اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
321. باب إِعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام وتصبر من قوى إِيمانه
باب: تالیف قلب کے لیے دینے اور قوی الایمان والوں کے صبر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 637
637 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذلِكَ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ؛ قَالَ رَجُلٌ: وَاللهِ إِنَّ هذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللهِ فَقُلْتُ: وَاللهِ لأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللهُ وَرَسُولُهُ رَحِمَ اللهُ مُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هذَا فَصَبَرَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حنین کی لڑائی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غنیمت کی) تقسیم میں بعض لوگوں کو زیادہ دیا جیسے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما کو سو اونٹ دیے، اتنے ہی اونٹ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو دیے اور کئی عرب کے اشراف لوگوں کو اسی طرح تقسیم میں زیادہ دیا، اس پر ایک شخص نے کہا کہ خدا کی قسم! اس تقسیم میں نہ تو عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا خیال ہوا، میں نے کہا: واللہ! اس کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دوں گا، چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی خبر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: ”اگر اللہ اور اس کا رسول بھی عدل نہ کریں تو پھر کون عدل کرے گا؟ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ ان کو لوگوں کے ہاتھوں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی لیکن انہوں نے صبر کیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 637]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 19 باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من الخمس ونحوه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
322. باب ذكر الخوارج وصفاتهم
باب: خوارج اور ان کے اوصاف کا بیان
حدیث نمبر: 638
638 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ، إِذْ قَال لَهُ رَجُلٌ: اعْدِلْ فَقَالَ لَهُ: شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص (ذوالخویصرہ) نے آپ سے کہا: انصاف سے کام لیجیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بھی انصاف سے کام نہ لوں تو تو بدبخت ہوا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 638]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 15 باب ومن الدليل على أن الخمس لنوائب المسلمين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 639
639 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رضي الله عنه إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ الأَرْبَعَةِ، الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ؛ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ قَالُوا: يُعْطِي صَنَادِيد أَهْل نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ: إِنَّمَا أَتأَلَّفُهُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِىءُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللهَ إِذَا عَصَيْتُ أَيَأْمنُنِي اللهُ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونَنِي فَسأَلَهُ رَجُلٌ قَتْلَهُ، أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: إَنَّ مِنْ ضِئْضِئِي هذَا أَوْ فِي عَقِبَ هذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ، وَيَدعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (یمن سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا: اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی (بنو نبہان والے) اور علقمہ بن علاثہ عامری (بنو کلاب والے)۔ اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں“ (کیوں کہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں)۔ پھر ایک شخص سامنے آیا اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، کلے پھلے ہوئے تھے، پیشانی بھی اٹھی ہوئی تھی، داڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانتدار بنا کر بھیجا ہے، کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟“ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے کہ یہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نسل سے یا (آپ نے فرمایا کہ) اس شخص کے بعد اس کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذابِ الہی سے) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 639]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 6 كتاب الأنبياء: 6 باب قول الله تعالى (وإلى عاد أخاهم هودا»
وضاحت: جس بد بخت گروہ کا یہاں ذکر ہوا ہے یہ خارجی تھے جنہوں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا۔ ان پر کفر کا فتوٰی لگایا۔ خود اتباع قرآن کا دعوٰی کیا۔آخر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ میں یہ لوگ مارے گئے۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 640
640 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ؛ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، قَالَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ، وَأَقْرعَ بْنِ حَابِسٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهذَا مِنْ هؤُلاَءِ قَالَ: فَبَلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلاَ تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، مُشَمَّرُ الإِزَارِ؛ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اتَّقِ اللهَ قَالَ: وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقُّ أَهْلِ الأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللهَ قَالَ: ثُمَّ وَلَّى الرَجُلُ قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ: لا، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي فَقَالَ خَالِدٌ: وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ قُلُوبَ النَّاسِ، وَلاَ أَشُقَّ بُطُونَهُمْ قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ، وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ: إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِي هذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ رَطْبًا، لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ وَأَظُنُّهُ قَالَ: لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یمن سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے، ان سے (کان کی) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا: عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ تھے یا عامر بن طفیل۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے؟ حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا تھا اور وہ تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈریے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟“ راوی نے بیان کیا: پھر وہ شخص چلا گیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔“ اس پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا ہے کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔“ راوی نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے۔“ (سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 640]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 61 باب بعث علي ابن أبي طالب عليه السلام وخالد بن الوليد رضي الله عنه إلى اليمن قبل حجة الوداع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 641
641 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلاَ يَرَى شَيئًا، وَيَيْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ایک قوم ایسی پیدا ہوگی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے، ان کے روزوں کے مقابلے میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلے میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا، اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے (اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ کہ تیر چلانے والا) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی (شکار کے خون وغیرہ کا) کوئی اثر نظر نہیں آتا، اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، البتہ سوفار میں کچھ شبہ گزرتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائِل القرآن: 36 باب من رايا بقراءة أو تأكل به أو فخر به»
وضاحت: سو فار تیر کا وہ مقام ہے جو چلہ سے لگایا جاتا ہے۔ ان سے مراد خوارج ہیں۔ جنہوں نے خلیفہ راشد سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ بظاہر بڑا دین داری کا دم بھرتے تھے لیکن دل میں ذرا بھی نور ایمان نہ تھا۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 642
642 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا، أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ فَقَالَ: وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَم أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ، فَأَضْرِبَ عُنَقَهُ فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّة، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ، فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ؛ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصافِهِ، فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ؛ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ، وَهُوَ قِدْحُهُ، فَلاَ يُوجَدُ فِيه شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ، فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ؛ قَدْ سَبَقَ الفَرْثَ وَالدَّمَ؛ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ، إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، أَو مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ، وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذلِكَ الرَّجُلِ، فَالْتُمِسَ فَأُتِيَ بِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور آپ (جنگ حنین کا مال غنیمت) تقسیم فرما رہے تھے، اتنے میں بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ نامی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! انصاف سے کام لیجیے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو دنیا میں پھر کون انصاف کرے گا؟ اگر میں ظالم ہو جاؤں تب تو میری بھی تباہی اور بربادی ہو جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کے بارے میں مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن مار دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس کے جوڑ کے کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں (بظاہر) حقیر سمجھو گے اور تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل ناچیز سمجھو گے، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے زور دار تیر جانور سے پار ہو جاتا ہے، اس تیر کے پھل کو اگر دیکھا جائے گا تو اس میں کوئی چیز (خون وغیرہ) نظر نہ آئے گی، پھر اس کے پٹھے کو اگر دیکھا جائے تو جڑ میں اس کے پھل کے داخل ہونے کی جگہ سے اوپر جو لگایا جاتا ہے تو وہاں بھی کچھ نہ ملے گا، اس کے نضی (نضی تیر میں لگائی جانے والی لکڑی کو کہتے ہیں) کو دیکھا جائے گا تو وہاں بھی کچھ نشان نہیں ملے گا، اسی طرح اگر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا، حالانکہ گندگی اور خون سے وہ تیر گزرا ہے، ان کی علامت ایک کالا شخص ہو گا، اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا) ہو گا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گا اور حرکت کر رہا ہو گا، یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین گروہ سے بغاوت کریں گے۔“ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی (یعنی خوارج سے)، اس وقت میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور انہوں نے اس شخص کو تلاش کرایا (جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ کی علامت کے طور پر بتلایا تھا)، آخر وہ لایا گیا، میں نے اسے دیکھا تو اس کا سارا حلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کیے ہوئے اوصاف کے عین مطابق تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
323. باب التحريض على قتل الخوارج
باب: خوارج کے قتل کی رغبت دلانا
حدیث نمبر: 643
643 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ، حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لاَ يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جب تم سے کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کروں تو یہ سمجھو کہ میرے لیے آسمان سے گر جانا اس سے بہتر ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ باندھوں، البتہ جب میں اپنی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو لڑائی تو تدبیر اور فریب ہی کا نام ہے (اس میں کوئی بات بنا کر کہوں تو ممکن ہے)، دیکھو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”آخر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو چھوٹے چھوٹے دانتوں والے، کم عقل اور بے وقوف ہوں گے، بات وہ کہیں گے جو دنیا کی بہترین بات ہوگی، لیکن اسلام سے اس طرح صاف نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیونکہ ان کے قتل سے قاتل کو قیامت کے دن ثواب ملے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
324. باب الخوارج شر الخلق والخليقة
باب: خوارج کے بدترین مخلوق ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 644
644 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرِو، قَالَ: قُلْتُ لِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ: هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخَوارِجِ شَيْئًا قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ، وَأَهْوَى بِيَدِهِ قِبَلَ الْعِرَاقِ: يَخْرُجُ مِنْهُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ
یسیر بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سہل بن حنیف (بدری صحابی) رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے سلسلے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا تھا کہ: ”ادھر سے ایک جماعت نکلے گی، یہ لوگ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے باہر نکل جاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 88 كتاب استتابة المرتدين: 7 باب من ترك قتال الخوارج للتألف، وأن لا ينفر الناس عنه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
325. باب تحريم الزكاة على رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وعلى آله وهم بنو هاشم وبنو المطلب دون غيرهم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بنی ہاشم و بنی عبدالمطلب پر زکوٰۃ حرام ہے
حدیث نمبر: 645
645 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ؛ فَيَجِيءُ هذَا بِتَمْرِهِ، وَهذَا مِنْ تَمْرِهِ، حَتَّى يَصِيرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَانِ بِذلِكَ التَّمْرِ؛ فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَهَا مِنْ فِيهِ، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس توڑنے کے وقت زکوۃ کی کھجور لائی جاتی، ہر شخص اپنی زکوۃ لاتا اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ کھجور کا ایک ڈھیر لگ جاتا، (ایک مرتبہ) حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ایسی ہی کھجوروں سے کھیل رہے تھے کہ ایک نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جونہی دیکھا تو ان کے منہ سے وہ کھجور نکال لی اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد زکوۃ کا مال نہیں کھا سکتی؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 57 باب أخذ صدقة التمر عند صرام النخل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 646
646 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي لأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةَ عَلَى فِرَاشِي فَأَرْفَعُهَا لآكُلَهَا، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيَهَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے گھر جاتا ہوں، وہاں مجھے میرے بستر پر کھجور پڑی ہوئی ملتی ہے، میں اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ صدقے کی کھجور نہ ہو، تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 45 كتاب اللقطة: 45 باب إذا وجد تمرة في الطريق»
الحكم على الحديث:
«صحیح»