اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
843. باب من فضائل غفار وأسلم وجهينة وأشجع ومزينة وتميم ودوس وطيء
باب: غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طیئی قبائل کے فضائل
حدیث نمبر: 1640
1640 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَدِمَ طُفَيْلُ بْنُ عَمْرِو الدَّوْسِيُّ، وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رسُولَ اللهِ إِنَّ دَوْسًا عَصَتْ، وَأَبَتْ فَادْعُ اللهَ عَلَيْهَا فَقِيلَ: هَلَكَتْ دَوْسٌ قَالَ: اللهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ دوس کے لوگ سرکشی پر اتر آئے ہیں اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بددعا کیجئے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اب دوس کے لوگ برباد ہو جائیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ» ”اے اللہ! دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں (دائرۂ اسلام میں) کھینچ لا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1640]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 100 باب الدعاء للمشركين بالهدي ليتألفهم»
وضاحت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی قبیلہ دوس کے تھے۔ لوگوں نے بد دعا کی درخواست کی تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ہدایت کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور بعد میں اس قبیلہ کے لوگ خوشی خوشی مسلمان ہو گئے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1641
1641 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلاَثٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: هُمْ أَشَدُّ أَمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا وَكَانَتْ سَبيَّة مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین باتوں کی وجہ سے جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: ”یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت ثابت ہوں گے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک مرتبہ) بنو تمیم کے یہاں سے زکات (وصول ہو کر آئی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری قوم کی زکات ہے۔“ بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے کہ یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 13 باب من ملك من العرب رقيقًا فوهب وباع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
844. باب خيار الناس
باب: بہترین یا اچھے لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 1642
1642 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإسْلاَمِ، إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدونَ خَيْرَ النَّاسِ فِي هذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً وَتَجِدُونَ شَرَّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأتِي هؤُلاَءِ بَوَجْهٍ وَهؤُلاَءِ بِوَجْهٍ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انسانوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے (بھلائی اور برائی میں) جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں اور حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو۔ اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دو رخا (دوغلا) ہو۔ ان لوگوں میں ایک منہ لے کر آئے، دوسروں میں دوسرا منہ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 1 باب قول الله تعالى (يأيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
845. باب من فضائل نساء قريش
باب: قریش کی عورتوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 1643
1643 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى إِثْرِ ذلِكَ: وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْت عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”اونٹ پر سوار ہونے والیوں (عربی خواتین) میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں۔ اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگران و محافظ۔“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 46 باب قوله تعالى (إذ قالت الملائكة يا مريم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
846. باب مؤاخاة النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم بين أصحابه رضي الله تعالى عنهم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کرام کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دینے کا ذکر
حدیث نمبر: 1644
1644 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ لأَنَسٍ رضي الله عنه، أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ فَقَالَ: قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِي
عاصم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”اسلام میں جاہلیت والے عہد و پیمان نہیں ہیں“؟ تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود انصار اور قریش کے درمیان میرے گھر میں عہد و پیمان کرایا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 39 كتاب الكفالة: 2 باب قول الله تعالى (والذين عاقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
847. باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
باب: صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت
حدیث نمبر: 1645
1645 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَأْتِي زَمَانَ يَغْزو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَال: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيقَالُ: نَعَم فَيُفْتَحُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج جہاد پر ہو گی، پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو؟ کہا جائے گا کہ ہاں، تو (دعا کے لیے انہیں آگے بڑھا کے) ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہو گی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو (یعنی تابعی)، ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ (سپاہیوں سے) پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں کی صحبت اٹھائی ہو (یعنی تبع تابعی)؟ کہا جائے گا کہ ہاں، اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 76 باب من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1646
1646 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِىء أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادة»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجہ البخاري في: 52 کتاب الشہادات: 9 باب لا یشہد علی شہادۃ جَوْرٍ إذا أُشْھِدَ۔»
وضاحت: حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمارے بزرگ شہادت اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارا کرتے تھے۔ کہ کہیں قسم کھانے کی عادت نہ پڑ جائے۔ موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت بہتر نہیں ہے۔ قسم میں احتیاط لازمی ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1647
1647 صحيح حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِين يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِين يَلُونَهُمْ» قَالَ عِمْرَانُ: لاَ أَدْرِي، أذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدُ، قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْماً يَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرَ فِيهِمُ السِّمَنُ»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ (صحابہ) ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان کے بھی بعد آئیں گے (تبع تابعین)۔“ عمران رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زمانوں کا (اپنے بعد) ذکر فرمایا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو چور ہوں گے، جن میں دیانت کا نام نہ ہوگا، ان سے گواہی دینے کے لیے نہیں کہا جائے گا، لیکن وہ گواہیاں دیتے پھریں گے، نذریں مانیں گے، لیکن پوری نہیں کریں گے اور موٹاپا ان میں عام ہوگا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 52 کتاب الشہادات: 9 باب لا یشہد علی شہادۃ جور إذا أُشہد۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
848. باب قَوْلِهِ ﷺ: لاَ تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’اس صدی کے آخر تک موجود لوگوں میں سے کوئی زندہ نہ ہو گا‘‘
حدیث نمبر: 1648
1648 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ، قَالَ: صلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ، في آخِرِ حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ، فَقَالَ: «أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هذِهِ؟ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا، لاَ يَبْقَى، مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ، أَحَدٌ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آخرِ عمر میں (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”تمہاری آج کی رات وہ ہے کہ اس رات سے سو برس کے آخر تک کوئی شخص جو زمین پر ہے وہ باقی نہیں رہے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجہ البخاري في: 3 کتاب العلم: 22 باب السمَر في العلم۔»
وضاحت: مطلب یہ ہے کہ آج کی رات میں جس قدر انسان زندہ ہیں، سو سال کے آخر تک یہ سب ختم ہو جائیں گے، اس رات کے بعد جو نسلیں پیدا ہوں گی، ان کی زندگی کی نفی مراد نہیں ہے۔ محققین کے نزدیک اس کا مطلب یہی ہے اور یہی ظاہر لفظوں سے سمجھ میں آتا ہے۔ چنانچہ سب سے آخری صحابی حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کا ٹھیک سو برس بعد ۱۱۰ سال کی عمر میںانتقال ہوا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
849. باب تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِ رضی اللہ عنہ
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو برا کہنا حرام ہے
حدیث نمبر: 1649
1649 صحيح حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابي. فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْل أُحُدٍ ذَهَباً، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَه»
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو، اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 62 کتاب فضائل أصحاب النبي صلي الله عليه وسلم: 5 باب قول النَّبِيّ صلي الله عليه وسلم ﴿لو کنت متخذًا خَلِیْلًا﴾۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»