🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2290 ترقیم شاملہ: -- 5968
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ "، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ،
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں، جو اس حوض پر پینے کے لیے آجائے گا، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انہیں جانتا ہوں گا، وہ مجھے جانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کردی جائے گی۔ابوحازم نے کہا: میں یہ حدیث (سننے والوں کو) سنا رہا تھا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی یہ حدیث سنی تو کہنے لگے: آپ نے سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5968]
حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں، جو اس حوض پر پینے کے لیے آ جائے گا، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انہیں جانتا ہوں گا، وہ مجھے جانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کر دی جائے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5968]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2291 ترقیم شاملہ: -- 5969
قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ، فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي.
نعمان بن ابی عیاش نے کہا: اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اس (حدیث) میں مزید یہ بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے:یہ میرے (لوگ) ہیں تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ تو میں کہوں گا: دوری ہو، ہلاکت ہو! ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد (دین میں) تبدیلی کردی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5969]
نعمان بن ابی عیاش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں، میں نے ان کو اس میں یہ اضافہ کرتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: وہ مجھ سے ہیں، یعنی میرے تعلق دار ہیں تو آپ کو جواب دیا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں ہے، انہوں نے آپ کے بعد کون سے عمل کیے تو میں کہوں گا: «سُحْقًا سُحْقًا» دوری ہے، دوری ہے، ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد تبدیلی کی۔ ابوحازم بیان کرتے ہیں: نعمان بن ابی عیاش نے سنا کہ میں انہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں تو انہوں نے کہا: کیا تو نے سہل کو اس طرح بیان کرتے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5969]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2291 ترقیم شاملہ: -- 5970
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
ابواسامہ نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (دوسری سند کے ساتھ ابوحازم نے) نعمان بن ابی عیاش سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یعقوب بن عبدالرحمان القاری کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5970]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حضرت سہل رضی اللہ عنہ والی حدیث منقول ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5970]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2292 ترقیم شاملہ: -- 5971
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ، وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا ".
نافع بن عمر جحمی نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرا حوض (لمبائی چوڑائی میں) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے (چاروں) کنارے برابر ہیں (مربع ہے)، اس کا پانی چاندی سے زیادہ چمکدار، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے، اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5971]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے چاروں کنارے برابر ہیں (طول و عرض یکساں ہے)، اس کا پانی چاندی سے زیادہ چمکدار اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے، اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5971]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2293 ترقیم شاملہ: -- 5972
(حديث مرفوع) قَالَ: وَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ "، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا.
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حوض میں (موجود) میں ہوں گا تا کہ دیکھوں کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے، کچھ لوگوں کو مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو کہا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا (کچھ) کیا؟ آپ کے بعد انہوں نے اپنی ایڑیوں پر واپس گھومنے میں (ذرا) دیر نہیں کی۔(نافع نے) کہا: ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے:اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جائیں یا ہمیں کسی آزمائش میں ڈال کر اپنے دین سے ہٹا دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5972]
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر رہوں گا تاکہ ان لوگوں کو دیکھوں جو میرے پاس آئیں گے اور کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے پکڑ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری راہ پر چلنے والے اور میرے ساتھ ہیں، تو جواب دیا جائے گا: کیا تمہیں معلوم نہیں، انہوں نے تمہارے بعد کیا عمل کیے؟ اللہ کی قسم! یہ تمہارے بعد مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے رہے۔ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کے شاگرد کہتے ہیں کہ وہ یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا» اے اللہ! ہم ایڑیوں پر لوٹنے سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور اس سے کہ اپنے دین سے برگشتہ ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2294 ترقیم شاملہ: -- 5973
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ: " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ، فَلَأَقُولَنَّ: أَيْ رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے اور فرما رہے تھے:میں حوض پر ہوں گا۔ انتظار کر رہا ہوں گا کہ پاس پینے کے لیے کون آتا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے کچھ لوگوں کو کاٹ (کر الگ کر) دیا جائے گا، تو میں کہوں گا: میرے رب! (یہ) میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر پلٹتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5973]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں میں یہ فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر ہوں گا، میں تم میں سے اپنے پاس آنے والوں کا منتظر ہوں گا، سو اللہ کی قسم! مجھ سے ورے کچھ آدمی روک لیے جائیں گے، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے پیروکار اور میرے امتی ہیں، سو وہ فرمائے گا: تمہیں معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا عمل کیے، یہ ہمیشہ اپنے الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5973]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2294
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2295 ترقیم شاملہ: -- 5974
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي، قَالَتْ: إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ، وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ، فَقُلْتُ: إِنِّي مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، فَأَقُولُ: فِيمَ هَذَا؟، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا ".
بکیر نے قاسم بن عباس ہاشمی سے روایت کی، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبیداللہ بن رافع سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں لوگوں سے سنتی تھی کہ وہ حوض (کوثر) کا ذکر کرتے تھے۔ میں نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی، پھر ان (میری باری کے) دنوں میں سے ایک دن ہوا۔ اور خادمہ میری کنگھی کر رہی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:اے لوگو!میں نے خادمہ سے کہا: مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ! وہ کہنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو پکارا (مخاطب فرمایا) ہے عورتوں کو نہیں۔ میں نے کہا: میں بھی لوگوں میں سے ہوں (صرف مرد ہی لوگ نہیں ہوتے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میرے پاس تم میں سے کوئی اس طرح نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور دھکیلا جا رہا ہو، جس طرح بھٹکے ہوئے اونٹ کو (ریوڑ سے) اور دور دھکیلا جاتا ہے۔ میں پوچھوں گا۔ یہ کس وجہ سے ہو رہا ہے؟ تو کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئے کام نکالے تھے۔ تو میں کہوں گا دوری ہو! [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5974]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں لوگوں سے حوض کا تذکرہ سنتی تھی اور اس کا ذکر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا تھا، ایک دن ایک لڑکی مجھے کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اے لوگو! میں نے لڑکی سے کہا: مجھ سے دور ہو جاؤ، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے، عورتوں کو نہیں بلایا، تو میں نے کہا: میں بھی لوگوں میں داخل ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، تم ہوشیار ہو جاؤ، تم میں سے کوئی اس حال میں نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور ہٹایا جائے، جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ ہٹایا جاتا ہے، سو میں کہوں گا: یہ کس بنا پر ہوا؟ تو کہا جائے گا: تمہیں معلوم نہیں، انہوں نے تیرے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں، تو میں کہوں گا: دوری ہو، اس کو دور لے جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2295 ترقیم شاملہ: -- 5975
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ: أَيُّهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: كُفِّي رَأْسِي، بِنَحْوِ حَدِيثِ بُكَيْرٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ.
ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں عبداللہ بن رافع نے حدیث سنائی، کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا، اس وقت وہ کنگھی کرا رہی تھیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اے لوگو!انہوں نے اپنی کنگھی کرنے والی سے کہا: میرا سر چھوڑ دو! جس طرح بکیر نے قاسم بن عباس سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5975]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا، جبکہ وہ کنگھی کروا رہی تھیں: اے لوگو! تو انہوں نے کنگھی کرنے والی سے کہا: میرے سر کے بالوں کو جمع کر دو، مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2296 ترقیم شاملہ: -- 5976
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور اہل احد پر اسی طرح نماز جنازہ پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے، پھر آپ پلٹ کر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تم پر گواہی دینے والا ہوں گا اور میں، اللہ کی قسم! جیسے اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں گا۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا (فرمایا:) زمین کی چابیاں عطا کی گئیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد تم شرک کرو گے۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم ان (خزانوں کے معاملے) میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو گے (کہ ان میں سے کون زیادہ فائدہ اٹھاتا اور زیادہ دولت مندی کا مظاہرہ کرتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5976]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن (گھر) سے نکلے اور شہدائے احد کے لیے، میت کی طرح دعا کی، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارے بارے میں گواہی دوں گا اور میں اللہ کی قسم! اب اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں یا زمین کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اللہ کی قسم! میں اپنے بعد تمہارے شرک کرنے کا خطرہ محسوس نہیں کرتا، لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2296 ترقیم شاملہ: -- 5977
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ، إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا، وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ "، قَالَ عُقْبَةُ: فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے شقیق بن سلمہ اسدی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میں کچھ اقوام (لوگوں) کے بارے میں (فرشتوں سے) جھگڑوں گا، پھر ان کے حوالے سے (فرشتوں کو) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں (بدعات) نکالی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5977]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے لیے دعا فرمائی، پھر منبر پر چڑھے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندوں اور مردوں کو رخصت فرما رہے ہیں اور فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس کی چوڑائی اتنی ہے جتنا ایلہ اور جحفہ کا درمیانی فاصلہ ہے۔ میں تمہارے بارے میں یہ خوف و خطرہ محسوس نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن میں تمہارے بارے میں یہ خدشہ محسوس کرتا ہوں کہ تم دنیا میں دلچسپی لو گے اور تباہ و برباد ہو جاؤ گے، جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، یہ آخری بار تھی جس میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں