🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
325. باب تحريم الزكاة على رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وعلى آله وهم بنو هاشم وبنو المطلب دون غيرهم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بنی ہاشم و بنی عبدالمطلب پر زکوٰۃ حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647
647 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ مَسْقُوطَةٍ، فَقَالَ: لَوْلاَ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لأَكلْتُها
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور پر گزرے تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس کے صدقہ ہونے کا شبہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 4 باب ما يتنزه من الشبهات»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
326. باب إباحة الهدية للنبي صلی اللہ علیہ وسلم ولبني هاشم وبني المطلب، وإِن كان المهدي ملكها بطريق الصدقة وبيان أن الصدقة إِذا قبضها المتصدق عليه زال عنها وصف الصدقة وحلت لكل أحد ممن كانت الصدقة محرمة عليه
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر ہدیہ حلال ہے خواہ ہدیہ دینے والے نے بطریق صدقہ حاصل کیا ہو اسی طرح جب صدقے کا مستحق اسے اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تو وہ سب کے لیے حلال ہو جاتا ہے اور اسی مال سے صدقے کا وصف زائل ہو جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 648
648 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ گوشت پیش کیا گیا جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کے طور پر ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت اس پر صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 62 باب إذا تحولت الصدقة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
649 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَة، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ فَقَالَتْ: لاَ إِلاَّ شَيْءٌ بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْنَا نُسَيْبَةُ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتَ بِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نہیں، کوئی چیز نہیں، ہاں نسیبہ کا بھیجا ہوا اس بکری کا گوشت ہے جو انہیں صدقہ کے طور پر ملی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لاؤ، خیرات تو اپنے ٹھکانے پہنچ گئی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 62 باب إذا تحولت الصدقة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
327. باب قبول النبي صلی اللہ علیہ وسلم الهدية ورده الصدقة
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا اور زکوٰۃ واپس کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
650 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ: أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ، قَالَ لأَصْحَابِهِ: كُلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ وَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ، ضَرَبَ بِيَدِهِ/ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلَ مَعَهُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے: ”یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟“ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرماتے: ”کھاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اسے کھاتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 7 باب قبول الهدية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
328. باب الدعاء لمن أتى بصدقة
باب: صدقہ لے کر آنے والے کے لیے دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
651 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلاَنٍ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب کوئی قوم اپنی زکاۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ» ”اے اللہ! آلِ فلاں کو خیر و برکت عطا فرما۔“ میرے والد بھی اپنی زکاۃ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ”اے اللہ! آلِ ابی اوفی کو خیر و برکت عطا فرما۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 64 باب صلاة الإمام ودعائه لصاحب الصدقة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو معاویہ تھی۔ بعض نے ابو محمد اور بعض نے ابو ابراہیم بیان کی ہے۔ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ ان کے والد علقمہ بن قیس اسلمی بھی صحابی تھے۔ حدیبیہ، خیبر اور بعد کے غزوات میں شریک رہے۔ حنین میں ہاتھ زخمی ہوا تھا۔ جس کا نشان آخر تک رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک مدینہ میں مقیم رہے۔ بعد میں کوفہ چلے گئے۔ وہیں ۸۶ ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں