صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1392 ترقیم شاملہ: -- 5948
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْرُصُوهَا، فَخَرَصْنَاهَا، وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ: أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ، فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ، فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا، كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا؟ فَقَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ، دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ، فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَنَا آخِرًا، فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلْتَنَا آخِرًا، فَقَالَ: أَوَ لَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ ".
سلیمان بن بلال نے عمرو بن یحییٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عباس بن سہل بن سعد ساعدی سے، انہوں نے حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تبوک کی جنگ (غزوہ تبوک) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ وادی القریٰ (شام کے راستے میں مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے) میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اندازہ لگاؤ اس باغ میں کتنا میوہ ہے؟ ہم نے اندازہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے میں وہ دس وسق معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ جب تک ہم لوٹ کر آئیں تم یہ (اندازہ) گنتی یاد رکھنا، اگر اللہ نے چاہا۔ پھر ہم لوگ آگے چلے، یہاں تک کہ تبوک میں پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات تیز آندھی چلے گی، لہذا کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو، وہ اس کو مضبوطی سے باندھ لے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ زوردار آندھی چلی۔ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس کو ہوا اڑا لے گئی، اور (وادی) طے کے دونوں پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا۔ ابن العلماء حاکم ایلہ کا ایلچی ایک خط لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر تحفہ لایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر تحفہ بھیجی۔ پھر ہم لوٹے، یہاں تک کہ وادی القریٰ میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے باغ کے میوے کا حال پوچھا کہ کتنا نکلا؟ اس نے کہا پورا دس وسق نکلا۔ (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلدی جاؤں گا، لہذا تم میں سے جس کا دل چاہے وہ میرے ساتھ جلدی چلے اور جس کا دل چاہے ٹھہر جائے۔ ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ دیکھائی دینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ”طابہ“ ہے (طابہ مدینہ منورہ کا نام ہے) اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم اس کو چاہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ انصار کے گھروں میں بنی نجار کے گھر بہترین ہیں (کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے) پھر بنی عبدالاشہل کے گھر، پھر بنی حارث بن خزرج کے گھر۔ پھر بنی ساعدہ کے گھر اور انصار کے سب گھروں میں بہتری ہے۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہم سے ملے۔ حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کی بہتری بیان فرمائی تو ہم کو سب کے اخیر میں کر دیا؟ یہ سن کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے انصار کی فضیلت بیان کی اور ہم کو سب سے آخر میں کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ کافی نہیں ہے کہ تم خیر و برکت والوں میں سے ہو جاؤ؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5948]
حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو ہم وادی القریٰ میں ایک عورت کے باغیچے پر پہنچے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باغ کے پھل کا اندازہ لگاؤ۔“ ہم نے اس کا اندازہ لگایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اندازہ دس وسق لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورت! اس کے پھل کو یاد رکھنا، حتیٰ کہ ان شاء اللہ ہم تیرے پاس لوٹ آئیں۔“ ہم چل پڑے حتیٰ کہ تبوک پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات سخت آندھی چلے گی، تم میں سے کوئی اس میں نہ اٹھے، اور جس کے پاس اونٹ ہے، وہ اس کا بندھن مضبوط کر کے باندھے۔“ تو سخت آندھی چلی، ایک آدمی کھڑا ہوا، آندھی نے اس کو اٹھا کر طی قبیلہ کے دو پہاڑوں میں پھینک دیا، اور ایلہ کے حاکم ابنِ علماء کا ایلچی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط لایا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں سفید خچر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر تحفے میں دی، پھر ہم واپس پلٹے، حتیٰ کہ ہم وادی القریٰ پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے اس کے باغ کے بارے میں پوچھا: ”اس کا پھل کتنا نکلا؟“ اس نے کہا: دس وسق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیز رفتاری اختیار کرنے لگا ہوں، تم میں سے جو چاہے وہ میرے ساتھ تیز تیز چلے اور جو چاہے ٹھہر جائے۔“ سو ہم چلے حتیٰ کہ مدینہ پر جا جھانکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (مدینہ) پاک سرزمین «طَابَةُ» ہے اور یہ احد ہے اور یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں سے بہترین خاندان بنو نجار ہے، پھر بنو عبد الاشہل کا گھرانہ ہے، پھر بنو عبد الحارث بن خزرج کا خاندان ہے، پھر بنو ساعدہ کا خاندان ہے اور انصار کے تمام خاندانوں میں خیر و خوبی ہے۔“ پھر ہم سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما ملے تو حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری خاندانوں میں امتیاز قائم کیا تو ہمیں آخر میں قرار دیا؟ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے انصاری خاندانوں کی فضیلت و خوبی کا تذکرہ فرمایا تو ہمیں آخر میں ٹھہرایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ کافی نہیں ہے کہ تم بہترین لوگوں میں سے ہو؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1392 ترقیم شاملہ: -- 5949
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ، فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عفان اور مغیرہ بن سلمہ مخزومی دونوں نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عمرو بن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک:”اور انصار کے تمام گھروں میں خیر و برکت ہے۔“انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا قصہ، جو اس کے بعد ہے، ذکر نہیں کیا۔ اور وہیب کی حدیث میں مزید یہ بیان کیا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا سارا علاقہ (بطور حاکم) اس کو لکھ دیا، نیز وہیب کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5949]
یہی روایت امام صاحب کے دو اور اساتذہ نے بیان کی، لیکن اس میں صرف ”انصار کے ہر خاندان میں خیر ہے۔“ تک بیان کیا ہے اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا اور وہیب کی حدیث میں، ان کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب تَوَكُّلِهِ عَلَى اللَّهِ وَعِصْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُ مِنَ النَّاسِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توکل کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 843 ترقیم شاملہ: -- 5950
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، قَالَ: وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ، فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُ، قَالَ: فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز محمد بن جعفر بن زیاد نے۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ ابراہیم بن سعد سے، انہوں نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور لوگ اس وادی میں الگ الگ ہو کر سایہ ڈھونڈھتے ہوئے پھیل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص میرے پاس آیا، میں سو رہا تھا کہ اس نے تلوار اتار لی اور میں جاگا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوا تھا۔ مجھے اس وقت خبر ہوئی جب اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار آ گئی تھی۔ وہ بولا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ! پھر دوسری بار اس نے یہی کہا تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ۔ یہ سن کر اس نے تلوار نیام میں کر لی۔ وہ شخص یہ بیٹھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ بھی نہ کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5950]
ترقیم فوادعبدالباقی: 843
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 843 ترقیم شاملہ: -- 5951
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَمَعْمَرٍ.
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، ان دونوں کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نجد کی طرف ایک جنگ میں حصہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس ہوئے، ایک دن دوپہر کے آرام کا وقت ہو گیا، اس کے بعد انہوں نے ابراہیم بن سعد اور معمر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5951]
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف ایک جنگی سفر پر گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آئے، انہیں ایک دن ایک جگہ قیلولہ کرنا پڑا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 843
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 843 ترقیم شاملہ: -- 5952
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (واپس) آئے، یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع پہنچے، (پھر) زہری کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ نہیں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی تعرض نہ فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5952]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے حتیٰ کہ جب ہم ذات الرقاع پہنچ گئے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، لیکن اس میں یہ نہیں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ تعرض نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5952]
ترقیم فوادعبدالباقی: 843
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب بَيَانِ مَثَلِ مَا بُعِثَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت اور علم لے کر آئے ہیں اس کی مثال۔
ترقیم عبدالباقی: 2282 ترقیم شاملہ: -- 5953
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا مِنْهَا، وَسَقَوْا، وَرَعَوْا، وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ، وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ".
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس کی مثال جو اللہ نے مجھے ہدایت اور علم دیا، ایسی ہے جیسے زمین پر بارش برسی اور اس (زمین) میں کچھ حصہ ایسا تھا جس نے پانی کو چوس لیا اور چارا اور بہت سا سبزہ اگایا۔ اور اس کا کچھ حصہ کڑا سخت تھا، اس نے پانی کو جمع رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس (پانی) سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا کہ انہوں نے اس میں سے پیا، پلایا اور چرایا۔ اور اس کا کچھ حصہ چٹیل میدان ہے کہ نہ تو پانی کو روکے اور نہ گھاس اگائے (جیسے چکنی چٹان کہ پانی لگا اور چل دیا) تو یہ اس کی مثال ہے کہ جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو اس چیز سے فائدہ دیا جو مجھے عطا فرمائی، اس نے آپ بھی جانا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور جس نے اس طرف سر نہ اٹھایا (یعنی توجہ نہ کی) اور اللہ کی ہدایت کو جس کو میں دے کر بھیجا گیا قبول نہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5953]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہدایت اور علم اللہ بزرگ و برتر نے مجھے دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بارش کی ہے جو زمین پر برسی، اس کا ایک ٹکڑا زرخیز تھا اس نے پانی کو قبول کیا، اس نے گھاس اور بہت سا سبزہ پیدا کیا، اس کا ایک ٹکڑا بنجر تھا اس نے پانی کو روک لیا، اللہ نے لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچایا، لوگوں نے اس سے پانی پیا، جانوروں کو پلایا، کھیتی کو سیراب کیا اور اس کے ایک اور (ٹکڑے) پر بارش برسی، وہ بس چٹیل میدان تھا، نہ وہ پانی روکتا ہے اور نہ گھاس اگاتا ہے، یہ ان لوگوں کی تمثیل ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دے کر بھیجا ہے اس نے اس کو فائدہ پہنچایا، اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ان لوگوں کی تمثیل ہے، جنہوں نے اس کی طرف (علم و ہدایت کی طرف) سر اٹھا کر نہیں دیکھا اور جو ہدایت دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5953]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2282
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب شَفَقَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر کیسی شفقت تھی، اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2283 ترقیم شاملہ: -- 5954
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَاءَ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مُهْلَتِهِمْ، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ، فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ".
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے (یعنی دشمن کی فوج کو) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں، پس جلدی بھاگو۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5954]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور اللہ نے جو کچھ مجھے دے کر بھیجا ہے، اس کی تمثیل اس آدمی کی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں کہا، اے میری قوم! میں نے اپنی دونوں آنکھوں (دشمن کا) لشکر دیکھا ہے اور میں تمہیں کھلم کھلا ڈراتا ہوں، لہذا اپنی جان بچاؤ، تو اس کی قوم کے کچھ لوگوں نے اس کی بات مان لی اور رات کے شروع میں چل پڑے اور آہستہ آہستہ چلتے رہے اور ان میں سے کچھ لوگوں نے اس کو جھٹلایا اور صبح تک اپنی جگہ رہے، لشکر نے ان پر صبح صبح حملہ کیا، ان کو ہلاک کر دیا اور ان کو ختم کر ڈالا، یہی تمثیل ہے ان لوگوں کی جنہوں نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لایا ہوں اس کی پیروی کی اور جنہوں نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لے کر آیا ہوں، اس کو جھٹلایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5954]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2284 ترقیم شاملہ: -- 5955
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَتِ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهِ، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ، وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهِ ".
مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور میری امت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو حشرات الارض اور پتنگے اس آگ میں گرنے لگے۔ تو میں تم کو کمر سے پکڑ کر روکنے والا ہوں اور تم زبردستی اس میں گرتے جا رہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5955]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس میری مثال اور میری اُمت کی مثال یعنی ہماری تمثیل اس آدمی کی مثال ہے جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے، سو میں تمہیں کمروں سے پکڑ رہا ہوں اور تم اس میں چھلانگیں لگا رہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2284 ترقیم شاملہ: -- 5956
وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5956]
امام صاحب رحمہ اللہ کو یہی روایت دو اور اساتذہ نے سنائی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2284 ترقیم شاملہ: -- 5957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ، وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ، وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا "، قَالَ: فَذَلِكُمْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا.
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے گرد روشنی ہوئی تو اس میں کیڑے اور یہ جانور جو آگ میں ہیں، گرنے لگے اور وہ شخص ان کو روکنے لگا، لیکن وہ نہ رکے اور اس میں گرنے لگے۔ یہ مثال ہے میری اور تمہاری، میں تمہاری کمر پکڑ کر جہنم سے روکتا ہوں اور کہتا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ اور تم نہیں مانتے اسی میں گھسے جاتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5957]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اس آدمی کی مثال ہے جس نے آگ جلائی، جب آگ سے اس کا ارد گرد روشن ہو گیا تو پروانے اور یہ پتنگے اس آگ میں گرنے لگے اور وہ ان کو روکنے لگا اور وہ اس پر غالب آ کر اس میں گھسنے لگے، آپ نے فرمایا: یہ میری اور تمہاری تمثیل ہے، میں آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں سے پکڑے ہوئے ہوں، آگ سے ادھر آؤ، آگ سے ادھر آؤ، سو تم مجھ پر غالب آ کر، میرے قابو سے نکل کر، آگ میں چھلانگیں مار رہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة