اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
829. باب فضائل عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1610
1610 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْخَلاَءَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، قَالَ: مَنْ وَضَعَ هذَا فَأُخْبِرَ فَقَالَ: اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ (بیت الخلاء) میں تشریف لے گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا، (باہر نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس نے رکھا؟“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» ”اے اللہ! اس کو دین کی سمجھ عطا فرمانا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 10 باب وضع الماء عند الخلاء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
830. باب من فضائل عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکے فضائل
حدیث نمبر: 1611
1611 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ، فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا، فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي، فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ، قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ قَالَ: فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَمْ تُرَعْ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ، بَعْدُ، لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب بھی کوئی (آدمی) خواب دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دیتے)، میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا۔ میں ابھی نوجوان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سوتا تھا، چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے، میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے (یعنی اس پر کنویں کی سی منڈیر بنی ہوئی ہے) اس کے دو جانب تھے۔ دوزخ میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جنھیں میں پہچانتا تھا۔ میں کہنے لگا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں نے دوزخ سے اللہ کی پناہ مانگی“۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا: «لَنْ تُرَاعَ» ”ڈرو نہیں۔“ یہ خواب میں نے (اپنی بہن) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، تعبیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ“ ”عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے۔ کاش! رات میں نماز پڑھا کرتا۔“ (راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں بہت کم سوتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 2 باب فضل قيام الليل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
831. باب من فضائل أنس بن مالك رضی اللہ عنہ
باب: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خوبیاں
حدیث نمبر: 1612
1612 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ، ادْعُ اللهَ لَهُ قَالَ: اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ
ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے، اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو اسے دے اس میں برکت عطا فرما۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 47 باب الدعاء بكثرة المال والبركة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1613
1613 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًا، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ، فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات کہی تھی اور میں نے وہ راز کسی کو نہیں بتایا، مجھ سے سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہا (ان کی والدہ) نے بھی اس کے متعلق پوچھا لیکن میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 46 باب حفظ السر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
832. باب من فضائل عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی خوبیاں
حدیث نمبر: 1614
1614 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلاَّ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ: وَفِيهِ نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ (وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ الآية)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ ”وہ اہل جنت میں سے ہیں“، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آیت ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ [سورة الأحقاف: 10] انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 19 باب مناقب عبد الله بن سلام رضي الله عنه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1615
1615 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ فَقَالُوا: هذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، تَجَوَّزَ فِيهِمَا، ثُمَّ خَرَجَ وَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ، قَالُوا: هذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ: وَاللهِ مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لاَ يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَّنِّي فِي رَوْضَةٍ (ذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا) وَسْطَهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ، أَسْفلُهُ فِي الأَرْضِ وَأَعْلاَهُ فِي السَمَاءِ فِي أَعْلاَهُ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لَهُ ارْقَهْ قُلْتُ لاَ أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فَرَقِيتُ، حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلاَهَا فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ لَهُ: اسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تِلْكَ الرَّوْضَةُ الإِسْلاَمُ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ، وِتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الوُثْقى فَأَنْتَ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ وَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ
قیس بن عباد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار ظاہر تھے، لوگوں نے کہا: یہ بزرگ جنتی لوگوں میں ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصر طریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے ہولیا اور عرض کی کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میں نے ایک خواب دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا، میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا، اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا کھمبا ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ، میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے، اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے۔ ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری نیند کھل گئی، یہ خواب جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تو اسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کا ستون ہے اور عروہ (گھنا درخت) «الْعُرْوَةُ الْوُثْقَىٰ» ”عروۃ الوثقی“ ہے، اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے۔“ یہ بزرگ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 19 باب مناقب عبد الله بن سلام رضي الله عنه»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یوسف تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو انہوں نے اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی۔ ان کے اسلام لانے پر پورے گھر والے بھی مسلمان ہو گئے۔ بہت بڑے عالم تھے۔ نہاوند کی فتح میں شریک تھے۔ آپ نے ۴۳ ہجری کو وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
833. باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ
باب: حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے کمالات
حدیث نمبر: 1616
1616 صحيح حديث حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدٍ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ، فَقَالَ: كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ، وِفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَت إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي، اللهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ: نَعَمْ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ وہاں شعر پڑھ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (مسجد میں شعر خوانی پر) ناپسندیدگی کا اظہار کیا، تو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت بھی یہاں شعر پڑھا کرتا تھا جب یہاں وہ ہستی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) تشریف فرما ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی۔ پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا: «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”میری طرف سے (کفار کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید فرما“؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، (میں نے سنا تھا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 6 باب ذكر الملائكة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1617
1617 صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ: اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبرِيلُ مَعَكَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مشرکین مکہ کی تم بھی ہجو کرو یا (یہ فرمایا کہ) ان کی ہجو کا جواب دو، جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1617]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 6 باب ذكر الملائكة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1618
1618 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: لاَ تَسُبُّهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: انہیں برا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 16 باب من أحب أن لا يسب نسبه»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الولید یا ابو الحسام تھی۔ انصاری تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو قریش نے آپ کی ہجو کی تو حسان نے اشعار کے ذریعے آپ کا دفاع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے حسان کفار کی ہجو کرو یہ انہیں تیروں سے زیادہ زخمی کرتی ہے اور جبریل تمہاری مدد کے لیے اترتا ہے۔ ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔ ساٹھ سال جاہلیت اور ساٹھ سال اسلام میں گزارے اور ۴۰ھ کو وفات پائی۔ بعض نے آپ کا سن وفات ۵۰ ہجری بیان کیا ہے۔٭حضرت حسان رضی اللہ عنہ ایک موقع پر بہک گئے تھے۔ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگانے والوں کے ہم نوا ہو گئے تھے۔ بعد میں یہ تائب ہو گئے مگر کچھ دلوں میں یہ واقعہ یاد رہا۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود ان کی مدح کی اور ان کو اچھے لفظوں سے یاد کیا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1619
1619 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، وَعِنْدَهَا حَسَّان بْنُ ثَابِتٍ، يُنْشِدُهَا شِعْرًا، يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ، وَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: لكِنَّكَ لَسْتَ كَذلِكَ قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِي لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى (وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ) فَقَالَتْ: وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمى قَالَتْ لَهُ: إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ، أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسروق نے بیان کیا کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور وہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے، ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے: «حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ، وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ» ”وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی، وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی۔“ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة النور: 11] ”اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہو گا۔“ اس پر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے سخت اور کیا عذاب ہو گا (حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی)، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 34 باب حديث الإفك»
الحكم على الحديث:
«صحیح»