🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة وأنه إِذا لم يحسن الفاتحة ولا أمكنه تعلمها، قرأ ما تيسر له من غيرها
باب: ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور اگر سورۂ فاتحہ نہ پڑھنا جانتا ہو اور سیکھنا بھی ممکن نہ ہو تو جو بھی میسر ہو پڑھ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 223
223 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: فِي كُلِّ صَلاَةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَزدْ عَلى أُمِّ الْقُرْآن أَجْزَأَتْ، وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہر نماز میں (قرآن مجید کی) تلاوت کی جائے گی، (جن نمازوں) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سنایا تھا ہم بھی تمہیں ان میں سنائیں گے اور جن (نمازوں) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ قراءت کی ہم بھی ان میں آہستہ ہی قراءت کریں گے، اور اگر سورہ فاتحہ ہی پڑھو جب بھی کافی ہے لیکن اگر زیادہ پڑھ لو تو بہتر ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 104 باب القراءة في الفجر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
224 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلاَمَ؛ فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ثَلاَثًا فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ، فَعَلِّمْنِي قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا، نماز کے بعد اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ: ”واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ چنانچہ اس نے دوبارہ نماز پڑھی اور واپس آ کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ: ”دوبارہ جا کر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ تین بار اسی طرح ہوا، آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، اس لیے آپ مجھے سکھلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو (پہلے) تکبیر کہہ، پھر قرآن مجید میں سے جو کچھ تجھ سے ہو سکے پڑھ، اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا، پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہو جا، پھر جب تو سجدہ کرے تو پوری طرح سجدہ میں چلا جا، پھر (سجدہ سے) سر اٹھا کر اچھی طرح بیٹھ جا، دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر، یہی طریقہ نماز کی تمام (رکعات میں) اختیار کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 122 باب أمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم الذي لا يتم ركوعه بالإعادة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
124. باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة
باب: بسم اللہ بلند آواز سے نہ پڑھنے کی دلیل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
225 صحيح حديث أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلاَةَ ب الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نماز ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے شروع کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 89 باب ما يقول بعد التكبير»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
125. باب التشهد في الصلاة
باب: نماز میں تشہد پڑھنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
226 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى اللهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ؛ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ هَوَ السَّلاَمُ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ للهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ؛ فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ في السَّمَاءِ والأَرْضِ؛ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الْكَلاَم مَا شَاءَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم (ابتدائے اسلام میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، سلام ہو جبریل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر (ایک مرتبہ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اللہ ہی سلام ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو“ پڑھا کرے، کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے، مگر یہ درود شریف پڑھنے کے بعد ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 3 باب السلام اسم من أسماء الله تعالى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
126. باب الصلاة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد التشهد
باب: تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے احکام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
227 صحيح حديث كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْن عُجْرَةَ؛ فَقَالَ: أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: بَلَى فَأَهْدِهَا لِي فَقَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیوں نہ میں تمہیں (حدیث کا) ایک تحفہ پہنچا دوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، مجھے یہ تحفہ ضرور عنایت فرمائیے! انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ اللہ تعالیٰ نے سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں خود ہی سکھا دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے اپنی رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر بے شک تو بڑی خوبیوں والا اور بزرگی والا ہے اے اللہ برکت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر بے شک تو بڑی خوبیوں والا اور بڑی عظمت والا ہے۔“” [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 10 باب حدثنا موسى بن إسماعيل»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد تھی اگرچہ بعض نے ابواسحاق بھی بیان کی ہے۔ حدیبیہ والے عمرہ میں شریک ہوئے۔ آپ کے بارے میں ہی فدیہ والا قصہ منظر عام پر آیا اور سہولت مہیا ہوئی۔ جیسا کہ صحیحین میں موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس سے گزرے اور آپ محرم تھے۔ اور جوئیں سر سے آپ کے چہرے پر گر رہی تھیں فرمایا سر منڈوا لو اور ایک فرق چھ مسکینوں میں تقسیم کر دو یعنی فدیہ دے دو۔ آپ کوفہ میں رہے ہیں اور ۵۳ ہجری کو ۷۵ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 228
228 صحيح حديث أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رضي الله عنه، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یوں کہا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جیسا کہ تو نے رحمت نازل فرمائی آل ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد پر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر اور تو انتہائی خوبیوں والا عظمت والا ہے۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 10 باب حدثنا موسى بن إسماعيل»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبدالرحمن بن سعد تھا۔ آپ بہت بڑے فقیہہ تھے۔ ۲۶ احادیث کے راوی ہیں۔ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
127. باب التسميع والتحميد والتأمين
باب: سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد اور آمین کہنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
229 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہو گا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 125 باب فضل اللهم ربنا ولك الحمد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
230 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، وَقَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ، فَوَافَقَتْ إِحْداهُمَا الأُخْرَى؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے «آمِيْن» ”آمین“ کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر «آمِيْن» ”آمین“ کہی، اس طرح ایک کی «آمِيْن» ”آمین“ دوسرے کی «آمِيْن» ”آمین“ کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 112 باب فضل التأمين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 231
231 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم بھی «آمِيْن» ”آمین“ کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ «آمِيْن» ”آمین“ کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 113 باب جهر المأموم بالتأمين»
وضاحت: لفظ آمین کے معنی یہ ہیں کہ ”اے اللہ! میں نے جو دعائیں تجھ سے کی ہیں ان کو قبول فرمائیے۔“ یہ لفظ یہود ونصاریٰ میں بھی مستعمل رہا اور اسلام میں بھی اسے استعمال کیا گیا۔ جہری نمازوں میں اس کا زور سے کہنا کوئی امر قبیح نہ تھا مگر افسوس کہ بعض علماء سوء نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سر پھٹول ہوئی اور عرصہ کے لیے دلوں میں کاوش پیدا ہوگئی۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
128. باب ائتمام المأموم بالإمام
باب: مقتدی کو امام کی پیروی ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 232
232 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى بِنا قَاعِدًا، فَقَعَدْنَا؛ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ؛ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَع فارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے زمین پر گر گئے، اس گرنے سے آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا، تو ہم آپ کی خدمت میں عیادت کی غرض سے حاضر ہوئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم بھی بیٹھ گئے، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 128 باب يهوى بالتكبير حين يسجد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں