صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب شَفَقَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر کیسی شفقت تھی، اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2285 ترقیم شاملہ: -- 5958
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا، وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا، وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکڑے اور پتنگے اس میں گرنے لگے۔ وہ شخص ہے کہ ان کو اس سے روک رہا ہے، میں تمہاری کمروں پر پکڑ کر تمہیں آگ سے ہٹا رہا ہوں اور تم ہو کہ میرے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5958]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور تمہاری تمثیل اس آدمی کی ہے جس نے آگ روشن کی تو پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ ان کو اس سے روک رہا تھا اور میں تمہیں آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں سے پکڑے ہوئے ہوں اور تم میرے ہاتھوں سے چھوٹ رہے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5958]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2285
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2286 ترقیم شاملہ: -- 5959
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ يَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ، فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو کہ میرے سے پہلے ہو چکے ہیں، ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کی زیبائش اور آرائش کی، لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی پس لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور انہیں وہ عمارت پسند آئی اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو نے ایک اینٹ یہاں کیوں نہ رکھ دی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5959]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور انبیاء کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جس نے ایک عمارت تعمیر کی اور اس کو خوب حسین و جمیل بنایا، سو لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور کہہ رہے تھے: اس سے خوبصورت مکان ہم نے نہیں دیکھا، مگر یہ اینٹ (جو چھوڑ دی گئی ہے) اور میں وہ (آخری) اینٹ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5959]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2286 ترقیم شاملہ: -- 5960
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ أَبُ وَالْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ، فَيَقُولُونَ: أَلَّا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً، فَيَتِمَّ بُنْيَانُكَ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ ".
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ (احادیث) ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ ہے کہ ابوالقاسم نے فرمایا:”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے (ایک عمارت میں) کئی گھر بنائے، انہیں بہت اچھا، بہت خوبصورت بنایا اور اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں، ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس (پوری عمارت) کو اچھی طرح مکمل کردیا، لوگ اس کے ارد گرد گھومنے لگے وہ عمارت انہیں بہت اچھی لگتی اور وہ کہتے: آپ نے اس جگہ ایک اینٹ کیوں نہ لگادی تاکہ تمہاری عمارت مکمل ہو جاتی۔“تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں ہی وہ اینٹ تھا (جس کے لگ جانے کے بعد وہ عمارت مکمل ہو گئی)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5960]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال، ایک آدمی کی مثال ہے، اس نے گھر بنائے، ان کو انتہائی حسین و جمیل اور مکمل بنایا، مگر ان کے کونوں میں سے ایک کونے کی ایک اینٹ (چھوڑ دی) سو لوگ گھومنے لگے اور عمارت ان کو پسند آ رہی تھی اور وہ کہہ رہے تھے: تو نے یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی کہ تیری عمارت مکمل ہو جاتی؟“ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہ اینٹ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5960]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2286 ترقیم شاملہ: -- 5961
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟، قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ".
ابوصالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو کہ میرے سے پہلے ہو چکے ہیں، ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کی زیبائش اور آرائش کی، لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی پس لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور انہیں وہ عمارت پسند آئی اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو نے ایک اینٹ یہاں کیوں نہ رکھ دی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5961]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک آدمی کی ہے، اس نے ایک عمارت تعمیر کی اور اس کو انتہائی حسین و جمیل بنایا، مگر اس کے کونوں میں سے ایک کونے کی اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد چکر لگانے لگے اور اس پر خوش ہو کر کہنے لگے: یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہی اینٹ ہوں اور میں نبیوں کا خاتم ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5961]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2286 ترقیم شاملہ: -- 5962
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور (سابقہ) انبیاء علیہم السلام کی مثال“پھر اسی (سابقہ حدیث کی) طرح حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5962]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور نبیوں کی مثال“ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5962]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2287 ترقیم شاملہ: -- 5963
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا، وَيَقُولُونَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ ".
عفان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیم بن حیان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور (مجھ سے پہلے) انبیاء علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس (سارے گھر) کو پورا کردیا اور اچھی طرح مکمل کردیا۔ لوگ اس میں داخل ہوتے، اس (کی خوبصورتی) پر حیران ہوتے اور کہتے: کاش! اس اینٹ کی جگہ (خالی) نہ ہوتی!“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس اینٹ کی جگہ (کو پرکرنے والا) میں ہوں، میں آیا تو انبیاء علیہم السلام کے سلسلے کو مکمل کردیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5963]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور انبیاء کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا، اس کو پورا اور مکمل بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے، تو لوگ اس میں داخل ہو کر اس پر تعجب کرنے لگے اور کہہ رہے تھے: یہ اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑی گئی؟ یا اے کاش یہ اینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہی اینٹ کی جگہ ہوں، میں نے آ کر انبیاء کی (آمد کو) ختم کر دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5963]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2287 ترقیم شاملہ: -- 5964
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ بَدَلَ أَتَمَّهَا: أَحْسَنَهَا.
ابن مہدی نے کہا: ہمیں سلیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ اور ”اسے پورا کیا“ کے بجائے ”اسے خوبصورت بنایا“ کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5964]
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی اور «أَتَمَّهَا» ”اسے مکمل کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5964]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب إِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةَ أُمَّةٍ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا:
باب: جب کسی امت پر اللہ تعالیٰ کی مہر ہوتی ہے تو اس کا پیغمبر اس کے سامنے گزر جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2288 ترقیم شاملہ: -- 5965
قَالَ مُسْلِم: وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَمِمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ، عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ، فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ، وَعَصَوْا أَمْرَهُ ".
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ایک امت پر رحمت کرنا چاہتا ہے تو وہ اس امت سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے اور اسے (امت) سے آگے پہلے پہنچنے والا، (اس کا) پیش رو بنادیتا ہے۔ اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کے نبی کی زندگی میں عذاب میں مبتلا کردیتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے انہیں ہلاک کرتا ہے۔ انہوں نے جو اس کو جھٹلایا تھا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی تو وہ انہیں ہلاک کرکے اس (نبی) کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5965]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بزرگ و برتر اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے اس کے نبی کو قبض کر لیتا ہے اور اسے ان کے لیے پیش رو اور پیشوا بنا دیتا ہے اور جب کسی اُمت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو ان کے نبی کی زندگی میں ان کو عذاب سے دوچار کر دیتا ہے، سو وہ انہیں اس کے سامنے تباہ کر کے ان کی تباہی سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کے فرمان کی مخالفت کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5965]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2288
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
9. باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2289 ترقیم شاملہ: -- 5966
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ".
ہمیں زائدہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبدالمطلب بن عمیر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5966]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2289 ترقیم شاملہ: -- 5967
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
مسعر اور شعبہ دونوں نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5967]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5967]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة