اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
839. باب من فضائل الأنصار رضی اللہ عنہ
باب: انصار کی فضیلتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1630
1630 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ مُقْبِلِينَ، مِنْ عُرُسٍ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلاً، فَقَالَ: اللهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (انصار کی) عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ (گواہ ہے) تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو“، تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للأنصار أنتم أحب الناس إليَّ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1631
1631 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَكلَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ مَرَّتَيْنِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کی عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کا ایک بچہ بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلام کیا پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔“ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للأنصار أنتم أحب الناس إليَّ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1632
1632 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکوکاروں کی پذیرائی کیا کرنا اور خطاکاروں سے درگزر کیا کرنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 11 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقبلوا من محسنهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
840. باب في خير دور الأنصار رضی اللہ عنہ
باب: انصار کے بہترین گھروں کا بیان
حدیث نمبر: 1633
1633 صحيح حديث أَبِي أُسَيْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحرِثِ بْنِ خَزْرَجٍ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ؛ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ فَقَالَ سَعْدٌ: مَأ أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلاَّ قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكمْ عَلَى كَثِيرٍ
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو نجار کا گھرانہ انصار میں سے سب سے بہتر گھرانہ ہے، پھر بنو عبدالاشہل کا، پھر بنو الحارث بن خزرج کا، پھر بنو ساعدہ، اور انصار کا ہر گھرانہ عمدہ ہی ہے۔“ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے کئی قبیلوں کو ہم پر فضیلت دی ہے۔ ان سے کسی نے کہا: آپ کو بھی تو بہت سے قبیلوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت دی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 7 باب فضل دور الأنصار»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ٓپ اپنی کنیت ابو اسید ساعدی سے مشہور ہوئے۔ بدر اور دیگر غزوات میں شریک رہے۔ آخر عمر میں نابینے ہو گئے تھے۔ فتح مکہ کے دن بنو ساعدہ قبیلہ کا علم ان کے ہاتھوں میں تھا۔ مسند بیہقی میں ہے کہ آپ ۲۸ احادیث کے راوی ہیں۔ ۴۰ ہجری کو وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
841. باب في حسن صحبة الأنصار رضی اللہ عنہ
باب: انصار کی صحبت اچھی ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1634
1634 صحيح حديث جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: صَحِبْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَكَانَ يَخْدُمُنِي وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ جَرَيرٌ: إِنِّي رَأَيْتُ الأَنْصَارَ يَصْنَعُونَ شَيئًا، لاَ أَجِدُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلاَّ أَكْرَمْتُهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو وہ میری خدمت کرتے تھے حالانکہ عمر میں وہ مجھ سے بڑے تھے، جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہر وقت انصار کو ایک ایسا کام (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت) کرتے دیکھا، جب ان میں سے کوئی مجھے ملتا ہے تو میں اس کی تعظیم و اکرام کرتا ہوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 71 باب فضل الخدمة في الغزو»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
842. باب دعاء النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم لغفار وأسلم
باب: غفار اور اسلم قبیلہ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا ذکر
حدیث نمبر: 1635
1635 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَسْلَمُ، سَالَمَهَا اللهُ وَغِفَارُ، غَفَرَ اللهُ لَهَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا» ”قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔“” [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 6 باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجُهَيْنَةَ وأشجع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1636
1636 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ: غِفَارُ، غَفَرَ اللهُ لَهَا وَأَسْلَمُ، سَالَمَهَا اللهُ وَعُصَيَّةُ، عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ”قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 6 باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجهينة وأشجع»
وضاحت: قبیلہ غفار والے عہد جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے، چوری کرتے۔ اسلام لانے کے بعد اللہ نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کر کے غداری کی اور بیئر معونہ والوں کو شہید کر دیا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
843. باب من فضائل غفار وأسلم وجهينة وأشجع ومزينة وتميم ودوس وطيء
باب: غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طیئی قبائل کے فضائل
حدیث نمبر: 1637
1637 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَأَشْجَعُ وَغِفَارُ، مَوَالِيَّ؛ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللهِ وَرَسُولِهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار، ان سب قبیلوں کے لوگ میرے خیر خواہ ہیں اور ان کا بھی اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی حمایتی نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 2 باب مناقب قريش»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1638
1638 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ (أَوْ قَالَ) شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ، خَيْرٌ عِنْدَ اللهِ (أَوْ قَالَ) يَوْمَ الْقَيَامَةِ، مِنْ أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَهَوَازِنَ وَغَطَفَانَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے کچھ لوگ یا انہوں نے بیان کیا کہ مزینہ کے کچھ لوگ یا جہینہ کے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یا بیان کیا کہ قیامت کے دن قبیلہ اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 2 باب مناقب قريش»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1639
1639 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاق الْحَجِيجِ، مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ، خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ إِنَّهُمْ لَخَيْرٌ مِنْهُمْ
سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ سے ان لوگوں نے بیعت کی ہے کہ جو حاجیوں کا سامان چرایا کرتے تھے، یعنی اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے لوگ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتلاؤ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ۔ یہ چاروں قبیلے بنی تمیم، بنی عامر، اسد اور غطفان سے بہتر نہیں ہیں؟ کیا یہ (مؤخر الذکر) خراب اور برباد نہیں ہوئے؟“ اقرع رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ ان سے بہتر ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 6 باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجهينة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»