🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا:
باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2464 ترقیم شاملہ: -- 6339
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ، قَالَ شُعْبَةُ: بَدَأَ بِهَذَيْنِ، لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ.
ہمیں عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کچھ مزید بیان کیا، شعبہ نے کہا: آپ نے ان دونوں کے نام سے ابتداء کی، مجھے یاد نہیں کہ ان دونوں میں سے کس کا نام پہلے لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6339]
امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے، شعبہ نے کہا: استاد نے ان دو ناموں سے آغاز کیا اور مجھے معلوم نہیں کس کا نام پہلے لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6339]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2464
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب مِنْ فَضَائِلِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَجَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ:
باب: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور انصار کی ایک جماعت کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2465 ترقیم شاملہ: -- 6340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: " جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ "، قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ؟، قَالَ: أَحَدُ عُمُومَتِي.
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چار اشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ۔ قتادہ نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوزید کون؟ فرمایا: وہ میرے ایک چچا ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6340]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چار اشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ۔ قتادہ نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”ابو زید کون؟“ فرمایا: ”وہ میرے ایک چچا ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2465
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2465 ترقیم شاملہ: -- 6341
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا زَيْدٍ ".
ہمام نے کہا: قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن کس نے جمع کیا تھا؟ انہوں نے کہا: چار آدمیوں نے اور وہ چاروں انصار میں سے تھے: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، اور انصار کے ایک شخص جن کی کنیت ابوزید رضی اللہ عنہ تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6341]
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کن لوگوں نے قرآن مجید جمع کیا تھا؟ انہوں نے کہا: چار نے، جو سب انصاری تھے؛ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری آدمی جس کی کنیت ابوزید تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2465
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 799 ترقیم شاملہ: -- 6342
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيٍّ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ، قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ، قَالَ: اللَّهُ سَمَّاكَ لِي، قَالَ: فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي ".
ہمام نے کہا: قتادہ نے ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن مجید پڑھوں۔“ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے میرا نام لے کر کہا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا۔“ اس پر حضرت ابی رضی اللہ عنہ پر گریہ طاری ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6342]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تیرے سامنے قراءت کروں۔“ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اللہ نے میرا نام لے کر آپ کو فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے تیرا نام لیا ہے۔“ تو ابی (مسرت سے) رونے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 799
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 799 ترقیم شاملہ: -- 6343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ: لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة البينة آية 1، قَالَ: وَسَمَّانِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَبَكَى ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے (قرآن مجید کی یہ سورت): «لَمْ یَکُنِ الَّذِینَ کَفَرُوا» (البینہ 1: 98) تلاوت کروں۔“ (حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے) کہا: اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو وہ (حضرت ابی رضی اللہ عنہ) رونے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6343]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تجھے سورت ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة البينة: 1] سناؤں۔“ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اور میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو وہ خوشی سے رو پڑے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 799
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 799 ترقیم شاملہ: -- 6344
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ، بِمِثْلِهِ.
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اسی کے مانند (جو پچھلی روایات میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6344]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 799
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2466 ترقیم شاملہ: -- 6345
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ ".
ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا، فرمایا: ”ان کی (موت کی) وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آ گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6345]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جبکہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ ان کے سامنے رکھا ہوا تھا، فرمایا: ”ان کی (موت کی) وجہ سے عرشِ الٰہی جھوم گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2466 ترقیم شاملہ: -- 6346
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ".
ابوسفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد بن معاذ کی موت کی وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آ گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6346]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر رحمٰن کا عرش جھوم گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2467 ترقیم شاملہ: -- 6347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَجَنَازَتُهُ مَوْضُوعَةٌ يَعْنِي سَعْدًا، اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ ان کے جنازے کی چارپائی رکھی ہوئی تھی۔ ان کی مراد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے تھی۔ فرمایا: ”اس کی وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آ گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6347]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا جا چکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے عرشِ الٰہی جھوم گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6347]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2467
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2468 ترقیم شاملہ: -- 6348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمِسُونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا، فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَلْيَنُ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اس کو چھونے اور اس کی گدازی پر تعجب کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس حلے کی گدازی پر تعجب کرتے ہو، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہت زیادہ اچھے اور زیادہ ملائم ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6348]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی جوڑے کا تحفہ پیش کیا گیا تو آپ کے ساتھی اس کو چھونے لگے اور اس کی ملائمت پر تعجب کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس جوڑے کی ملائمت پر تعجب کرتے ہو؟ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنت میں تولیے، اس سے بہتر اور زیادہ نرم ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2468
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں