صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2299 ترقیم شاملہ: -- 5988
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ، وَأَذْرُحَ، فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ".
عمر بن نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے سامنے ایسا حوض ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان کی مسافت ہے اس میں آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں جو اس تک پہنچے گا اور اس میں سے پیے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5988]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے آگے اتنا بڑا حوض ہے، جیسے کہ جرباء اور اذرح کا فاصلہ ہے، اس میں آسمان کے ستاروں کی مانند کوزے ہیں، جو اس پر پہنچے گا، سو اس سے پیے گا اور اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2299
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2300 ترقیم شاملہ: -- 5989
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ؟، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا، أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ آنِيَةُ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ، آخِرَ مَا عَلَيْهِ يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ".
عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! حوض کے برتن کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے (تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں)۔ یاد رکھو! جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہوتے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جو ان سے (شراب کوثر) پی لے گا وہ اپنے ذمے (جنت میں جانے کے دورانیے) کے آخر تک کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت (کی باران رحمت) کے دو پرنالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک (کا فاصلہ) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5989]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حوض کے برتن کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس کے برتن سیاہ رات، جس میں بادل نہ ہوں، کے نجوم و کواکب (ستارے و سیارے) کی تعداد سے زیادہ ہیں، وہ جنت کے برتن ہوں گے، جو ان سے پیے گا آخر تک پیاسا نہیں ہو گا، اس میں جنت کے دو پرنالے بہیں گے، جو اس میں سے پیے گا اسے پیاس نہیں لگے گی، اس کا عرض اور طول برابر ہے، عمان سے ایلہ کے فاصلہ کی مانند، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5989]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2300
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2301 ترقیم شاملہ: -- 5990
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ، فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ؟ فَقَالَ: مِنْ مَقَامِي إِلَى عَمَّانَ، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ؟ فَقَالَ: أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ ".
ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں اپنے حوض پر پینے کی جگہ سے اہل یمن (انصار اصلاً یمن سے تھے) کے لیے لوگوں کو ہٹاؤں گا۔ میں (اپنے حوض کے پانی پر) اپنی لاٹھی ماروں گا تو وہ ان پر بہنے لگے گا۔“آپ سے اس (حوض) کی چوڑائی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے کھڑے ہونے کی (اس) جگہ سے عمان تک۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (حوض) کے مشروب کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:”وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جنت سے دو پرنالے اس میں تیز سے شامل ہو کر اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5990]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض کی بلند جگہ پر کھڑا ہو کر اہل یمن کی خاطر لوگوں کو ہٹاؤں گا، میں اپنے عصا سے ماروں گا تاکہ پانی ان پر بہنے لگے، یعنی سب سے پہلے وہ پی سکیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے عرض کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری جگہ سے عمان تک۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اس میں دو پرنالے مسلسل پانی گرائیں گے، جنت سے، اس میں اضافہ کریں گے، ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5990]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2301
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2301 ترقیم شاملہ: -- 5991
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هِشَامٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ.
شیبان نے قتادہ سے ہشام کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر اس نے اس طرح کہا:”میں قیامت کے دن حوض کے پانی پینے کی جگہ پر ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5991]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن حوض کے پاس اونٹوں کی جگہ پر ہوں گا۔“ یعنی بلند جگہ پر پلانے والے کی جگہ پر۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5991]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2301
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2301 ترقیم شاملہ: -- 5992
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثَ الْحَوْضِ، فَقُلْتُ لِيَحْيَي بْنِ حَمَّادٍ : هَذَا حَدِيثٌ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ ، فَقَالَ: وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا مِنْ شُعْبَةَ، فَقُلْتُ: انْظُرْ لِي فِيهِ، فَنَظَرَ لِي فِيهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ.
محمد بن بشار نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حماد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی حدیث روایت کی، میں نے یحییٰ بن حماد سے کہا: یہ حدیث آپ نے ابوعوانہ سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: اور شعبہ سے بھی سنی ہے۔ میں نے کہا: میری خاطر اس میں نگاہ (بھی) ڈالیں (آپ کے صحیفے میں جہاں لکھی ہوئی ہے اسے بھی پڑھ لیں) انہوں نے میری خاطر اس میں نظر کی (اسے پڑھا) اور مجھے وہ حدیث بیان کی، (ان کی روایت میں کسی بھول چوک کا بھی امکان نہیں)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5992]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ ہے کہ محمد بن بشار رحمہ اللہ نے یحییٰ بن حماد رحمہ اللہ سے کہا: ”یہ حدیث آپ نے ابوعوانہ رحمہ اللہ سے سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے شعبہ رحمہ اللہ سے بھی سنی ہے“، تو میں نے کہا: ”میری خاطر اس پر نظر ڈالیے“، تو انہوں نے میری خاطر اس پر نظر ڈالی کہ مجھے یہ روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5992]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2301
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2302 ترقیم شاملہ: -- 5993
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالًا كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ ".
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض سے لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جس طرح اجنبی اونٹوں کو (اپنے گھاٹ سے) ہٹایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5993]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے حوض سے کچھ مردوں کو اس طرح ہٹاؤں گا، جس طرح اجنبی اونٹوں کو ہٹایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5993]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2302
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2302 ترقیم شاملہ: -- 5994
وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسی کے مانند۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5994]
امام صاحب کو مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد نے بھی سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5994]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2302
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2303 ترقیم شاملہ: -- 5995
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَدْرُ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ، وَصَنْعَاءَ مِنْ الْيَمَنِ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ".
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے حوض کی مقدار اتنی ہے جتنی ایلہ اور یمن کے صنعاء کے درمیان مسافت ہے اور اس کے برتنوں کی تعداد آسمان کے ستاروں کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5995]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کا فاصلہ ایلہ اور صنعائے یمن کے درمیان فاصلے جیسا ہے اور اس میں کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5995]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2304 ترقیم شاملہ: -- 5996
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ، اخْتُلِجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ: أَيْ رَبِّ أُصَيْحَابِي، أُصَيْحَابِي، فَلَيُقَالنَّ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حوض پر میرے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی آئیں گے حتیٰ کہ جب میں انہیں دیکھوں گا اور ان کو میرے سامنے کیا جائے گا تو انہیں مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے اٹھا لیا جائے، میں زور دے کر کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5996]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس حوض پر کچھ ایسے مرد آنے کی کوشش کریں گے جو میرے ساتھ رہے تھے، حتی کہ جب میں ان کو دیکھ لوں گا اور وہ میرے سامنے کیے جائیں گے، مجھ سے ورے ہی انہیں اچک لیا جائے گا تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی ہیں، میرے کچھ ساتھی ہیں! تو مجھے کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا نئے نئے کام نکالے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5996]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2304
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2304 ترقیم شاملہ: -- 5997
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْمَعْنَى وَزَادَ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ.
مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم میں روایت کی اور اس میں مزید یہ کہا: اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5997]
امام صاحب کے تین اور اساتذہ یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے: ”اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5997]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2304
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة