اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
303. باب من جمع الصدقة وأعمال البر
باب: صدقہ کے ساتھ ساتھ دیگر نیک اعمال کرنا
حدیث نمبر: 607
607 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ الله دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّ خَزَنَةِ بابٍ، أَيْ فُلُ هَلُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَاكَ الَّذِي لاَ تَوَى عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک جوڑا (کسی چیز کا) خرچ کیا تو اسے جنت کے داروغہ بلائیں گے، جنت کے ہر دروازے کا داروغہ (اپنی طرف) بلائے گا کہ: اے فلاں! اس دروازے سے آ۔“ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ! پھر اس شخص کو کوئی خوف نہیں رہے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 37 باب فضل النفقة في سبيل الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
304. باب الحث على الإنفاق وكراهة الإحصاء
باب: خرچ کرنے کی فضیلت اور شمار کرنے کی کراہت
حدیث نمبر: 608
608 صحيح حديث أَسْمَاءَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنْفِقِي وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ، وَلاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيْكِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرچ کیا کر، گننا نہ کر تاکہ تمہیں بھی گن کے نہ ملے اور جوڑ کے نہ رکھو، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ (اپنی نعمتوں کو) نہ چھپا لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 15 باب هبة المرأة لغير زوجها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
305. باب الحث على الصدقة ولو بالقليل، ولا تمتنع من القليل لاحتقاره
باب: تھوڑے صدقہ کی فضیلت اور اس کو حقیر نہ جاننے کا بیان
حدیث نمبر: 609
609 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا نِسَاءُ الْمُسْلِمَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مسلمان عورتو! ہرگز کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے (معمولی ہدیہ کو بھی) حقیر نہ سمجھے، خواہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 1 باب الهبة وفضلها والتحريض عليها»
وضاحت: یعنی کوئی پڑ وسن اپنے پاس موجود ہدیہ اور تحفہ بھیجنے سے اسے کم جان کر پس و پیش نہ کرے اور نہ رکے بلکہ اس تھوڑی سی چیز کی سخاوت کردے کیونکہ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ اور جب لگاتار اور مسلسل قلیل ملتا رہے گا تو وہ کثیر بن جائے گا۔(مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
306. باب فضل إخفاء الصدقة
باب: صدقہ چھپا کر دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 610
610 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ: الإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سات طرح کے آدمی ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا: اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرا وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی للہی محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے (برے ارادے سے) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا، ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور (بے ساختہ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الزكاة: 36 باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة وفضل المساجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
307. باب بيان أن أفضل الصدقة صدقة الصحيح الشحيح
باب: خوش حالی اور تندرستی میں صدقہ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 611
611 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلاَ تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغْتِ الحُلْقُومَ، قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا، وَلِفُلاَنٍ كَذَا، وَقَد كَانَ لِفُلاَنٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقے میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس صدقے میں جسے تم صحت کے وقت بخل کے باوجود کرو، تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مالدار بننے کی تمنا اور امید، اور (اس صدقہ خیرات میں) ڈھیل نہ ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آ جائے تو اس وقت تو کہنے لگے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا، حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہو چکا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 11 باب أي الصدقة أفضل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
308. باب بيان أن اليد العليا خير من اليد السفلى وأن اليد العليا هي المنفقة وأن السفلى هي الآخذة
باب: اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے، اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے
حدیث نمبر: 612
612 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ وَالْمَسْئَلَةَ: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى، فَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے، آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 18 لا صدقة إلا عن ظهر غني»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 613
613 صحيح حديث حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور پہلے انہیں دو جو تمہارے بال بچے اور عزیز ہیں، اور بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر آدمی مالدار رہے، اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہے گا اسے اللہ بھی محفوظ رکھتا ہے اور جو دوسروں (کے مال) سے بے نیاز رہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ بے نیاز ہی بنا دیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 18 باب لا صدقة إلا عن ظهر غنى»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 614
614 صحيح حديث حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي؛ ثُمَّ قَالَ: يَاحَكِيمُ إِنَّ هذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَرْزأْ أَحَدًا بَعْدكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه، يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى الْعَطَاءِ، فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رضي الله عنه دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمٍ، أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تُوُفِّيَ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا، میں نے پھر مانگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا، میں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی عطا فرمایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حکیم! یہ دولت بڑی سر سبز اور بہت ہی شیریں ہے لیکن جو شخص اس سے اپنے دل کو سخی رکھ لے تو اس کی دولت میں برکت ہوتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کی دولت میں کچھ بھی برکت نہیں ہو گی، اس کا حال اس شخص جیسا ہو گا جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا اور (یاد رکھو) اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب اس کے بعد میں کسی سے کوئی چیز نہیں لوں گا تاآنکہ اس دنیا ہی سے میں جدا ہو جاؤں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کو ان کا حصہ دینے کو بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں ان کا حصہ دینا چاہا تو انہوں نے اس کے لینے سے انکار کر دیا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: مسلمانو! میں تمہیں حکیم بن حزام کے معاملہ میں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کا حق انہیں دینا چاہا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ غرض حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی طرح کسی سے بھی کوئی چیز لینے سے ہمیشہ انکار ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 50 باب الاستعفاف عن المسئلة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
309. باب النهي عن المسئلة
باب: سوال کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 615
615 صحيح حديث مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللهِ، لا يَضُرُّهُمْ مَن خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے، اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی، اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا، انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے (اور یہ عالم فنا ہو جائے گا)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 13 باب من يرد الله به خيرًا يفقهه في الدين»
وضاحت: اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر ایک کو اپنے ارادے کے مطابق فہم عطا کرتا ہے۔ تو فہم کا تفاوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بسا اوقات بعض صحابہ حدیث سنتے لیکن سوائے ظاہر کے کچھ نہ سمجھ پاتے۔ جب کہ کوئی اس زمانے کا یا بعد والے زمانے کا اس حدیث کو سنتا ہے تو اس سے بہت سے مسائل کا استنباط کر لیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔(مرتبؒ) راوي حدیث: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبدالرحمن تھی۔ اموی خانوادے سے تعلق تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے۔ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ اختیار کیا۔ کاتب وحی رہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کے گورنر رہے۔ پھر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی برقرار رہے۔ پھر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی وجہ سے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی اور شام کو مستقل اپنی ریاست قرار دیا پھر سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے وحدت امت کے لیے ان سے صلح کر لی۔ آپ سے ۱۶۳ احادیث مروی ہیں۔جن میں چار متفق علیہ ہیں۔ صحیح قول کے مطابق ۶۰ ہجری میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
310. باب المسكين الذي لا يجد غني ولا يفطن له فيتصدق عليه
باب: اس مسکین کا بیان جو اپنی حاجت پوری نہیں کر سکتا اور نہ لوگ اسے مستحق سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 616
616 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ، تَرُدُّهُ اللقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلكِنِ الْمِسْكِينُ لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں، بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعے سے بے پروا ہو جائے، اس کا حال بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دے دے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 616]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 35 باب قول الله تعالى (لا يسألون الناس إلحافَا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»