المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. باب المبايعات المنهي عنها من الغرر وغيره
دھوکہ دہی اور دیگر ممنوعہ خرید و فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1565»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ" ، قَالَ سُفْيَانُ:" وَثَلاثٌ لا يُمْنَعُهُنَّ: الْمَاءُ، وَالْكَلأُ، وَالنَّارُ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھاس (کی پیداوار) روکنے کے لیے زائد پانی نہ روکا جائے۔“ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”پانی، گھاس، اور آگ، تین چیزوں سے (کسی کو) نہ روکا جائے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2353، صحیح مسلم: 1566»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1554»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ" ، وَقَالَ الآخَرُ:" بَيْعِ السِّنِينَ، وَعَنِ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ، اور معاومہ (کئی سالوں کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔ ایک راوی کے الفاظ ہیں: ”کئی سالوں کی بیع اور دنیاوی (بیع) سے منع فرمایا ہے، البتہ عرایا (اندازہ کرنے) کی رخصت دی ہے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1536»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيٍ فَاتَّبِعْهُ وَلا تَبِعْ بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار کی طرف سے (قرض ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، جب آپ کو (قرض لینے کے لیے) کسی مالدار کے حوالے کیا جائے، تو قبول کیجیے اور ایک بیع میں دو سودے مت کیجیے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 71/2، سنن الترمذي: 1309، سنن ابن ماجه: 2404، شرح مشکل الآثار للطحاوی (2755) میں ہشیم بن بشیر نے یونس بن عبید سے اور یونس بن عبید نے نافع سے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، اس حدیث کا شاہد صحیح بخاری (2287) اور صحیح مسلم (1564) میں بھی آتا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 432/2-475-503، سنن النسائي: 4636، سنن الترمذي: 1231، السنن الكبرى للبيهقي: 343/5، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4973) نے صحیح کہا ہے۔ سنن ابو داؤد (3461، وسندہ حسن) میں الفاظ ہیں: ”مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسَهُمَا أَوِ الرِّبَا“۔ اس روایت کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4974) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 496/6) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (4/12-45) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثني عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: ثني أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلا رِبْحُ مَا لَمْ يَضْمَنْ، وَلا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض اور بیع جائز نہیں، نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں، جس چیز کے نقصان کا آدمی ضامن نہ ہو اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں، جو چیز آپ کے پاس موجود نہیں اس کی بیع بھی جائز نہیں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 174/2-179، سنن أبي داود: 3504، سنن النسائي: 4615، سنن الترمذي: 1234، سنن ابن ماجه: 2188، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/172) فرماتے ہیں: ”هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ جُمْلَةِ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ صَحِيحٌ“۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن والحديث صحيح
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: ثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى هُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: ثني يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي بُيُوعًا، فَمَا يَحِلُّ مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، " إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ" ، وَهَكَذَا قَالَ شَيْبَانُ، وَهَمَّامٌ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَعْلَى، عَنْ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ شَيْبَانَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثنا حَبَّانُ، قَالَ: ثنا هَمَّامٌ .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں کئی طرح کے سامان خریدتا ہوں، ان میں سے کیا حلال اور کیا حرام ہے؟“ فرمایا: ”بھتیجے! جب آپ کوئی سامان خریدیں تو اسے قبضہ میں لینے سے پہلے مت بیچنا۔“ اس کی اور بھی سندیں ہیں، جن میں لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن والحديث صحيحٌ: مسند الإمام أحمد: 402,401/3، سنن أبي داود: 3503، سنن النسائي: 4617، سنن الترمذي: 1232، سنن ابن ماجه: 2187، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4983) نے صحیح کہا ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”هذا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ“ (السنن الكبرى: 313/5)، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جَيِّدٌ حَسَنٌ بَلْ صَحِيحٌ“ (نخب الأفكار: 39/2)۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے صحیح ابن حبان (4983) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن والحديث صحيحٌ
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2183، صحیح مسلم: 1539»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَصْلُحُ بَيْعُ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ، قَالُوا: وَمَا صَلاحُهُ؟ قَالَ: تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکنے سے پہلے کھجوروں کو بیچنا جائز نہیں۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ”پکنے کی علامت کیا ہے؟“ فرمایا: ”سرخ یا زرد ہو جانا۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2195، صحیح مسلم: 1555»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح