اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
317. باب فضل التعفف والصبر
باب: صبر کرنے اور سوال نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 627
627 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ، سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُم، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے انہیں عطا فرمایا، پھر انہوں نے سوال کیا اور آپ نے پھر عطا فرمایا یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے پاس کوئی مال و دولت ہو تو میں اسے تم سے بچا کر نہیں رکھوں گا، مگر جو شخص سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ ہی رکھتا ہے، اور جو شخص بے نیازی برتتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے بے نیاز بنا دیتا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر زور ڈال کر بھی صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر و استقلال دے دیتا ہے، اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں خیر نہیں ملی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 50 باب الاستعفاف عن المسئلة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
318. باب في الكفاف والقناعة
باب: تھوڑے رزق پر قناعت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 628
628 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللهُمَّ ارْزُقْ آلَ مُحَمَّدٍ قُوتًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» ”اے اللہ! آلِ محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ زندہ رہ سکیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 17 باب كيف كان عيش النبي صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابه وتخليهم من الدنيا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
319. باب إِعطاء من سأل بفحش وغلظة
باب: سخت لہجہ سے مانگنے والے کو بھی دینے کا بیان
حدیث نمبر: 629
629 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَثَّرَتْ بهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي عِنْدَكَ؛ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا، آپ نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ کو گھیر لیا اور زور سے کھینچا، میں نے آپ کے شانے کو دیکھا اس پر زور سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا، پھر وہ کہنے لگا: اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 19 باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من الخمس ونحوه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 630
630 صحيح حديث الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيِّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: خَبَأْنَا هذَا لَكَ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی، انہوں نے (مجھ سے) کہا: بیٹے! چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں، میں ان کے ساتھ چلا، پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر ہوں، چنانچہ میں اندر گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت انہی قباؤں میں سے ایک قبا پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی، لو اب یہ تمہاری ہے۔“ مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (میرے والد) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قبا کی طرف دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مخرمہ خوش ہوا یا نہیں؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 19 باب كيف يقبض العبد والمتاع»
وضاحت: ٭ سیّدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبدالرحمن تھی۔ صغار صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ہجرت کے دو سال بعد پیدا ہوئے۔ آٹھ ہجری کو فتح مکہ کے بعد ذوالحجہ کے مہینہ میں مدینہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت چھ سال کے تھے۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت تک مدینہ رہے۔ بعد میں مکہ چلے گئے۔ ۶۴ہجری کو وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
320. باب إِعطاء من يخاف على إِيمانه
باب: کمزور ایمان والے کو دینے کا بیان
حدیث نمبر: 631
631 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلاً لَمْ يُعْطِهِ، وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ: أَوْ مُسْلِمًا قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلاً؛ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ: أَوْ مُسْلِمًا قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلاً، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ: أَوْ مُسْلِمًا فَقَالَ: إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال دیا، اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور اسے کچھ نہیں دیا حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا، آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کی: فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ! میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَوْ مُسْلِمًا» (مومن) یا مسلمان؟“ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا، لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں؟ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَوْ مُسْلِمًا» (مومن) یا مسلمان؟“ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کو دیتا ہوں (اور دوسرے کو نظر انداز کر جاتا ہوں) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال نہ دیا جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 53 باب قول الله تعالى (لا يسألون الناس إلحافًا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
321. باب إِعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام وتصبر من قوى إِيمانه
باب: تالیف قلب کے لیے دینے اور قوی الایمان والوں کے صبر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 632
632 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ الْمَائَةَ مِنَ الإبِلِ؛ فَقَالوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ قَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوو آرَائِنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَلَمْ يَقُولوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قرَيْشًا وَيَتْرُكُ الأَنْصَارَ، وَسُيُوفُنا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأُعْطِي رِجَالاً حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ، خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ رَضِينَا فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَوْضِ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ قریش کے بعض آدمیوں کو (تالیفِ قلب کی غرض سے) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے، آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ نے نہیں بلایا، جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے؟“ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں جو عقل والے ہیں وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں، ہاں چند نو عمر لڑکے ہیں، انہوں نے ہی یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے، آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہی ہے (اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں)، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے تو تم لوگ اپنے گھروں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر واپس جا رہے ہو گے؟ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے“، سب انصاریوں نے کہا: بے شک یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا، اس وقت تم صبر کرنا (دنگا فساد نہ کرنا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوضِ کوثر پر“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 19 باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من الخمس ونحوه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 633
633 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ، فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالوا: لاَ، إِلاَّ ابْنُ أُخْتٍ لَنَا؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور سے ایک مرتبہ بلایا، پھر ان سے پوچھا: ”کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی رہتا ہے جس کا تعلق تمہارے قبیلے سے نہ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا کہ صرف ہمارا ایک بھانجا ایسا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 14 باب ابن أخت القوم ومولى القوم منهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 634
634 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وأَعْطَى قُرَيْشًا: وَاللهِ إِنَّ هذَا لَهُوَ الْعَجَبُ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ، وَغَنَائِمُنَا تَرَدُّ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا الأَنْصَارَ قَالَ، فَقَالَ: مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ وَكَانُوا لاَ يَكْذِبُونَ فَقَالُوا: هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ قَالَ: أَوَ لاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ إِلَى بيُوتِهِمْ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهمْ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو غزوہ حنین کی غنیمت کا سارا مال دے دیا تو بعض نوجوان انصاریوں نے کہا: (اللہ کی قسم!) یہ تو عجیب بات ہے، ابھی ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا حاصل کیا ہوا مال غنیمت صرف انہیں دیا جا رہا ہے، اس کی خبر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے انصار کو بلایا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خبر مجھے ملی ہے کیا وہ صحیح ہے؟“ انصار لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے انہوں نے عرض کر دیا کہ آپ کو صحیح اطلاع ملی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس سے خوش اور راضی نہیں ہو کہ جب سب لوگ غنیمت کا مال لے کر اپنے گھروں کو واپس ہوں گے تو تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیے اپنے گھروں کو جاؤ گے؟ انصار جس نالے یا گھاٹی میں چلیں گے تو میں بھی اسی نالے یا گھاٹی میں چلوں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 634]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 1 باب مناقب الأنصار»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 635
635 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ الْتَقَى هَوَازِنُ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلاَفٍ وَالطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا قَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ لَبَّيْكَ، نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَعْطَى الطُّلَقَاءَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالُوا؛ فَدَعَاهُمْ فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لاَخْتَرْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین میں جب قبیلہ ہوازن سے جنگ شروع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار فوج تھی، قریش کے وہ لوگ بھی ساتھ تھے جنہیں فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا، پھر سب نے پیٹھ پھیر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: ”اے انصاریو!“ انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ! آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہم حاضر ہیں، ہم آپ کے سامنے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر گئے اور فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پھر مشرکین کو شکست ہو گئی، جن لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا لیکن انصار کو کچھ نہیں دیا، اس پر انصار نے اپنے غم کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ایک خیمہ میں جمع کیا، پھر فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ بکری اور اونٹ اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 636
636 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قَلُوبُهُمْ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا؛ فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا، إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلاَّلاً فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ الله بِي كلَّمَا قَالَ شَيْئًا، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ؛ قَالَ: مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ قَالَ: لَوْ شِئتُمْ قُلْتُمْ: جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرءًا مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں (جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا، اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا ہمیں کیوں نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: ”اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا؟ پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نا اتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت پیدا کی اور تم محتاج تھے، اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ غنی کیا“، آپ کے ایک ایک جملے پر انصار کہتے جاتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کون سی چیز مانع رہی؟“ بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ارشاد پر انصار عرض کرتے جاتے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے ہو تو مجھ سے اس اس طرح بھی کہہ سکتے تھے (کہ آپ آئے تو لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ اونٹ اور بکریاں لے جا رہے ہوں گے تو تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لئے جا رہے ہو گے؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی بن جاتا، لوگ خواہ کسی گھاٹی یا وادی میں چلیں میں تو انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا، انصار اس کپڑے کی طرح ہیں یعنی استر جو ہمیشہ جسم سے لگا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر کے کپڑے کی طرح ہیں یعنی تم لوگ (انصار) دیکھو گے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، تم ایسے وقت میں صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض پر آ ملو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»