🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
128. باب ائتمام المأموم بالإمام
باب: مقتدی کو امام کی پیروی ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 233
233 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا؛ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں میرے ہی گھر میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 51 باب إنما جعل الإمام ليؤتم به»
وضاحت: جب امام عذر کی بنا پر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیا کرے؟ جمہور علماء سلف اور امام ابوحنیفہ اور امام شافعی وغیرہم کے نزدیک جب امام بیٹھ کر نماز پڑھا رہا ہو تو مقتدی جو قیام کی قدرت رکھتا ہے کھڑے ہو کر اقتداء کرے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ بیٹھ کر نماز پڑھائی اور پیچھے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ور دیگر صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ یہی بات امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد حمیدی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے جو صحیح بخاری میں نقل ہے اور وہ اس حدیث کو منسوخ قرار دیتے ہیں جس میں یہ ہے کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 234
234 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی کرو اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 234]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 82 باب إيجاب التكبير وافتتاح الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
129. باب استخلاف الإمام إِذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس
باب: امام کو اگر بیماری یا سفر وغیرہ کا عذر ہو تو وہ نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 235
235 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا: لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ؛ قَالَ: ضُعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ قَالَتْ: فَفَعَلْنَا، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ؛ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا: لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ قَالَتْ: فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا: لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ؛ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ رَجُلاً رَقِيقًا: يَا عُمَر صَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ لَهُ عُمرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّام ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، لِصَلاَةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؛ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْر ذَهَبَ لِيَتأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ؛ قَالَ: أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَأْتَمُّ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌقَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَاتِ؛ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيئًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ: لاَ؛ قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت آپ ہم سے بیان کرتیں (تو اچھا ہوتا)۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ضرور سن لو، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے لیکن آپ بے ہوش ہو گئے، جب ہوش ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے عرض کی: نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا: ”لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل فرمایا، پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن (دوبارہ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو گئے، جب ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں، بھیجے ہوئے آدمی نے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے) آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے حکم فرمایا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ آخر (بیماری کے) دنوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا تو دو مردوں کا سہارا لے کر، جن میں ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے، ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مردوں سے فرمایا: ”مجھے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے بازو میں بٹھا دو۔“ چنانچہ دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ پھر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گیا اور ان سے عرض کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے، کیا میں وہ آپ کو سناؤں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ، میں نے یہ حدیث ان کو سنا دی، انہوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 51 باب إنما جعل الإمام ليؤتم به»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 236
236 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ الأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ؛ فَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ (راوي الحديث) فَذَكَرْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ؛ فَقَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھی اور تکلیف شدید ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں ایامِ مرض گزارنے کی اجازت چاہی اور آپ کی بیویوں نے اجازت دے دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تشریف لائے کہ دونوں قدم زمین سے رگڑ کھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب کے درمیان تھے، عبیداللہ (حدیث کے راوی) نے بیان کیا کہ پھر میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن کا نام نہیں لیا جانتے ہو وہ کون تھے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 14 باب هبة الرجل لامرأته والمرأة لزوجها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 237
237 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اس معاملہ (یعنی ایامِ مرض میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے سلسلے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار پوچھا، میں بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ جو شخص (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہوگا لوگ اس سے کبھی محبت نہیں رکھ سکتے بلکہ میرا خیال تھا کہ لوگ اس سے بدفالی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم نہ دیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 238
238 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأُذِّنَ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رجلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ، فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ؛ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ الأَرْضَ مِنَ الْوَجَعِ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، [ص:87] وأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَتِهِ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں جب نماز کا وقت آیا اور اذان دی گئی تو فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ابوبکر بڑے نرم دل ہیں، اگر وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نماز پڑھانا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی حکم فرمایا اور آپ کے سامنے پھر وہی بات دہرا دی گئی۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو بالکل یوسف کی ساتھ والی عورتوں کی طرح ہو (کہ دل میں کچھ ہے اور ظاہر کچھ اور کر رہی ہو)، ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“۔ آخر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ کمی محسوس کی اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر باہر تشریف لے گئے، گویا میں اس وقت آپ کے قدموں کو دیکھ رہی ہوں کہ تکلیف کی وجہ سے زمین پر لکیر کرتے جاتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ پر رہنے کے لیے کہا، پھر ان کے قریب آئے اور بازو میں بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی اقتداء کی اور لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 238]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 39 باب حدّ المريض أن يشهد الجماعة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 239
239 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؛ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ: إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاس؛ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ؛ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارٍ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تھے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کی خبر دینے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں اور جب بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے لوگوں کو (شدتِ گریہ کی وجہ سے) آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے تو بہتر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔“ پھر میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوئے تو لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے اگر عمر رضی اللہ عنہ سے کہیں تو بہتر ہوگا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ صواحبِ یوسف سے کم نہیں ہو، ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ ہلکا پن محسوس فرمایا اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر نشان بنا رہے تھے، اس طرح چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے روکا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں طرف بیٹھ گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 68 باب الرجل يأتم بالإمام ويأتم الناس بالمأموم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 240
240 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ، وَصَحْبَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ
سیدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور صحابی تھے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے تھے۔ پیر کے دن جب لوگ نماز میں صف باندھے کھڑے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے کا پردہ ہٹائے کھڑے ہوئے ہماری طرف دیکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (حسن و جمال اور صفائی میں) گویا مصحف کا ورق تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر ہنسنے لگے۔ ہمیں اتنی خوشی ہوئی کہ خطرہ ہو گیا کہ کہیں ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے ہی میں مشغول نہ ہو جائیں اور نماز توڑ دیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف کے ساتھ آنا چاہتے تھے، انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ ”نماز پوری کر لو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اسی دن ہو گئی۔ ( «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 46 باب أهل العلم والفضل أحق بالإمامة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 241
241 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَخْرُجِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ؛ فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا، فَأَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ، فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایام بیماری میں) تین دن باہر تشریف نہیں لائے، انہی دنوں میں ایک دن نماز قائم کی گئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے کو تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجرہ مبارک کا) پردہ اٹھایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دکھائی دیا تو آپ کے روئے پاک و مبارک سے زیادہ حسین منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا (قربان اس حسن و جمال کے)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کے لیے اشارہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور اس کے بعد وفات تک کوئی آپ کو دیکھنے پر قادر نہ ہو سکا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 46 باب أهل العلم والفضل أحق بالإمامة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 242
242 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاس، قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَعَادَتْ، فَقَالَ: مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور جب بیماری نے شدت اختیار کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ وہ نرم دل ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کے لیے نماز پڑھانا مشکل ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں،“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی بات کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں، تم لوگ «صَوَاحِبُ يُوسُفَ» ”صواحب یوسف“ کی طرح (باتیں بناتی) ہو۔“ آخر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بلانے آیا اور آپ نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نماز پڑھائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 46 باب أهل العلم والفضل أحق بالإمامة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں