صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًا:
باب: انگور کو کرم کہنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2248 ترقیم شاملہ: -- 5872
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: الْحَبْلَةُ يَعْنِي الْعِنَبَ.
عیسیٰ بن یونس نے شعبہ سے، انہوں نے سماک بن حرب سے، انہوں نے علقمہ بن وائل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”(انگور اور اس کی بیل کو) کرم نہ کہا کرو۔ لیکن حبلہ کہہ لو۔“آپ کی مراد انگور سے تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5872]
علقمہ بن وائل اپنے والد (حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْكَرْمَ» ”کرم“ نہ کہو، لیکن انگور کو «الْحَبَلَةَ» ”حبلہ“ کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5872]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2248
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2248 ترقیم شاملہ: -- 5873
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: الْعِنَبُ وَالْحَبْلَةُ ".
عثمان بن عمر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے علقمہ بن وائل سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”کرم نہ کہو عنب اور حبلہ (انگور کی بیل) کہہ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5873]
حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا تَقُولُوا الْكَرْمَ، وَلَكِنِ الْعِنَبُ» ”کرم نہ کہو، لیکن عِنَب۔“” [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5873]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2248
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب حُكْمِ إِطْلاَقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ وَالْمَوْلَى وَالسَّيِّدِ:
باب: عبد یا امة یا مولیٰ یا سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2249 ترقیم شاملہ: -- 5874
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، وَأَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي، وَجَارِيَتِي، وَفَتَايَ، وَفَتَاتِي ".
لاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ البتہ یوں کہہ سکتا ہے: میرا لڑکا، میری لڑکی، میرا جوان، خادم، میری خادمہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5874]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرا بندہ، میری باندی، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری ساری عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں، لیکن یہ کہو: میرا غلام، میری لونڈی، میرا نوکر، میری خادمہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5874]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2249 ترقیم شاملہ: -- 5875
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي ".
جریر اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی غلام کو) میرا بندہ نہ کہے، پس تم سب اللہ کے بندے ہو، البتہ یہ کہہ سکتا ہے: میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے: میرا رب (پالنے والا) البتہ میرا سید (آقا) کہہ سکتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5875]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: «عَبْدِي» ”میرا بندہ۔““ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5875]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2249 ترقیم شاملہ: -- 5876
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ: مَوْلَايَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ: فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے:”غلام اپنے آقا کو میرا مولا نہ کہے۔“ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفاظ ہیں:”کیونکہ تمہارا مولا اللہ عزوجل ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5876]
یہی حدیث امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے: ”غلام اپنے سید کو «مَوْلَايَ» ”میرا مولیٰ“ کہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5876]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2249 ترقیم شاملہ: -- 5877
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: رَبِّي، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں (ایک یہ) ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (اپنے غلام یا کنیز سے) یہ نہ کہے: اپنے رب (پالنہار) کو پلاؤ، اپنے رب کو کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کراؤ۔“اور فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولا کہے۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، البتہ یوں کہے: میرا خادم، جوان، میری خادمہ، میرا لڑکا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5877]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کو سنائی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ کہو، اپنے رب کو پلا، اپنے رب کو کھلا، اپنے رب کو وضو کرا اور نہ یہ کہو میرا رب، اور یوں کہو میرا سید، میرا مولیٰ اور یہ نہ کہو میرا عبد، میری امہ (لونڈی) اور یوں کہو، میرا نوکر، میرا خادم، میرا غلام۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5877]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب كَرَاهَةِ قَوْلِ الإِنْسَانِ خَبُثَتْ نَفْسِي:
باب: یہ کہنا کہ میرا نفس پلیدہ ہو گیا، مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2250 ترقیم شاملہ: -- 5878
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي "، هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَكِنْ،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی۔ ابوکریب محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی۔ ان دونوں (سفیان اور ابواسامہ) نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: میرا جی (نفس، اپنا آپ) گندا ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہے: میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے۔“یہ ابوکریب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور ”لیکن“ کا لفظ نہیں کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5878]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک نہ کہے: «خَبُثَتْ نَفْسِي» ”میرا نفس خبیث ہو گیا ہے“، لیکن یوں کہے: «لَقِسَتْ نَفْسِي» ”میرا نفس خراب ہو گیا ہے۔““ ابوبکر کی حدیث میں «لَكِنْ» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5878]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2250
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2250 ترقیم شاملہ: -- 5879
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5879]
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے بھی سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5879]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2250
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2251 ترقیم شاملہ: -- 5880
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلْيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي ".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: میرا جی گندا ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہے: میرا جی بوجھل ہو گیا ہے (یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5880]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: «خَبُثَتْ نَفْسِي» ”میرا نفس خبیث ہو گیا ہے“، بلکہ یوں کہے: «لَقِسَتْ نَفْسِي» ”میرا نفس کاہل اور سست ہو گیا ہے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5880]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2251
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ:
باب: بہتر خوشبو مشک کا بیان اور خوشبو کو پھیر دینے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2252 ترقیم شاملہ: -- 5881
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا "، وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ.
ابواسامہ نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے خلید بن جعفر نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”بنی اسرائیل میں ایک پستہ قد عورت دو لمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں (ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا) بنوائیں اور سونے کی ایک بند، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سے اچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں (لمبی عورتوں) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔“اور شعبہ نے (شاگردوں کو دکھانے کے لیے) اپنا ہاتھ جھٹکا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5881]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں ایک پستہ قد عورت تھی، وہ دو لمبی عورتوں کے ساتھ چلتی تھی، اس لیے اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنوائیں اور سونے کی خول دار انگوٹھی بنوائی، جو بند ہوتی تھی، پھر اس کے اندر کستوری بھری اور وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے، تو وہ ان دو عورتوں کے درمیان سے گزری تو انہوں نے اسے پہچانا نہیں، تو اس نے اپنا ہاتھ جھٹکایا۔“ شعبہ نے اپنا ہاتھ جھاڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5881]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة