صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب فِي سخَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2311 ترقیم شاملہ: -- 6018
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: لَا ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرمایا ہو۔ نہیں“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6018]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی چیز کے مانگنے پر ”نہیں“ نہ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2311 ترقیم شاملہ: -- 6019
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ . ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً.
اشجعی اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں نے سفیان سے انہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، بالکل اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6019]
امام صاحب کے دو اساتذہ اپنی اپنی سند سے یہی روایت، بالکل اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2312 ترقیم شاملہ: -- 6020
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ".
موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لانے) پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ وہ عطا فرماتے، کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا: میری قوم! مسلمان ہو جاؤ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6020]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام لانے کے وقت جو کچھ مانگ لیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عنایت فرما دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں دے دیں، تو وہ اپنی قوم کے پاس جا کر کہنے لگا: ”اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عنایت فرماتے ہیں کہ انہیں فقر و فاقہ کا خدشہ ہی نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2312
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2312 ترقیم شاملہ: -- 6021
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: " أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری قوم اسلام لے آؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک کوئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جاتا تھا، پھر جونہی وہ اسلام لاتا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6021]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی بکریاں مانگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دے دیں، سو وہ اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عطیہ دیتے ہیں کہ وہ فقر و فاقہ کا اندیشہ ہی نہیں رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انسان محض دنیا کی خاطر مسلمان ہوتا، تو اسلام لانے کے بعد اسے اسلام، دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2312
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2313 ترقیم شاملہ: -- 6022
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي، حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سو اونٹ پھر سو اونٹ۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فرمایا، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6022]
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کا غزوہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ نکلے اور حنین میں قتال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی نصرت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے، پھر سو اونٹ دیے، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے بتایا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا جو بھی عطا فرمایا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام لوگوں سے زیادہ مبغوض تھے، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (اس کے باوجود) دیتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2313
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2314 ترقیم شاملہ: -- 6023
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ، لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا "، وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ، فَلْيَأْتِ، فَقُمْتُ: فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ، أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي: عُدَّهَا، فَعَدَدْتُهَا، فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ، فَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا.
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، (اسی طرح) سفیان نے ابن منکدر سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز عمرو سے روایت ہے، انہوں نے محمد بن علی سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ انہی کے ہیں۔ کہا: سفیان نے کہا: میں نے محمد بن منکدر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، سفیان نے یہ بھی کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ان دونوں میں سے (بھی) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، (حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا (یعنی تین لپ بھر کر)۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ وہ مال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لیے حکم دیا کہ جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا، اتنا اور اتنا دیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے (تو تین لپ ہو گئے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6023]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2314 ترقیم شاملہ: -- 6024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ، فَلْيَأْتِنَا، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَة.
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز کہا: مجھے محمد بن منکدر نے (بھی) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی تھی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس (بحرین کے گورنر) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ (آگے) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6024]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ قرض ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وعدہ فرمایا ہو، وہ ہمارے پاس آ جائے، جیسا کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6024]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
15. باب رَحْمَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا بیان جو بچوں بالوں پر تھی اور اس کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2315 ترقیم شاملہ: -- 6025
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ كلاهما، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو سَيْفٍ، فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ، وَاتَّبَعْتُهُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ، قَدِ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ: أَمْسِكْ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَكَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَقَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”آج رات میرا ایک بیٹا پیدا ہوا ہے جس کا نام میں نے اپنے والد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو ابوسیف نامی لوہار کی بیوی حضرت ام سیف رضی اللہ عنہا کے سپرد کر دیا، پھر (ایک روز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے پاس جانے کے لیے چل پڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا ہم ابوسیف کے پاس پہنچے وہ بھٹی پھونک رہا تھا۔ گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ میں تیزی سے چلتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہو گیا اور کہا: ابوسیف! رک جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، وہ رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو منگوا بھیجا، آپ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور جو اللہ چاہتا تھا، آپ نے فرمایا (محبت وشفقت کے بول بولے)۔ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس بچے کو دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی آنکھوں) کے سامنے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور دل غم سے بھر ا ہوا ہے لیکن ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو، اللہ کی قسم! ابراہیم! ہم آپ کی (جدائی کی) وجہ سے سخت غمزدہ ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6025]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے تو میں نے اس کا نام اپنے باپ کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لوہار کی بیوی ام سیف کے سپرد فرمایا، لوہار کو ابو سیف کہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاں جانے کے لیے چلے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔ ہم ابو سیف کے پاس پہنچے، جبکہ وہ بھٹی دھونک رہا تھا اور گھر دھوئیں سے بھر گیا تھا تو میں جلدی جلدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلا اور میں نے کہا: اے ابو سیف! رک جا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، وہ رک گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو منگوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اللہ کو جو منظور تھا، فرمایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی جان نکل رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُنُونَ» ”آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمزدہ ہے اور ہم زبان سے صرف وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہے، اللہ کی قسم، اے ابراہیم! ہم تیرے فراق پر غمگین ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6025]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2315
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2316 ترقیم شاملہ: -- 6026
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ، وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ "، قَالَ عَمْرٌو : فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي، وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ، وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُكَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ ".
عمرو بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا، (آپ کے فرزند) ابراہیم مدینہ کی بالائی بستی میں دودھ پیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے، آپ گھر میں داخل ہوتے تو وہاں دھواں ہوتا کیونکہ ابراہیم کا رضاعی والد لوہار تھا۔ آپ بچے کو لیتے، اسے پیار کرتے اور پھر لوٹ آتے۔ عمرو (بن سعید) نے کہا: جب ابراہیم فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ دودھ پینے کے ایام میں فوت ہوا ہے، اس کی دودھ پلانے والی دو مائیں ہیں جو جنت میں اس کی رضاعت (کی مدت) مکمل کریں گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6026]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنی اولاد پر مہربان نہیں پایا، ابراہیم مدینہ کی بالائی بستی میں دودھ پیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں داخل ہوتے، جبکہ وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا، کیونکہ ابراہیم کا رضاعی باپ لوہار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کو پکڑتے، اسے بوسہ دیتے، پھر واپس آ جاتے، عمرو کہتے ہیں، جب ابراہیم وفات پا گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بیٹا ابراہیم، دودھ پیتے مر گیا ہے، اس کو دودھ پلانے والی ہے جنت میں، جو اس کی رضاعت مکمل کر رہی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6026]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2316
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2317 ترقیم شاملہ: -- 6027
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالُوا: لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ "، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ.
ابواسامہ اور ابن نمیر نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بادیہ سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے پوچھا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو کچھ بوسہ دیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو ان لوگوں نے کہا: لیکن واللہ! ہم تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر سے رحمت نکال دی ہے (تو کیا ہو سکتا ہے!)“ابن نمیر کی روایت میں ہے:”تمہارے دل سے رحمت نکال دی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6027]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھنے لگے کہ کیا تم بچوں کو بوسہ دیتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ ہاں۔ تو وہ کہنے لگے کہ لیکن ہم اللہ کی قسم! بوسہ نہیں دیتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں کیا کروں، اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے رحمت نکال لی ہے۔“ ابن خمیر کہتے ہیں: ”تیرے دل سے رحمت نکال لی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2317
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة