🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. أبواب القضاء في البيوع
خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيرًا وَاشْتَرَطَتْ ظَهْرَهُ إِلَى أَهْلِي" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر (واپس) جانے تک اس پر سوار ہونے کی شرط لگائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2385، صحیح مسلم: 715»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِي جَمَلَكَ، قَالَ: قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: بِعْنِيهِ، قُلْتُ: فَإِنَّ لِفُلانٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا فَأَخَذَهُ، ثُمَّ قَالَ: تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ أَمَرَ بِلالا أَنْ يُعْطِيَنِي" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنا اونٹ بیچ دیں۔ عرض کیا: بیچنا تو نہیں، البتہ آپ اسے یوں ہی لے لیں۔ فرمایا: بیچ دیں! میں نے کہا: میں نے فلاں آدمی کا ایک اوقیہ سونا دینا ہے، چنانچہ اس کے عوض یہ اونٹ آپ کا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ لے کر فرمایا: اپنے گھر تک اس پر سواری کر لیجیے۔ جب میں گھر آگیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے اوقیہ دے دیں۔ انہوں نے بقیہ حدیث بھی بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 715/111»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 637
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: ثني سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ عَمَّهُ ، عَنْ كَثِيرٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ مِنْهَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی ان شرائط پر ثابت رہیں، جو حق کے موافق ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 637]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف والحدیث حسن: مسند الامام احمد: 366/2، سنن ابی داود: 3594، سنن الدارقطنی: 27/3، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5091) نے صحیح کہا ہے۔ حمزہ بن مالک بن حمزہ اسلمی کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَلَمْ أَعرفه (مجمع الزوائد: 255/5) حمزہ بن مالک بن حمزہ اسلمی (ابن اخی سفیان بن حمزہ) کی متابعت موجود ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف والحدیث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: ثني سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 638]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف والحدیث حسن: حمزہ بن مالک مجہول الحال ہے، انظر الحدیث السابق»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف والحدیث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 639
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ تَمْرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اپنے بھائی کو کھجور (کا پھل دار درخت) بیچیں اور اس پر کوئی آفت آجائے، تو پھر اس سے کچھ وصول کرنا آپ کے لیے روا نہیں، آپ اپنے بھائی کا مال ناحق کیوں لیتے ہیں؟ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 639]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1554»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَضَعَ الْجَوَائِحَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفتوں کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ (یعنی اگر کوئی چیز آفت کی وجہ سے برباد ہو جائے تو اس کی قیمت نہ لی جائے۔) [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 640]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1554/17»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب ما جاء في الشفعة
حقِ شفعہ کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلا يَبِعْهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین یا کھجور (کا باغ) ہو، تو وہ اسے اپنے ساجھی پر پیش کیے بغیر فروخت نہ کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 307/3، سنن النسائي: 4704، سنن ابن ماجه: 2492، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5534) نے صحیح قرار دیا ہے۔ مسند حمیدی (1309) میں سفیان بن عیینہ اور ابو الزبیر نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكٍ لَمْ يُقْسَمْ رُبُعُهُ، أَوْ حَائِط لا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، فَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مشترکہ چیز میں شفعہ کا حق رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، خواہ مکان ہو یا باغ ہو، اپنے ساجھی کو اطلاع دیے بغیر اسے بیچنا مالک کے لیے جائز نہیں ہے۔ وہ (ساجھی) چاہے گا، تو خرید لے گا، چاہے گا، تو چھوڑ دے گا۔ اگر مالک ساجھی کو بتائے بغیر فروخت کر دے، تو ساجھی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1608»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلْمَان ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا، جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود مقرر ہو جائیں اور راستے بدل دیے جائیں، تو پھر شفعہ کا حق باقی نہیں رہتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2213»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الأَرْضِ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی ہمسائے کا گھر یا زمین خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 8/5-12، سنن أبي داود: 3517، سنن الترمذي 1368، اس حدیث کو امام ترندی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں