🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ما جاء في الشفعة
حقِ شفعہ کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، يُحَدِّثُ عَنِ الشَّرِيدِ ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" ، زَادَ أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو: مَا سَقَبُهُ؟ قَالَ: الشُّفْعَةُ، قُلْتُ: زَعَمَ النَّاسُ أَنَّهُ الْجِوَارُ؟ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ ذَلِكَ.
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی قربت کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے۔ ابو نعیم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے عمرو سے پوچھا: سقب سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس سے شفعہ مراد ہے۔ میں نے کہا: لوگ تو کہتے ہیں کہ اس سے پڑوس مراد ہے۔ انہوں نے کہا: لوگ تو یہی کہتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 389/4، مسند الطيالسي: 973-1272، سنن الدار قطني: 224/4، عبد الله بن عبد الرحمن بن یعلی ثقفی را وی جمہور محدثین کے نزدیک ”حسن الحدیث“ اور معتبر راوی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب ما جاء في الربا
سود کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنْ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهَ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا: یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1598»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، وَأَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالا: ثنا النَّضْرُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: ثنا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا، أَهْوَنُهَا عِنْدَ اللَّهِ كَالَّذِي يَنْكِحُ أُمَّهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود کے (گناہ کے) ستر حصے ہیں، اللہ کے نزدیک ان میں سب سے ہلکا گناہ اس شخص کے (گناہ کے) برابر ہے، جو اپنی ماں سے نکاح کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «ضعيف: التاريخ الكبير للبخاري: 95/5، الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 275/5، الموضوعات لابن الجوزي: 244/5-245، کیوں کہ: عکرمہ بن عمار (ثقہ) کی روایت یحیی بن ابی کثیر سے مضطرب (ضعیف) ہوتی ہے، یہ روایت بھی اسی سے ہے، امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: أَهْلُ الْحَدِيثِ يُضَعِفُونَ حَدِيثَ عِكْرِمَةَ عَنْ يَحْيِي وَلَا يَجْعَلُونَ فِيهِ حُجَّةً . (مشكل الآثار: 3064) امام یحیی بن سعید قطان رحمہ اللہ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 1710، وسندہ صحیح)، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ: (أيضاً: وسندہ صحیح) امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ (ایضا) و غیر ہم مکرمہ کی یحی بن ابی کثیر سے روایت ”مضطرب“ اور ”ضعیف“ قرار دیتے ہیں۔ المعجم الأوسط للطبرانی (158/3، ج:7151) میں عکرمہ کی متابعت عمر بن راشد یمامی نے کی ہے، اس کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ضَعْفَهُ جُمْهُورُ الأئمة . (مجمع الزوائد: 117/4) امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هُوَ مُرْسَلٌ لَّمْ يُدْرِكْ يَحْيَى وَلَا إِسْحَاقُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ . (المراسيل لابن أبي حاتم، ص 245، الرقم: 916)، اللآلي المصنوعة للسيوطي (127/2) میں طلحہ بن زید رقی ”ضعیف“ نے متابعت کی ہے، نیز اس تک سند بھی ثابت نہیں، اس روایت کے دیگر تمام شواہد ”ضعیف“ ہیں۔ یحی بن ابی کثیر ”مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الزَّعْفَرَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ سَوَاءٌ بِسَوَاءٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى الآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی چاندی کے بدلے اور سونا سونے کے بدلے مقدار میں برابر، برابر ہوں۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا، تو اس نے سود والا معاملہ کیا، لینے اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1584»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مثلا بِمِثْلِ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مثلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے اس وقت تک مت بیچیں، جب تک دونوں طرف سے برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا بیشی کو روا نہ رکھیں، چاندی چاندی کے بدلے اس وقت تک مت بیچیں، جب تک دونوں طرف سے برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا بیشی کو روا نہ رکھیں اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2177، صحیح مسلم: 1584»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مثلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ بِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے مقدار میں برابر، برابر ہوں اور نقد نقد کے برابر ہوں، جب یہ اقسام بدل جائیں، تو پھر جس طرح چاہیں بیچیں، جب کہ دست بدست (نقد) ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1587»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے، کھجور کھجور کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے، گندم گندم کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے، جو جو کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2134، صحيح مسلم: 1586»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ الأَحْمَسِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ح وَثَنًا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهَذَا حَدِيثُهُ عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ، حَتَّى خَصَّ إِلَى الْمِلْحِ" ، قَالَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي وَاللَّهِ لا أُبَالِي أَنْ لا أَكُونَ بِأَرْضِ مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ مَرْوَانُ: حَتَّى خَصَّاهُ أَنْ أَذْكُرَ الْمِلْحَ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر ہو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر ہو، حتی کہ آپ نے نمک کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں معاویہ کے علاقے میں نہ ہوں۔ مروان کہتے ہیں: دونوں راویوں نے اسے خصوصیت دی کہ میں نمک کا ذکر کروں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 319/5، سنن النسائي: 4570»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلا دِرْهَمَانِ بِدِرْهَمٍ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہمیں کھانے کے لیے گھٹیا کھجور دی جاتی تھی، تو ہم دو صاع دے کر (اچھی کھجور کا) ایک صاع لے لیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی، تو فرمایا: ایک صاع کے بدلے دو صاع (دینا) جائز نہیں، نہ ہی ایک درہم کے بدلے دو درہم جائز ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2080، صحيح مسلم: 1595»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 654
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلادَةَ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ" .
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار پیش کیا گیا، جس میں سونا اور نگینے لگے ہوئے تھے۔ وہ ہار مالِ غنیمت میں آیا تھا اور بیچا جا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار میں لگے ہوئے سونے کو الگ کرنے کا حکم دیا، تو اسے الگ کر لیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر وزن میں بیچا جا سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1591/89»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں