🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الجنائز
جنازوں کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا، فَسَأَلُوهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا أَوْ كَبَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیرات کہا کرتے تھے، ایک جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پانچ تکبیرات کہا کرتے تھے، یا یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانچ تکبیرات کہی ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 533]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 957»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: تَقْرَأُ بِهَا؟ قَالَ: إِنَّهَا سُنَّةٌ وَحَقٌّ" .
طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، انہوں نے اس میں سورۃ فاتحہ کی قرأت کی، فارغ ہونے پر میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: آپ سورۃ فاتحہ (کیوں) پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا: یہ سنت اور حق ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 534]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1335»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِهَذَا.
یہ روایت ایک اور سند سے بھی مذکور ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 535]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1335»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 536
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَرَأَ عَلَى جَنَازَةٍ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، وَقَالَ: إِنَّمَا جَهَرْتُ لأُعْلِمَكُمْ أَنَّهَا سُنَّةٌ والإِمَامُ كفها" .
زید بن طلحہ تیمی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے جنازے میں سورۃ فاتحہ اور ایک اور سورۃ پڑھی اور جہری قرأت کی، پھر فرمایا: میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے جہری قرأت کی ہے کہ یہ بھی سنت ہے اور امام سری بھی پڑھ سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 536]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح، كما مر»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: ثَنِي أَبِي ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَجَهَرَ حَتَّى سَمِعْنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سُنَّةٌ وَحَقٌّ" ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: وَسُورَةٍ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بھتیجے طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، انہوں نے اس میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورۃ پڑھی، نیز جہری قرأت کی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: یہ سنت اور حق ہے۔ محمد بن یحیٰ کی سند سے بھی یہ روایت مذکور ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح كالشمس: سنن النسائي: 1987، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3071) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ قَوْلَ الصَّحَابِيِّ: سُنَّةٌ، حَدِيثٌ مُّسْنَدٌ“ (المستدرك على الصحيحين: 358/1)۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح كالشمس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: ثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، سَمِعَ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ ، يَقُولُ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ لَوْ كُنْتُ أَنَا ذَلِكُ الْمَيِّتُ.
سیدنا عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی، تو میں نے آپ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یاد کر لی، آپ دعا کر رہے تھے: اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے عذاب سے بچا، اس سے درگزر فرما، اس کی مہمانی اچھی طرح کر اور اس کی قبر فراخ کر دے، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اسے گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دے، جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیا ہے، اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا فرما، اس کے اہل سے بہتر اہل عطا فرما، اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی عطا فرما، اسے جنت میں داخل کر دے اور عذاب قبر سے بچا لے۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خواہش ہوئی کاش کہ یہ میت میں ہوتا! [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 963»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا بَحْرٌ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: ثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا.
یہ روایت ایک اور سند سے بھی منقول ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 963»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، يُحَدِّثُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: " السُّنَّةُ فِي الصَّلاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ تُكَبِّرَ، ثُمَّ تَقْرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تُخْلِصَ الدُّعَاءَ لِلْمَيِّتِ، وَلا تَقْرَأْ إِلا فِي التَّكْبِيرَةِ الأُولَى، ثُمَّ تُسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ عَنْ يَمِينِهِ" .
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ آدمی تکبیر کہے، پھر سورۃ فاتحہ پڑھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے، پھر میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرے، پہلی تکبیر کے علاوہ قرأت نہ کرے، پھر اپنے دل میں اپنی دائیں طرف سلام پھیر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا" .
ابو ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک میت کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: اے اللہ! ہمارے زندوں اور فوت شدگان کو بخش دے، حاضرین اور غائبین، چھوٹوں اور بڑوں، مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد: مسند الإمام أحمد: 170/4، سنن النسائي: 1988، سنن الترمذي: 1024، ابوابراہیم اشہلی مدنی ”مجہول“ ہے۔ اس حدیث کا ایک بسند حسن شاہد سنن ابی داؤد (3201) وغیرہ میں آتا ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ (3070) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (358/1) نے بخاری رحمہ اللہ اور مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 542
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: ثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: ثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ شَهِدَ ذَلِكَ، قَالَ:" مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ قَدْ دُفِنَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا قَبْرُ فُلانٍ تُوُفِّيَ الْبَارِحَةَ فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ لَيْلا فَيُصِيبَكَ بِشَيْءٍ أَوْ يَشُقَّ عَلَيْكَ فَدَفَنَّاهُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں موقع پر موجود تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، جس میں اسی رات میت دفن کی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کس کی قبر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، جو گذشتہ رات فوت ہو گیا تھا، ہم نے رات کے وقت آپ کو تکلیف دینا پسند نہ کیا کہ کہیں آپ پر گراں نہ گزرے، یا آپ تنگ نہ ہوں، چنانچہ ہم نے اسے دفن کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 542]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1247، صحيح مسلم: 954»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں