Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب النَّهْيِ عَنْ الاِنْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلاَلٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا:
باب: مرتبان اور تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ: انْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ".
عقبہ بن حریث نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑے، کدو کے (بنے ہوئے) برتن اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع کیا اور فرمایا: مشکیزوں میں نبیذ بناؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5197]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے، تونبے، لاکھی، برتن کے نبیذ سے منع کیا اور فرمایا: چمڑے کے مشکیزوں میں (منہ بند کر کے) نبیذ بناؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمَةِ، فَقُلْتُ: مَا الْحَنْتَمَةُ؟ قَالَ: الْجَرَّةُ ".
جبلہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا۔ (جبلہ نے) کہا: میں نے پوچھا: حنتمہ کیا ہے؟ (ابن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: گھڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5198]
جبلہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتمه سے منع فرمایا، میں نے پوچھا، حنتمه کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: گھڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5199
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي زَاذَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي بِمَا نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ بِلُغَتِكَ وَفَسِّرْهُ لِي بِلُغَتِنَا، فَإِنَّ لَكُمْ لُغَةً سِوَى لُغَتِنَا، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ وَهِيَ الْجَرَّةُ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَهِيَ الْقَرْعَةُ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ الْمُقَيَّرُ، وَعَنِ النَّقِيرِ وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْسَحُ نَسْحًا وَتُنْقَرُ نَقْرًا، وَأَمَرَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ ".
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زاذان نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ پینے کی چیزوں کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان کے متعلق مجھے (پہلے) اپنی زبان میں حدیث سنائیں پھر ہماری زبان میں اس کی وضاحت کریں کیونکہ آپ کی زبان ہماری زبان سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم سے اور وہ گھڑا ہے اور دباء سے اور وہ کدو ہے اور مزفت سے اور وہ روغن قار ملا ہوا برتن ہے اور نقیر سے اور وہ کھجور کا تنا ہے، اسے چھیلا جاتا ہے اور اس کو کریدا جاتا ہے، منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5199]
زاذان کہتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا، اپنی لغت میں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن مشروبات سے منع فرمایا ہے اور ان کی وضاحت ہماری زبان میں کیجئے، کہ آپ کی زبان، ہماری زبان سے الگ ہے تو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم یعنی گھڑے، دباء، یعنی قرعة، تونبے، مزفت یعنی مقير تارکول ملا برتن، نقير، کھجور کا تنا، جسے چھیل کر اندر سے اچھی طرح کھودا جاتا ہے، سے منع فرمایا اور مشکیزوں میں نبیذ بنانے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5200
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
ابوداؤد نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5200]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5201
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ، وَأَشَارَ إِلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ، " فَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ "، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ وَالْمُزَفَّتِ وَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَهُ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ كَانَ يَكْرَهُ.
عبدالخالق بن سلمہ نے کہا: میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو اس منبر کے پاس کہتے ہوئے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی طرف اشارہ کیا: قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پینے کی چیزوں کے حوالے سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کدو سے بنے ہوئے برتن، اندر سے کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز گھڑے سے منع فرمایا۔ (عبدالخالق بن سلمہ نے کہا) میں نے عرض کی: ابومحمد! اور روغن زفت ملا ہوا برتن؟ ہم نے سمجھا تھا کہ وہ اس کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں۔ تو انہوں (سعید بن مسیب) نے کہا: میں نے اس دن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ (مزفت کا ذکر) نہیں سنا تھا۔ وہ اس کو (بھی) ناپسند کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5201]
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس منبر کے پاس۔۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی طرف اشارہ کیا۔۔ سنا، عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے انہوں نے مشروبات کے بارے میں سوال کیا، آپ نے انہیں، تونبے، چٹھو، گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا، میں نے ان سے کہا، اے ابو محمد (سعید کی کنیت ہے) اور لاکھی برتن؟ ہم نے سمجھا وہ اسے بھول گئے ہیں، انہوں نے کہا، میں نے اس دن یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نہیں سنا اور وہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1998 ترقیم شاملہ: -- 5202
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ ".
ابوخیثمہ (زہیر) نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے برتن، روغن زفت ملے ہوئے برتن اور کدو کے برتن سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5202]
حضرت جابر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹھو، لاکھی برتن اور تونبے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1998
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1998 ترقیم شاملہ: -- 5203
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ گھڑوں، کدو اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5203]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھڑے، تونبے اور لاکھی برتن سے منع فرماتے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1998
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1998 ترقیم شاملہ: -- 5204
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ "، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْتَبَذُ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ.
ابوزبیر نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں، روغن زفت ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا۔ (اور) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نبیذ بنانے کے لیے کوئی اور برتن نہ ملتا تو پتھروں سے بنے ہوئے بڑے برتن میں آپ کے لیے نبیذ بنائی جاتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5204]
ابو زبیر کہتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے، لاکھی برتن اور چٹھو سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1998
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1999 ترقیم شاملہ: -- 5205
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ".
ابوعوانہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھروں سے بنے ہوئے ایک بڑے برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5205]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، پتھر کے ایک بڑے پیالے میں نبیذ تیار کیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1999
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1999 ترقیم شاملہ: -- 5206
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " كَانَ يُنْتَبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ "، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَنَا أَسْمَعُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ بِرَامٍ، قَالَ: مِنْ بِرَامٍ.
ہمیں ابوخیثمہ (زہیر) نے ابوزبیر سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ اور جب مشکیزہ نہ ملتا تو پتھروں سے بنے ہوئے ایک بڑے برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے ابوزبیر سے کہا:۔۔۔اور میں سن رہا تھا۔۔۔مضبوط پتھر سے بنا ہوا؟ کہا: (ہاں) مضبوط پتھر سے بنا ہوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5206]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ میں نبیذ بنایا جاتا تھا، اگر انہیں مشکیزہ نہ ملتا تو پتھر کے بڑے پیالے میں آپ کے لیے نبیذ بنایا جاتا، بعض لوگوں نے، ابوزبیر سے پوچھا جبکہ میں سن رہا تھا برام سے؟ انہوں نے کہا، برام سے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1999
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں