🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2004 ترقیم شاملہ: -- 5227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ: ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ، قَالَ شُعْبَةُ: مِنْ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ صَبَّهُ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے یحییٰ بہرانی سے حدیث بیان کی، کہا: لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے نبیذ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیر کی رات کو مشکیزے میں (پانی کے ساتھ کھجور ڈال کر) نبیذ بنائی جاتی تھی تو آپ اسے پیر کو اور منگل کو عصر تک پیتے، اگر اس میں سے کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے یا گرا دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5227]
یحییٰ بہرانی بیان کرتے ہیں، لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نبیذ کا ذکر چھیڑا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ میں نبیذ بنایا جاتا تھا، شعبہ کہتے ہیں، سوموار کی رات، تو آپ اسے سوموار کی صبح سے منگل کی عصر تک پیتے، اگر اس سے کچھ بچ جاتا، خادم کو پلا دیتے، یا انڈیل دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5227]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2004
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2004 ترقیم شاملہ: -- 5228
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ، فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَى أَوْ يُهَرَاقُ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوعمر سے، انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کو پانی میں ڈال دیا جاتا، آپ اس نبیذ کو اس دن اور اس سے اگلے دن اور اس کے بعد والے تیسرے دن کی شام تک نوش فرماتے، پھر آپ حکم دیتے تو وہ دوسروں کو پلا دی جاتی تھی یا گرا دی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5228]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منقہ پانی میں ڈالا جاتا، تو آپ اسے اس دن پیتے، اگلے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پلانے یا بہانے کا حکم دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2004
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2004 ترقیم شاملہ: -- 5229
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ الزَّبِيبُ فِي السِّقَاءِ، فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ، فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ شَرِبَهُ وَسَقَاهُ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ أَهَرَاقَهُ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے یحییٰ ابوعمر سے، انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشک میں کشمش ڈال دی جاتی تھی، آپ اس کو اس دن پیتے اور اس کے اگلے دن اور اس کے بعد والے دن تک پیتے اور جب تیسرے دن کی شام ہوتی تو آپ اس کو خود پیتے، کسی اور کو پلاتے، پھر اگر بچ جاتا تو اس کو بہا دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5229]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں منقہ کا نبیذ بھگویا جاتا، تو آپ دن بھر پیتے، اگلا دن پیتے، تیسرے دن پیتے اور جب شام ہو جاتی تو خود پیتے، پلاتے، اگر کچھ بچ جاتا، تو اسے بہا دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5229]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2004
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2004 ترقیم شاملہ: -- 5230
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَي أَبِي عُمَرَ النَّخَعِيِّ ، قَالَ: سَأَلَ قَوْمٌ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وَشِرَائِهَا وَالتِّجَارَةِ فِيهَا، فَقَالَ: أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَيْعُهَا وَلَا شِرَاؤُهَا وَلَا التِّجَارَةُ فِيهَا، قَالَ: فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ، فَقَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ثُمَّ رَجَعَ، وَقَدْ نَبَذَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي حَنَاتِمَ وَنَقِيرٍ وَدُبَّاءٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ فَجُعِلَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الْمُسْتَقْبَلَةَ وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى أَمْسَى، فَشَرِبَ وَسَقَى فَلَمَّا أَصْبَحَ أَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْهُ فَأُهْرِيقَ ".
زید نے ابوعمر یحییٰ نخعی سے روایت کی، کہا: کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب بیچنے، خریدنے اور اس کی تجارت کے متعلق سوال کیا۔ تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگ مسلمان ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شراب کا بیچنا، خریدنا اور اس کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے۔ پھر انہوں نے نبیذ کے متعلق سوال کیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر تشریف لے گئے پھر آپ کی واپسی ہوئی۔ آپ کے ساتھیوں نے سبز گھڑوں، کریدی ہوئی لکڑی اور کدو کے برتنوں میں نبیذ بنائی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گرا دینے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشکیزہ لانے کا حکم دیا، اس میں کشمش اور پانی ڈال دیے گئے، یہ (نبیذ) رات کو بنائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو اس دن اس کو پیا، اگلی رات کو پیا، پھر اگلے دن شام تک پیا، پیا اور پلایا، جب اگلی صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بچ گیا تھا اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے گرا دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5230]
ابوعمر نخعی بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے شراب کی خرید و فروخت اور اس کی تجارت کے بارے میں سوال کیا؟ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم مسلمان ہو؟“ انہوں نے کہا: ”واقعہ یہ ہے کہ اس کو بیچنا، اس کو خریدنا اور اس کی تجارت کچھ بھی جائز نہیں ہے“، تو انہوں نے ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر نکلے، پھر واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی سبز گھڑوں، تونبے اور چٹھو میں نبیذ بنا چکے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہانے کا حکم دیا۔ پھر مشکیزہ لانے کا حکم دیا، اس میں منقہ اور پانی ڈالا گیا، رات بھر اسی طرح رہا، صبح ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وہ دن پیا اور اگلی رات پیا، اگلا دن شام تک پیا اور پلایا، جب صبح ہو گئی تو جو اس میں بچ گیا تھا، اس کو بہانے کا حکم دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5230]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2004
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2005 ترقیم شاملہ: -- 5231
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ ، قَالَ: لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَن النَّبِيذِ، فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً، فَقَالَتْ: سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ الْحَبَشِيَّةُ : " كُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ وَأُوكِيهِ وَأُعَلِّقُهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ ".
ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گیا تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک حبشی کنیز کو آواز دی اور فرمایا: اس سے پوچھو، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس حبشی لڑکی نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو ایک مشک میں (پھل) ڈال دیتی تھی اور اس مشک کا منہ باندھ کر اس کو لٹکا دیتی تھی، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے نوش فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5231]
ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملا اور ان سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے ایک حبشی لونڈی کو بلوایا اور فرمایا: اس سے پوچھو، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بناتی تھی، اس حبشی لڑکی نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو مشکیزہ میں نبیذ بناتی، اس کا منہ باندھ دیتی اور اسے لٹکا دیتی، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پی لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5231]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2005
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2005 ترقیم شاملہ: -- 5232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً، فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ".
حسن کی والدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بناتے، اس کا اوپر کا حصہ باندھ دیا جاتا تھا، اس میں نچلی طرف کا سوراخ بھی تھا۔ ہم صبح کو (کھجور یا کشمش) ڈالتے تو آپ اسے رات کو نوش فرماتے اور رات کے وقت ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نوش فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5232]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشکیزہ میں نبیذ بناتے تھے، جس کے اوپر والے حصے کا منہ باندھ دیا جاتا تھا، اس کے نیچے سوراخ تھا، ہم اس میں صبح نبیذ بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام تک پیتے اور رات کو بناتے تو صبح تک پیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2005
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2006 ترقیم شاملہ: -- 5233
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ، قَالَ سَهْلٌ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ ".
عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنی شادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، اس دن ان کی بیوی خدمت بجا لا رہی تھیں، حالانکہ وہ دلہن تھیں۔ سہل نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا؟ اس نے رات کو پتھر کے ایک بڑے برتن میں پانی کے اندر کچھ کھجوریں ڈال دی تھیں، جب آپ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (مشروب) پلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5233]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنی شادی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی بھی ساتھ تھے) اس دن ان کی خدمت، ابو اسید رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ہی کی جو دلہن تھی، حضرت سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم جانتے ہو، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ اس نے رات کو ایک پتھر کے بڑے پیالے میں کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نبیذ پلا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5233]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2006
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2006 ترقیم شاملہ: -- 5234
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ: أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ.
یعقوب بن عبدالرحمن نے ابوحازم سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ انہوں نے یہ نہیں کہا: جب آپ نے کھانا تناول فرما لیا اس نے وہ (مشروب) پلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5234]
حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو دعوت دی، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ جب آپ نے کھانا کھا لیا، تو آپ کو «نَبِيذ» ”نبیذ“ پلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2006
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2006 ترقیم شاملہ: -- 5235
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِكَ.
محمد ابوغسان نے کہا: مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث روایت کی اور کہا: (اس نے) پتھر کے ایک بڑے پیالے میں (نبیذ بنائی)، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اس (ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی دلہن) نے اس (پھل کو جو پانی کے ساتھ برتن میں ڈالا ہوا تھا) پانی میں گھلایا اور آپ کو پلایا، آپ کو خصوصی طور پر (پلایا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5235]
امام صاحب ایک اور استاد سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «تَوْرٍ» کے بعد «مِنْ حِجَارَةٍ» ”پتھر کا“ کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2006
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2007 ترقیم شاملہ: -- 5236
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا، فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي "، فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا؟، فَقَالَتْ: لَا، فَقَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ، قَالَتْ: أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ سَهْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " اسْقِنَا لِسَهْلٍ "، قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ، فَشَرِبْنَا فِيهِ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحاَقَ، قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ.
محمد بن سہل تیمی اور ابوبکر بن اسحاق نے کہا: ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوغسان محمد بن مطرف نے بتایا کہ مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا۔ (اس کے والد نعمان بن ابی الجون کندی نے پیش کش کی) آپ نے ابواسید رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ اس (عورت کو لانے کے لیے اس) کی طرف سواری وغیرہ بھیجیں۔ تو انہوں (حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ) نے بھیج دی، وہ عورت آئی بنو ساعدہ کے قلعہ نما مکانات میں ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے روانہ ہو کر اس کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکائے ہوئے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس سے بات کی تو وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں خود سے پناہ دے دی۔“ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم جانتی ہو یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تمہیں نکاح کا پیغام دینے تمہارے پاس آئے تھے۔ اس نے کہا: میں اس سے کم تر نصیب والی تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ خود اور آپ کے ساتھ بنو ساعدہ کے چھت والے چبوترے پر تشریف فرما ہوئے، پھر سہل نے کہا: پانی پلاؤ، کہا: میں نے ان کے لیے وہی پیالہ (نما برتن) نکالا اور اس میں آپ کو پلایا۔ ابوحازم نے کہا: سہل رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکالا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا، پھر عمر بن عبدالعزیز نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے وہ پیالہ بطور ہبہ مانگ لیا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے وہ پیالہ ان کو ہبہ کر دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہل! ہمیں (کچھ) پلاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5236]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا (کہ آپ اس سے شادی کر لیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو پیغام بھیجیں، چنانچہ انہوں نے اسے پیغام بھیجا، وہ آ گئی اور بنوساعدہ کی گڑھی میں ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اس کے پاس پہنچ گئے، تو وہ ایک ایسی عورت تھی جو سر جھکائے ہوئے بیٹھی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کا آغاز فرمایا تو وہ کہنے لگی: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اپنے سے پناہ دی۔“ لوگوں نے اس سے پوچھا: تجھے معلوم ہے یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، لوگوں نے بتایا: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تجھے منگنی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، اس نے کہا: میں یہ مقام حاصل کرنے میں انتہائی بدبخت رہی۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بنوساعدہ کے سقیفہ (چھت) میں بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہل رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”ہمیں پانی پلاؤ۔“ حضرت سہل رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا، ابوحازم بیان کرتے ہیں: حضرت سہل رضی اللہ عنہما وہ پیالہ ہمارے پاس لائے اور ہم نے اس میں پانی پیا، پھر اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: یہ پیالہ مجھے ہبہ کر دو، تو انہوں نے اسے انہیں ہبہ کر دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں پلائیے، اے سہل!“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2007
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں