اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
311. باب كراهة المسألة للناس
باب: لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 617
617 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ اس کے چہرے پر ذرا بھی گوشت نہ ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب الزكاة: 52 باب من سأل الناس تكثرًا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 618
618 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے، چاہے وہ اسے کچھ دے دے یا نہ دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 618]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 15 باب كسب الرجل وعمله بيده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
312. باب إِباحة الأخذ لمن أعطى من غير مسألة ولا إشراف
باب: بغیر خواہش اور سوال کے لینا جائز ہے
حدیث نمبر: 619
619 صحيح حديث عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ: خُذْهُ، إِذَا جَاءَكَ مِنْ هذَا الْمَالِ شَيْءٌ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لاَ، فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی چیز عطا فرماتے تو میں عرض کرتا کہ آپ مجھ سے زیادہ محتاج کو دے دیجیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”لے لو، اگر تمہیں کوئی ایسا مال ملے جس پر تمہارا خیال نہ لگا ہوا ہو اور نہ تم نے اسے مانگا ہو تو اسے قبول کر لیا کرو اور جو نہ ملے تو اس کی پرواہ نہ کرو اور اس کے پیچھے نہ پڑو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 51 باب من أعطاه الله شيئًا من غير مسألة ولا إشراف نفس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
313. باب كراهة الحرص على الدنيا
باب: حرص دنیا کی مذمت
حدیث نمبر: 620
620 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لاَ يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَتَيْنِ: فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الأَمَلِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوڑھے انسان کا دل دو چیزوں کے بارے میں ہمیشہ جوان رہتا ہے: دنیا کی محبت اور زندگی کی لمبی امید۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 5 باب من بلغ ستين سنة فقد أعذر الله إليه في العمر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 621
621 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكْبَرُ ابْنُ آدَمَ وَيَكْبَرُ مَعَهُ اثْنَانِ: حُبُّ الْمَالِ وَطُولُ الْعُمُرِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی عمر بڑھتی جاتی ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں اس کے اندر بڑھتی جاتی ہیں: مال کی محبت اور عمر کی درازی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 5 باب من بلغ ستين سنة فقد أعذر الله إليه في العمر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
314. باب لو أن لابن آدم واديين لابتغى ثالثًا
باب: اگر ابن آدم کے سونے کی دو وادیاں ہوں تب بھی تیسری کی آرزو کرے
حدیث نمبر: 622
622 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ، وَلَنْ يَمْلأَ فَاهُ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں اور اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 10 باب ما يتقي من فتنة المال»
وضاحت: مال کی محبت اور اس کی طلب میں کوشش، بنی آدم کی جبلت میں رکھ دی گئی ہے اور اس سے وہی سیر ہو سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ بچالے۔ اور اس جبلت کو اپنے نفس سے زائل کرنے کی توفیق دے دے۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 623
623 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالاً لأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ، وَلاَ يَمْلأُ عَيْنَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ: ”اگر انسان کے پاس مال (بھیڑ بکری) کی پوری وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اسے ویسی ہی ایک اور مل جائے اور انسان کی آنکھ کو مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ سے توبہ کرتا ہے وہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 10 باب ما يتقي من فتنة المال»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
315. باب ليس الغنى عن كثرة العرض
باب: امارت مال ومتاع زیادہ ہونے سے نہیں
حدیث نمبر: 624
624 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تونگری یہ نہیں ہے کہ سامان زیادہ ہو بلکہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 15 باب الغنى غنى النفس»
وضاحت: حقیقی غنی مال کی کثرت سے نہیں ہوتا۔ کیونکہ کتنے ایسے ہیں کہ جن کے پاس مال کی کثرت اور کشادگی ہے مگر قناعت نہیں ملی تو وہ زیادتی مال میں کوشاں رہتے ہیں یہ نہیں کہ مال کہاں سے آرہا ہے (حلال ہے یا حرام) گویا ایسے لوگ شدت حرص کی وجہ سے فقیر ہیں۔ جبکہ حقیقی غنی جس کی تعریف کی گئی ہے وہ ہے کہ اسے جوملے وہ قناعت کرنے والا ہو اور اس کا نفس اس پر غنی اور بے پروا ہو جاتا ہے اور اسی پر خوش ہو جاتا ہے اور زیادہ کی حرص نہیں رکھتا۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
316. باب تخوف ما يخرج من زهرة الدنيا
باب: دنیا کی پر فریب زینت سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 625
625 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَكْثَرَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الأَرْضِ قِيلَ: وَمَا بَرَكَات الأَرْضِ قَالَ: زَهْرَة الدُّنْيَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: هَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنْزَلُ علَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ قَالَ: أَنَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَقَدْ حَمِدْنَاهُ حِينَ طَلَعَ ذلِكَ، قَال: لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ إِلاَّ بِالْخَيْرِ، إِنَّ هذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرَةِ، أَكَلَتْ، حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَمْسَ فَاجْتَرَّتْ وَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ؛ وَإِنَّ هذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ، مَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ، وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ؛ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے متعلق سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کی برکتیں تمہارے لیے نکال دے گا۔“ پوچھا گیا: زمین کی برکتیں کیا ہیں؟ فرمایا: ”دنیا کی چمک دمک۔“ اس پر ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا بھلائی سے برائی پیدا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے، اس کے بعد آپ اپنی پیشانی کو صاف کرنے لگے اور دریافت فرمایا: ”پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پوچھنے والے نے کہا کہ حاضر ہوں، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب اس سوال کا حل ہمارے سامنے آ گیا تو ہم نے ان صاحب کی تعریف کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی سے تو صرف بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے، لیکن یہ مال سرسبز اور خوشگوار (گھاس کی طرح) ہے اور جو چیزیں بھی ربیع کے موسم میں اگتی ہیں وہ حرص کے ساتھ کھانے والوں کو ہلاک کر دیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہیں، سوائے اس جانور کے جو پیٹ بھر کے کھائے کہ جب اس نے کھا لیا اور اس کی دونوں کوکھ بھر گئیں تو اس نے سورج کی طرف منہ کر کے جگالی کر لی اور پھر پاخانہ پیشاب کر دیا اور اس کے بعد پھر لوٹ کے کھا لیا اور یہ مال بھی بہت شیریں ہے، جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور حق میں خرچ کیا تو وہ بہترین ذریعہ ہے اور جس نے اسے ناجائز طریقے سے حاصل کیا تو وہ اس شخص جیسا ہے جو کھاتا جاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 7 باب ما يحذر من زهرة الدنيا والتنافس فيها»
وضاحت: امام نووی مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو تم دنیا کا مال و دولت اور اس کی رونق حاصل کرتے ہو یہ خیر اور بھلائی نہیں بلکہ فتنہ ہے۔ اصل یوں ہے کہ بھلائی کا تعلق خیر سے ہے لیکن دنیا کا مال اور اس کی رونق خیر نہیں ہے کیونکہ یہ انسان کو فتنہ میں ڈالتی ہے اور آخرت سے غافل اور بے رغبت بنا کر دنیا سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔ پھر بطور مثال مذکورہ حدیث بیان کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ربیع کی فصلیں اور ان کا سبزہ اور چارا، زیادہ کھانے کے وجہ سے، بد ہضمی کے سبب ہلاک کر دیتا ہے یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے۔ مگر جب ضر ورت کے تحت تھوڑی سی مقدار پر اکتفا کیا جائے، تو یہ نقصان نہیں دیتا۔ اسی طرح نفس انسانی ایسے مال کے طلب کرنے کو اچھا اور مستحسن جانتے ہیں اور اس کی طرف مائل ہوتے ہیں تو بعض لوگ اس کو زیادہ حاصل کرتے ہیں لیکن وہ اسے اس کے مصارف میں خرچ نہ کرتے ہوئے اس میں مستغرق رہتے ہیں تو انہیں یہ مال ہلاک کر دیتا ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے۔ لیکن بعض لوگ دنیا کا مال تھوڑا سا حاصل کرتے ہیں۔ اور اگر زیادہ لے لیتے ہیں تو اسے اس کے مصارف میں خرچ کر دیتے ہیں تو یہ مال انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 626
626 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلاَ يُكَلِّمُكَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ؛ فَقَالَ: إِنَّهُ لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَو يُلِمُّ، إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضْرَاءِ، أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا اْمتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَت وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ، وَإِنَّ هذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے، ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے متعلق اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا کی خوشحالی اور اس کی زیبائش و آرائش کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اچھائی برائی پیدا کرے گی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، اس لیے اس شخص سے کہا جانے لگا کہ کیا بات تھی، تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات پوچھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے بات نہیں کرتے؟ پھر ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پسینہ صاف کیا (جو وحی نازل ہوتے وقت آپ کو آنے لگتا تھا) پھر پوچھا: ”سوال کرنے والے صاحب کہاں ہیں؟“ ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے (سوال کی) تعریف کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھائی برائی نہیں پیدا کرتی (مگر بے موقع استعمال سے برائی پیدا ہوتی ہے)، کیونکہ موسم بہار میں بعض ایسی گھاس بھی اگتی ہے جو جان لیوا یا تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے، البتہ ہریالی چرنے والا وہ جانور بچ جاتا ہے جو خوب چرتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو سورج کی طرف رخ کر کے پاخانہ پیشاب کر دیتا ہے اور پھر چرتا ہے۔ اسی طرح یہ مال و دولت بھی ایک خوشگوار سبزہ زار ہے اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جو مسکین، یتیم اور مسافر کو دیا جائے“، یا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! اگر کوئی شخص زکاۃ حقدار ہونے کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور قیامت کے دن یہ مال اس کے خلاف گواہ ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 47 باب الصدقة على اليتامى»
الحكم على الحديث:
«صحیح»