المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب الجنائز
جنازوں کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کے دن لوگوں کو اس کی وفات کی خبر دی، پھر انہیں لے کر جنازہ گاہ کی طرف گئے، ان کی صفیں بنوائیں اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1245، صحيح مسلم: 951»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلانٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا" .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام فلاں کی نماز جنازہ پڑھی، جو زچگی کے وقت فوت ہو گئی تھیں، آپ اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1331، صحيح مسلم: 964»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ" سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا، جَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الإِمَامَ، وَالنِّسَاءَ يَلُونَ الْقِبْلَةَ، فَصَفَّهُمْ صَفًّا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَصَفَّا جَمِيعًا، وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَوُضِعَ الْغُلامُ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: هِيَ السُّنَّةُ" .
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نو (9) جنازوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی، مردوں کو امام کی طرف اور عورتوں کو قبلہ کی طرف رکھا، لوگوں کی صفیں بنوائیں۔ (اسی طرح) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیٹی، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا گیا اور دونوں پر اکٹھی صفیں بنائی گئیں، اس دن امامت کے فرائض سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے سرانجام دیے، (جنازہ پڑھنے والے) لوگوں میں سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید، اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ بچے کو امام کی جانب رکھا گیا۔ ایک آدمی (عمار مولی حارث) کہتا ہے: میں نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے عبداللہ بن عباس، ابو ہریرہ، ابو سعید اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر کہا: ”یہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن النسائي: 1980، سنن الدارقطني: 79/2، سنن الدارقطني: 80،79/2، السنن الكبرى للبيهقي: 33/4، اس کی سند کو حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع شرح المہذب: 224/5) نے حسن اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخیص الحبیر: 146/4) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 546
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلا، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ، إِلا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ میں اپنے ایک صحابی کا تذکرہ کیا، جو فوت ہو گیا، تو اسے چھوٹے سے کفن میں رات کو ہی دفن کر دیا گیا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو دفنانے پر زجر و توبیخ فرمائی حتیٰ کہ اس پر نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو، (یعنی دن کے وقت جنازہ میں زیادہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں) بجز اس کے کہ انسان ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو بہترین کفن دے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 546]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 943»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 547
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: ثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: ثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، قَالَ: أَنِي إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " دَخَلَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ، وَالْفَضْلُ، وَشَقَّ لَحْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ الَّذِي يَشُقُّ لُحُودَ قُبُورِ الشُّهَدَاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارنے کے لیے آپ کی قبر مبارک میں سیدنا عباس، سیدنا علی اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہم داخل ہوئے تھے، جو انصاری آدمی شہدا کی بغلی قبریں (لحد) کھودا کرتا تھا، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلی قبر (لحد) کھودی تھی۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 547]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: شرح مشكل الآثار للطحاوي: 2843، مسند البزار: 855، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6633) نے "صحیح" کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي قُبُورِهِمْ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ اپنے فوت شدگان کو ان کی قبروں میں رکھیں، تو یہ دعا پڑھیں: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ (اللہ کے نام پر اور اللہ کے رسول کی شریعت پر اسے قبر میں رکھ رہے ہیں)۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 548]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح وللحديث شواهد صحيحة: مسند الإمام أحمد: 27/2، سنن أبي داود: 3213، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3110) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (366/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ ہمام کی متابعت شعبہ نے کر رکھی ہے، شعبہ قتادہ سے بیان کریں، تو تدلیس کا اعتراض رفع ہو جاتا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح وللحديث شواهد صحيحة
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثَنِي عُقْبَةُ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " وُضِعَتْ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں ایک سرخ چادر رکھی گئی تھی۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 967»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمَّكَ قَدْ مَاتَ أَوْ أَبِي قَدْ مَاتَ، قَالَ: " اذْهِبْ فَوَارِهِ، قُلْتُ: إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ: اذْهَبْ فَوَارِهِ، فَوَارَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کے چچا فوت ہو گئے ہیں یا یوں کہا کہ میرے والد فوت ہو گئے ہیں۔“ فرمایا: ”جائیں اور انہیں دفن کر دیں۔“ میں نے کہا: ”وہ شرک کی حالت میں فوت ہوا ہے۔“ فرمایا: ”جائیں اور انہیں دفن کر دیں۔“ چنانچہ میں نے انہیں دفن کر کے آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جائیں اور غسل کریں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 550]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 97/1، سنن أبي داود: 3214، سنن النسائي: 2008، 190، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (کما في الإصابة لابن حجر: 114/7) نے صحیح کہا ہے، اس کا بسند حسن متصل شاہد مسند الطیالسی (ص: 19، ح: 120) میں آتا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ ، قَالَ: ثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَسْرُ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيِّتًا مثل كَسْرِهِ حَيًّا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فوت شدہ مؤمن کی ہڈی توڑنا ایسے ہی (گناہ) ہے، جیسے زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا (گناہ ہے)۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن له شواهد: مسند الإمام أحمد: 58/6، سنن أبي داود: 3207، سنن ابن ماجہ: 1616، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3167) نے صحیح کہا ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا وَهُوَ سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ فَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَوَثَّقَهُ الْأَكْثَرُونَ وَرَوَى لَهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ وَهُوَ كَافٍ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَبُو دَاوُدَ“ (المجموع شرح المهذب: 300/5)۔ حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ (بيان الوهم والإيهام: 212/4) نے حسن کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن له شواهد
حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے شہیدوں میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ہی کفن میں اکٹھا کرتے تھے، پھر پوچھتے: ”ان میں سے زیادہ قرآن کس کو یاد تھا؟“ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا، تو آپ اسے لحد میں پہلے اتارتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز میں ان لوگوں پر گواہ بنوں گا۔“ آپ نے انہیں خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا، نہ ان کا جنازہ پڑھایا اور نہ ہی انہیں غسل دیا۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1343»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح