اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
850. باب فَضْلِ فَارِس
باب: اہل فارس کی فضیلت
حدیث نمبر: 1650
1650 صحيح حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا جُلُوساً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الجُمُعَةِ {وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ} قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ الله؟ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ، حَتَّى سَأَل ثَلاَثًا. وَفِينَا سَلْمَانُ الفَارِسِيُّ. وَضَعَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ، ثُمَّ قَالَ: «لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثُّريَّا، لَنَالَهُ رِجَال (أَوْ) رَجلٌ مِنْ هؤلاء»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورۃ الجمعہ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں: ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾ [سورة الجمعة: 3] ”اور دوسروں کے لیے بھی (آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ہادی اور معلم ہیں) جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ دوسرے کون لوگ ہیں؟“ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر یہی سوال تین مرتبہ کیا۔ مجلس میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تب بھی ان لوگوں (یعنی فارس والوں) میں سے اس تک پہنچ جائیں گے۔“ یا یوں فرمایا کہ ”ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 65 کتاب التفسیر: 62 سورۃ الجمعۃ: 1 باب قولہ ﴿وآخرین منہم﴾۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
851. باب قَوْلِهِ ﷺ: النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لاَ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’لوگ اونٹوں کی مانند ہیں کہ سو میں سے بمشکل ایک سواری کے قابل ہوتا ہے‘‘
حدیث نمبر: 1651
1651 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ المِائَةِ، لاَ تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً»
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی ہے، سو اونٹوں میں بھی ایک تیز سواری کے قابل نہیں ملتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 81 کتاب الرقاق: 35 باب رفع الأمانۃ۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»