707]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، 2719، 2720، 2777، 2779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2945، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1903. ‏(‏162‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ السُّنَّةَ قَدْ كَانَ يَسُنُّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِلَّةٍ حَادِثَةٍ فَتَزُولُ الْعِلَّةُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی عمل کسی خالص علت کے پیش آںے پر سرانجام دیتے ہیں،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2708
وَتَبْقَى السُّنَّةُ قَائِمَةً إِلَى الْأَبَدِ إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا رَمَلَ فِي الِابْتِدَاءِ وَاضْطَبَعَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ وَقُوَّةَ أَصْحَابِهِ فَبَقِيَ الِاضْطِبَاعُ وَالرَّمَلُ سُنَّتَيْنِ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ
پھر وہ علت ختم ہوجاتی ہے لیکن سنّت نبوی تاقیامت باقی رہتی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں مشرکوں کو اپنی اور اپنے صحابہ کی قوت و طاقت دکھانے کے لئے رمل اور اضطباع کیا تھا، (پھر مکّہ مکرّمہ میں مشرک ختم ہوگئے) لیکن رمل اور اضطباع کی دونوں سنّتیں تاقیامت باقی رہیںگی [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2708]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2708
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: " فِيمَ الرَّمَلانُ الآنَ، وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الإِسْلامَ، وَنَفي الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَمَعَ ذَلِكَ لا نَتْرُكُ شَيْئًا كُنَّا نَصْنَعُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
حضرت زید بن اسلم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اب رمل کرنا اور کندھوں کو ننگا کرنا کس لئے ہے جبکہ اللہ تعالی نے اسلام کوقوت و طاقت دیدی ہے اور وہ چار سُو پھیل چکا ہے اور کفر اور کافر مٹ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑیں گے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2708]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2708، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1675، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1887، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2952، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9350، وأحمد فى (مسنده) برقم: 323»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1904. ‏(‏163‏)‏ بَابُ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ عِنْدَ ابْتِدَاءِ الطَّوَافِ
طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کا استلام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" فَخَرَجْنَا لا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ، فَاسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا"
جناب جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے اُن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کے بارے میں پوچھا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ” ہم صرف حج ہی کے ارادے سے (مد ینہ منوّرہ سے) نکلے، حتّیٰ کہ ہم کعبہ شریف کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کا استلام کیا، پھر (طواف کے) تین چکّروں میں رمل کیا اور چار چکّر عام رفتار سے پورے کیے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2709]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2710
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ يُونُسُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَقَالَ عِيسَى: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ أَوَّلُ مَا يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ يَخِبُّ ثَلاثَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ"
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ مکّہ مکرّمہ پہنچے تو آپ نے طواف کی ابتداء میں حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر سات میں سے تین چکّروں میں دلکی چال چلے (اور چار چکّر عام رفتار سے چلے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2710]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1603، 1604، 1616، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1227، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2710، 2743، 2762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2731، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1805، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8946، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4708»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1905. ‏(‏164‏)‏ بَابُ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِذَا تَمَّ تَقْبِيلُهُ مِنْ غَيْرِ إِيذَاءِ الْمُسْلِمِ
مسلمانوں کو تکلیف دیئے بغیر حجر اسود کو بوسہ دینا ممکن ہوتو اسے بوسہ دینا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2711
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بنُ يَزِيدَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ" ، قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجراسود کو بوسہ دیا تو فرمایا کہ آگاه رہ، الله کی قسم کہ مجھے خوب علم ہے کہ تُو ایک پتھر ہی ہے (جو کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں) اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ جناب عمرو کہتے ہیں کہ مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد گرامی اسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1597، 1605 م، 1610، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1270، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1350، وابن الجارود فى "المنتقى"، 497، ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2711، 2714، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3821، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1678، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2936، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1873، والترمذي فى (جامعه) برقم: 860، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9311، وأحمد فى (مسنده) برقم: 100»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1906. ‏(‏165‏)‏ بَابُ الْبُكَاءِ عِنْدَ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، وَفِي الْقَلْبِ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ هَذَا،
حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے رونے کا بیان۔ میرا دل محمد بن عون کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2712
وَوَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْحَجَرِ، وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِهِمَا، وَلَكِنْ خَبَرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ثَابِتٌ
دونوں ہاتھ حجر اسود پر رکھنے اور ان کو چہرے پر پھیرنے کا بیان۔ محمد بن علی کی حدیث ثابت ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2712]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شِيبَ ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ يَبْكِي، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ، هَا هُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک حجراسود کی طرف کیا اور حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر آپ نے اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے پھر مڑ کر دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر، اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2712، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1676، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2945، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 760، والبزار فى (مسنده) برقم: 5928»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں