اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
833. باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ
باب: حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے کمالات
حدیث نمبر: 1620
1620 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ: كَيْفَ بِنَسَبِي فَقَالَ حَسَّانٌ: لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین (قریش) کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں بھی تو ان ہی کے خاندان سے ہوں۔“ اس پر حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں آپ کو (شعر میں) اس طرح صاف نکال لے جاؤں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 16 باب من أحب أن لا يسب نسبه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
834. باب من فضائل أبي هريرة الدوسي رضی اللہ عنہ
باب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1621
1621 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَءًا مِسْكِينًا، أَلْزَمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي وَكَانَ الْمُهَاجِرونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَالَ: مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ يَقْبِضْهُ فَلَنْ يَنْسى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں، اللہ کے حضور ہمیں سب کو جانا ہے۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجرین کو بازار کے کاروبار میں مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنے مالوں کی دیکھ بھال میں مصروف رکھتی تھی۔ میں ایک دن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون اپنی چادر پھیلائے گا، یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کر لوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔“ چنانچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی، پھیلا دی اور اس ذات کی قسم جس نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تھا، پھر کبھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی، نہیں بھولا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 96 كتاب الاعتصام: 22 باب الحجة على من قال إن أحكام النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كانت ظاهرة»
وضاحت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پانچ ہزار سے زائد احادیث زبانی یاد تھیں۔ بعض لوگ اس کثرت حدیث پر رشک کرتے۔ ان کے جواب میں آپ نے یہ بیان دیا جو یہاں مذکور ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
835. باب من فضائل أهل بدر رضی اللہ عنہ وقصة حاطب بن أبي بلتعة
باب: اہل بدر کے فضائل اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ
حدیث نمبر: 1622
1622 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ قَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةَ، وَمَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا، تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الرَّوْضَةِ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ فَقَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ فَقُلْنَا: لَتُخْرِجَنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَاطِبُ مَا هذَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لاَ تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَءًا مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، لَهُمْ قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالهُمْ؛ فَأَحْبَبْتُ، إِذ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ، أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كُفْرًا وَلاَ ارْتِدَادًا، وَلاَ رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ صَدَقَكُمْ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هذَا الْمُنَافِقِ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْريكَ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیر رضی اللہ عنہ اور مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگ روضۂ خاخ (جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) پر پہنچ جاؤ تو وہاں ایک بوڑھی عورت تمہیں اونٹ پر سوار ملے گی اور اس کے پاس ایک خط ہو گا، تم لوگ اس سے وہ خط لے لینا۔“ ہم روانہ ہوئے اور ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ آخر ہم روضۂ خاخ پر پہنچ گئے اور وہاں واقعی ایک بوڑھی عورت موجود تھی جو اونٹ پر سوار تھی۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں، لیکن جب ہم نے اسے دھمکی دی کہ اگر تو نے خط نہ نکالا تو تمہارے کپڑے ہم خود اتار دیں گے، اس پر اس نے خط اپنی گندھی ہوئی چوٹی کے اندر سے نکال کر دیا، اور ہم اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ اس کا مضمون یہ تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے چند آدمیوں کی طرف، اس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بھیدوں کی خبر دی تھی۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حاطب! یہ کیا واقعہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں عجلت سے کام نہ لیجیے، میری حیثیت (مکہ میں) یہ تھی کہ قریش کے ساتھ میں نے رہنا سہنا اختیار کر لیا تھا، ان سے رشتہ ناطہ میرا کچھ بھی نہ تھا۔ آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں ان کی تو مکہ میں سب کی رشتہ داری ہے اور مکہ والے اسی وجہ سے ان کے عزیزوں کی اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کریں گے، مگر مکہ والوں کے ساتھ میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں جس سے اثر لے کر وہ میرے بھی عزیزوں کی مکہ میں حفاظت کریں۔ میں نے یہ کام کفر یا ارتداد کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے خوش ہو کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: ”حاطب نے سچ کہا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اجازت دیجیے میں اس منافق کا سر اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ بدر کی لڑائی میں (مسلمانوں کے ساتھ مل کر) لڑے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں، اللہ تعالیٰ مجاہدینِ بدر کے احوال (موت تک کے) پہلے ہی سے جانتا تھا، اور وہ خود ہی فرما چکا ہے کہ ”تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں“۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1622]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 141 باب الجاسوس وقول الله تعالى (لا تتخذوا عدوّي وعدوّكم أولياء»
وضاحت: خط کا مضمون یہ تھا ”اما بعد! قریش کے لوگو تم کو معلوم رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر جرار لیے ہوئے تمہارے سر پر آ رہے ہیں۔ اگر وہ اکیلے بھی آئیں تو پھر بھی اللہ ان کی مدد کرے گا اور اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ اب تم اپنا بچاؤ کر لو۔“ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
836. باب من فضائل أبي موسى وأبي عامر الأشعريين رضی اللہ عنہ
باب: اشعر قبیلہ کے حضرت ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1623
1623 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ نَازِلٌ بَالْجِعْرَانَةِ، بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلاَ تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ: أَبْشِرْ فَقَالَ: قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ (أَبْشِرْ) فَأَقْبَلَ عَلَي أَبِي مُوسى وَبِلاَلٍ، كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ: رَدَّ الْبُشْرَى، فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا قَالاَ: قَبِلْنَا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ، فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا فَأَخَذَا الْقَدَحَ، فَفَعَلاَ فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَنْ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک مقام ہے، اتر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے، اسی عرصہ میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدوی آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے، اسے پورا کیوں نہیں کرتے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بشارت ہو“، اس پر وہ بدوی بولا کہ بشارت تو آپ مجھے بہت دے چکے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک ابو موسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہما کی طرف پھیرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غصے میں معلوم ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بشارت واپس کر دی، اب تم دونوں اسے قبول کر لو“۔ ان دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ طلب فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو اس میں دھویا اور اسی میں کلی کی اور (ابو موسیٰ اشعری اور بلال رضی اللہ عنہما سے) فرمایا: ”اس کا پانی پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر اسے ڈال لو اور بشارت حاصل کرو“۔ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور ہدایت کے مطابق عمل کیا، پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا کہ اپنی ماں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دینا، چنانچہ انہوں نے ان کے لیے ایک حصہ چھوڑ دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف في شوال سنة ثمان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1624
1624 صحيح حديث أَبِي مُوسَى رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ حُنَيْن، بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقِي دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ، وَهَزَمَ اللهُ أَصْحَابَهُ قَالَ أَبُو مُوسى: وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ جُشَمِيٌّ بِسَهْمٍ فأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ فَأَشَارَ إِلَي أَبِي مُوسى، فَقَالَ: ذَاكَ قَاتِلِي الَّذِي رَمَانِي فَقَصَدْتُ لَهُ فَلَحِقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ: أَلاَ تَسْتَحِي أَلاَ تَثْبُتُ فَكَفَّ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ قُلْتُ لأَبِي عَامِرٍ: قَتَلَ اللهُ صَاحِبَكَ قَالَ: فَانْزِعْ هذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ، فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَقْرِىءِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلاَمَ، وَقُلْ لَهُ: اسْتَغْفِرْ لِي وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ، فَمَكُثَ يَسِيرًا، ثُمَّ مَاتَ فَرَجَعْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي بَيْتِهِ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ، وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرٍ بِظَهْرِهِ وَجَنْبَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا، وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ فَقُلْتُ: وَلِي فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا قَالَ أَبُو بُرْدَةَ (رَاوِي الْحَدِيثِ) : إِحْدَاهُمَا لأَبِي عَامِرٍ، والأُخْرَى لأَبِي مُوسى
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ حنین سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ایک لشکر کے ساتھ ابو عامر رضی اللہ عنہ کو وادیِ اوطاس کی طرف بھیجا، اس معرکہ میں درید بن صمہ سے مقابلہ ہوا، درید قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو شکست دے دی۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابو عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی بھیجا تھا، ایک تیر ابو عامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں آ کر لگا، بنو جُشم کے ایک شخص نے ان پر تیر مارا تھا جو ان کے گھٹنے میں پیوست ہو گیا تھا۔ میں ان کے پاس پہنچا اور عرض کیا: ”اے چچا! یہ تیر آپ کو کس نے مارا ہے؟“ انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ وہ جُشمی میرا قاتل ہے جس نے مجھے نشانہ بنایا ہے۔ میں اس کی طرف لپکا اور اس کے قریب پہنچ گیا، لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگ نکلا، میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں یہ کہتا جا رہا تھا: ”کیا تجھے شرم نہیں آتی؟ کیا تو ثابت قدم نہیں رہ سکتا؟“ آخر کار وہ رک گیا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلواروں سے وار کیے، میں نے اسے قتل کر دیا، پھر ابو عامر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آ کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قاتل کو قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”میرا یہ (گھٹنے میں سے) تیر نکال لو۔“ میں نے وہ تیر نکال لیا تو اس (زخم) سے پانی جاری ہو گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: ”اے بھتیجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔“ ابو عامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر مجھے اپنا امیر مقرر کر دیا، اس کے بعد وہ تھوڑی دیر ہی زندہ رہے اور پھر انتقال (شہادت) پا گئے۔ میں واپس ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بانوں کی ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے جس پر کوئی بستر نہیں بچھا ہوا تھا اور بانوں کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اور پہلو مبارک پر پڑ گئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور ابو عامر رضی اللہ عنہ کا سارا قصہ بیان کیا اور عرض کیا کہ انہوں نے دعائے مغفرت کی درخواست کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ» ”اے اللہ! عبید ابو عامر (رضی اللہ عنہ) کی مغفرت فرما۔“ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ» ”اے اللہ! قیامت کے دن اسے اپنی بہت سی مخلوق (انسانوں) سے بلند تر درجہ عطا فرمانا۔“ میں نے عرض کیا: اور میرے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا فرما دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا» ”اے اللہ! عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ) کے گناہوں کو معاف فرما اور قیامت کے دن اسے عزت والے مقام میں داخل فرما۔“ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان دعاؤں میں سے ایک ابو عامر رضی اللہ عنہ کے لیے تھی اور دوسری ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 55 باب غزاة أوطاس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
837. باب من فضائل الأشعريين رضی اللہ عنہ
باب: اشعریوں کی خوبیوں کا بیان
حدیث نمبر: 1625
1625 صحيح حديث أَبِي مُوسى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ، إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ (أَوْ قَالَ) الْعَدُوَّ، قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میرے اشعری احباب رات میں آتے ہیں تو میں ان کی قرآن کی تلاوت کی آواز پہچان جاتا ہوں، اگرچہ دن میں میں نے ان کی اقامت گاہوں کو نہ دیکھا ہو، لیکن جب رات میں وہ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی آواز سے میں ان کی اقامت گاہوں کو پہچان لیتا ہوں۔ میرے ان ہی اشعری احباب میں ایک مردِ دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈ بھیڑ ہو جاتی ہے—یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دشمن سے—تو ان سے کہتا ہے کہ میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لیے ان کا انتظار کر لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1626
1626 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ، فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلہ اشعر کے لوگوں کا جب جہاد کے موقعے پر توشہ کم ہو جاتا ہے، یا مدینے کے قیام میں ان کے بال بچوں کے لیے کھانے کی کمی ہو جاتی تو جو کچھ بھی ان کے پاس توشہ ہوتا ہے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں، پھر آپس میں ایک برتن کے برابر تقسیم کر لیتے ہیں، پس وہ میرے اور میں ان کا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 47 كتاب الشركة: 1 باب الشركة في الطعام والنهد والعروض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
838. باب من فضائل جعفر بن أبي طالب وأسماء بنت عميس وأهل سفينتهم رضی اللہ عنہ
باب: حضرت جعفر بن ابو طالب حضرت اسماء بنت عمیس اور ان کے ساتھ کشتی والوں کی خوبیاں کا بیان
حدیث نمبر: 1627
1627 صحيح حديث أَبِي مُوسى وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ عَنْ أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ، أَنَا وَأَخَوَانِ لِي، أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ، وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ، بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا: (يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينةِ) سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَة وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا، عَلَى حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَائِرةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ، حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ: مَنْ هذِهِ قَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَالَ عُمَرُ: الْحَبَشِيَّةُ هذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ: نَعَم قَالَ: سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْكُمْ فَغَضِبَتْ، وَقَالَتْ: كَلاَّ وَاللهِ كُنْتمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ، (أَوْ) فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللهِ وَفِي رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ اللهِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا، وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا، حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنَخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْأَلُهُ وَاللهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَيْهِ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ: فَمَا قُلْتِ لَهُ قَالَتْ: قلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ: لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ، أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ قَالَتْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً، يَسْأَلُونِي عَنْ هذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ، وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ، مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ (رَاوِي الْحَدِيثِ) قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسى وَإِنَّهُ لِيَسْتَعِيدُ هذَا الْحَدِيثَ مِنِّي
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو ہم یمن میں تھے، اس لیے ہم بھی آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی نیت سے نکل پڑے۔ میں اور میرے دو بھائی (نکلے)، میں دونوں سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی کا نام ابو بردہ رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرے کا ابو رہم رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے کہا کہ پچاس سے کچھ زائد یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ میری قوم کے تریپن (53) یا باون (52) لوگ بھی ساتھ تھے۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں لا ڈالا، وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہو گئی، جو پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہم نے وہاں انہی کے ساتھ قیام کیا، پھر ہم سب مدینہ اکٹھے روانہ ہوئے، یہاں ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے، کچھ لوگ ہم سے یعنی کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ”ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے“ اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں، ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لیے خدمت میں حاضر ہوئیں، وہ (اسماء رضی اللہ عنہا) بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے، اس وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں، جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ ”یہ کون ہیں؟“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ”اسماء بنت عمیس ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا: ”اچھا! وہی جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں؟“ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ”جی ہاں“۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ”ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلے میں زیادہ قریب ہیں“، اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا: ”ہرگز نہیں، خدا کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو، تم میں جو بھوکے ہوتے تھے انہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو ناواقف ہوتے انہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت و موعظت کیا کرتے تھے لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے، یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں ہی تو کیا ہے اور خدا کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہہ لوں، ہمیں اذیت دی جاتی تھی، دھمکایا ڈرایا جاتا تھا، میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھوں گی، خدا کی قسم! نہ میں جھوٹ بولوں گی، نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی (خلاف واقعہ بات کا) اضافہ کروں گی“۔ چنانچہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: ”یا نبی اللہ! عمر اس طرح کی باتیں کرتے ہیں“۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ یہ جواب دیا تھا۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں، انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا“۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعے کے بعد ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے، ان کے لیے دنیا میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی۔ ابو بردہ (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ مجھ سے اس حدیث کو بار بار سنتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہا، آپ نے اپنے خاوند حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی وہاں آپ کے بطن سے محمد، عبداللہ اور عون پیدا ہوئے۔ پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ حضرت جعفر شہید ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح کر لیا تھا۔ اور آپ کے بطن سے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح کر لیا تھا۔ یہاں آپ کے بطن سے یحییٰ پیدا ہوئے۔ جلیل القدر صحابہ آپ کے شاگرد ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
839. باب من فضائل الأنصار رضی اللہ عنہ
باب: انصار کی فضیلتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1628
1628 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ فِينَا (إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ) بَنِي سَلِمَةَ وَبَنِي حَارِثَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تُنْزَلْ؛ وَاللهُ يَقُولُ (وَاللهُ وَلِيُّهُمَا)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت ہمارے (یعنی بنی حارثہ اور بنی سلمہ کے) بارے میں نازل ہوئی تھی: ﴿إِذْ هَمَّتْ طَّائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا﴾ [سورة آل عمران: 122] ”جب تمہاری دو جماعتیں سستی کا ارادہ کر چکی تھیں۔“ میری یہ خواہش نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ آگے فرما رہا ہے: ﴿وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا﴾ [سورة آل عمران: 122] ”اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا۔“ (تو اللہ کی ولایت یہ کتنا بڑا شرف ہے جو ہم کو حاصل ہوا۔) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 18 باب إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1629
1629 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَزِنْتُ عَلَى مَنْ أُصِيبَ بِالحَرَّةِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ زَيْدُ ابْنُ أَرْقَمَ، وَبَلَغَهُ شِدَّةُ حُزْنِي، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ، وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام حرہ میں جو لوگ شہید کر دیے گئے تھے ان پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو میرے غم کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے مجھے لکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور ان کے بیٹوں کی بھی مغفرت فرما۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 63 سورة إذا جاءك المنافقون: 6 باب قوله (هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»