المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب الجنائز
جنازوں کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 523
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الثِّيَابِ الْبِيضِ لِيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ" .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑوں کو لازم پکڑو، تمہارے زندہ لوگ انہیں پہنا کریں اور اپنے فوت شدگان کو ان میں کفن دیا کرو۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف لانقطاعه والحديث صحيح: ابو قلابہ نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا، المستدرک للحاکم (185/4) میں ابو مطلب کا واسطہ ذکر ہے، جس کی بنیاد پر یہ سند حسن ہے، امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 3/135) نے بھی اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (تفسير ابن کثیر: 406/3، ت: سلامتہ) نے اس کی سند کو "جید" کہا ہے۔ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (2810) نے حسن صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کا بسند حسن شاہد سنن ابی داؤد (4061، 3878) سنن ترمذی (994) اور سنن ابن ماجہ (3566) میں بھی آتا ہے، اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5423) اور حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ (بيان الوهم والإيهام: 180/2) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدُ الْإِسْنَادِ، رِجَالُهُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ“ (تفسير ابن كثير: 406/3، ت: سلامة)۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف لانقطاعه والحديث صحيح
حدیث نمبر: 524
حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتُهُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ أَوْ فَخِذَيْهِ فَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کو قبر کے گڑھے میں ڈال دیا گیا، تو بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ کے حکم سے اسے قبر سے باہر نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے گھٹنوں یا رانوں پر رکھ کر اس کے منہ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا اور اسے اپنا قمیص پہنایا، واللہ اعلم۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1270، صحيح مسلم: 2773»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 525
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ يَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ: رَدُّ السَّلامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَازَةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان کے اپنے بھائی پر پانچ حقوق واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1240، تعليقاً من حديث عبد الرزاق به، صحيح مسلم: 2162»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 526
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَحَدُهُمَا أَوْ أَصْغَرُهُمَا مثل أُحُدٍ" ، وَقَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ:" وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی میت کا جنازہ پڑھا، اسے ایک قیراط (ثواب) ملے گا اور جو دفن ہونے تک اس کے ساتھ چلتا رہا، اسے دو قیراط (ثواب) ملیں گے، ایک قیراط یا چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔“ ابن مقری کے الفاظ یہ ہیں: ”جو دفن سے فارغ ہونے تک ساتھ رہا۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 45/945»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا فَخَيْرًا تُقَدِّمُونَهُ، وَإِنْ يَكُ شَرًّا فَشَرًّا تُلْقُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو جلدی لے کر چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بہتر مقام کی طرف پہنچا رہے ہو اور اگر وہ بد ہے تو وہ شر ہے، جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1315، صحيح مسلم: 944»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 528
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَحْمُودٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ".
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ دیکھیں تو (موت کے خوف کی وجہ سے) اس کے لیے کھڑے ہو جائیں حتیٰ کہ وہ آپ سے آگے گزر جائے یا نیچے رکھ دیا جائے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1307، صحيح مسلم: 958»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، قَالَ: ثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي جَنَازَةٍ فَقُمْنَا، وَرَأَيْتُهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جنازے کے لیے کھڑے ہوئے، تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ (جنازہ دیکھ کر) بیٹھے رہے، تو ہم بھی بیٹھے رہے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 84/962»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَإِنْ لَمْ تَكُنْ مَعَهَا مَاشِيًا فَقُمْ لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكَ أَوْ تُوضَعَ" ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رُبَّمَا تَقَدَّمَ الْجَنَازَةَ فَقَعَدَ، فَإِذَا رَآهَا قَدْ أَشْرَفَتْ قَامَ حَتَّى تُوضَعَ، قَالَ: وَرُبَّمَا سَتَرَ بِهِ.
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ جنازہ دیکھیں اور اس کے ساتھ نہ جا سکیں، تو اس کے لیے کھڑے ہو جائیں، حتیٰ کہ وہ آپ سے آگے گزر جائے یا (نیچے) رکھ دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بعض اوقات جنازے سے آگے نکل جاتے، تو بیٹھ جاتے، پھر جب سامنے دیکھتے، تو کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ اسے نیچے رکھ دیا جاتا اور بعض اوقات اوٹ میں چلے جاتے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1307، صحيح مسلم: 958»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 531
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ: ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا جاتا تھا لیکن سختی نہیں کی جاتی تھی۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 938، و أخرجه البخاري (1278)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُلٌّ قَدْ كَانَ خَمْسًا وَأَرْبَعًا، فَأُمِرَ بِأَرْبَعٍ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چار تکبیرات بھی ثابت ہیں اور پانچ بھی ثابت ہیں، پھر آپ نے (چار تکبیرات) کا حکم دیا۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند علي ابن الجعد: 95، شرح معاني الآثار للطحاوي: 495/1، السنن الكبرى للبيهقي: 37/4، جمہور ائمہ کے نزدیک امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے۔ (المستدرک للحاکم: 126/1)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح