صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2468 ترقیم شاملہ: -- 6349
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِ حَرِيرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ . حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ هَذَا، أَوْ بِمِثْلِهِ.
احمد بن عبدہ ضبی نے کہا: ہمیں ابوداود نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے اسحاق نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ریشم کا کپڑا لایا گیا، اور (باقی) حدیث بیان کی، پھر ابن عبدہ نے کہا: ہمیں ابوداود نے خبر دی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی سے اسی طرح یا بالکل اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6349]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ریشمی کپڑے لائے گئے، آگے مذکورہ بالا حدیث یا اس کے ہم معنی روایت ہے۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی اس معنی کی حدیث منقول ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2468
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2468 ترقیم شاملہ: -- 6350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا كَرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ.
امیہ بن خالد نے کہا: ہمیں شعبہ نے یہ حدیث دونوں سندوں سے ابوداود کی روایت کی طرح بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6350]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2468
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2469 ترقیم شاملہ: -- 6351
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ، " وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ".
شیبان نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس (باریک ریشم) کا ایک جبہ ہدیہ کیا گیا، حالانکہ آپ ریشم (پہننے) سے منع فرماتے تھے، لوگوں کو اس (کی خوبصورتی) سے تعجب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ اچھے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6351]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی جبہ کا تحفہ پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ریشم (پہننے) سے منع فرماتے تھے تو لوگ اس سے تعجب کرنے لگے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے تولیے بھی اس سے زیادہ اچھے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6351]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2469
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2469 ترقیم شاملہ: -- 6352
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةِ الْجَنْدَلِ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ.
عمر بن عامر نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے (بادشاہ) اکیدر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حلہ ہدیہ کیا، پھر اسی کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ ذکر نہیں کیا: (حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ریشم سے منع فرماتے تھے)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6352]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دومۃ الجندل کے اکیدر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا تحفہ میں پیش کیا، اس میں ریشم سے منع کرنے کا ذکر نہیں ہے، باقی مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6352]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2469
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
25. باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي دُجَانَةَ سِمَاكِ بْنِ خَرَشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:
باب: سیدنا ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2470 ترقیم شاملہ: -- 6353
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا؟ فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ، كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ: أَنَا، أَنَا، قَالَ: فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ؟ قَالَ: فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ، قَالَ: فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِكِينَ ".
ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا: ”یہ مجھ سے کون لیتا ہے؟“ لوگوں نے ہاتھ پھیلائے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میں لوں گا میں لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا حق کون ادا کرے گا؟“ یہ سنتے ہی لوگ پیچھے ہٹے (کیونکہ احد کے دن کافروں کا غلبہ تھا) سیدنا سماک بن خرشہ ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کا حق ادا کروں گا۔ پھر انہوں نے اس کو لے لیا اور مشرکوں کے سر اس تلوار سے چیرے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6353]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا: ”یہ مجھ سے کون لیتا ہے؟“ لوگوں نے ہاتھ پھیلائے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میں لوں گا میں لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا حق کون ادا کرے گا؟“ یہ سنتے ہی لوگ پیچھے ہٹے (کیونکہ احد کے دن کافروں کا غلبہ تھا)، حضرت سماک بن خرشہ ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کا حق ادا کروں گا۔ پھر انہوں نے اس کو لے لیا اور مشرکوں کے سر اس تلوار سے چیرے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2470
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
26. باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالِدِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ما:
باب: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2471 ترقیم شاملہ: -- 6354
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيءَ بِأَبِي مُسَجًّى، وَقَدْ مُثِلَ بِهِ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ، فَنَهَانِي قَوْمِي، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ، فَنَهَانِي قَوْمِي، فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ، فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالُوا: بِنْتُ عَمْرٍو، أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو، فَقَالَ: وَلِمَ تَبْكِي، فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ ".
سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے ابن منکدر کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایا گیا، ان کا مثلہ کیا گیا تھا (ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں (اور دیکھوں) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر کپڑا اٹھایا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو (اس وقت) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: عمرو کی بیٹی (شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن) ہے یا (کہا:) عمرو کی بہن (شہید کی پھوپھی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں روتی ہے؟ ان (کے جنازے) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6354]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایا گیا، ان کا مثلہ کیا گیا تھا (ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں (اور دیکھوں) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر کپڑا اٹھایا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو (اس وقت) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: عمرو کی بیٹی (شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن) ہے یا (کہا:) عمرو کی بہن (شہید کی پھوپھی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں روتی ہے؟ ان (کے جنازے) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2471 ترقیم شاملہ: -- 6355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " أُصِيبَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، وَأَبْكِي، وَجَعَلُوا يَنْهَوْنَنِي، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي، قَالَ: وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو، تَبْكِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبْكِيهِ، أَوْ لَا تَبْكِيهِ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ ".
شعبہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ میرا باپ احد کے دن شہید ہوا تو میں اس کے منہ سے کپڑا اٹھاتا تھا اور روتا تھا۔ لوگ مجھے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کرتے تھے۔ اور عمرو کی بیٹی فاطمہ (یعنی میری پھوپھی) وہ بھی اس پر رو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو روئے یا نہ روئے، تمہارے اسے اٹھانے تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کیے ہوئے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6355]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرا باپ احد کے دن شہید ہوا تو میں اس کے منہ سے کپڑا اٹھاتا تھا اور روتا تھا۔ لوگ مجھے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کرتے تھے۔ اور عمرو کی بیٹی فاطمہ (یعنی میری پھوپھی) وہ بھی اس پر رو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو روئے یا نہ روئے، تمہارے اسے اٹھانے تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کیے ہوئے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6355]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2471 ترقیم شاملہ: -- 6356
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ الْمَلَائِكَةِ، وَبُكَاءُ الْبَاكِيَةِ.
ابن جریج اور معمر دونوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی، مگر ابن جریج کی حدیث میں فرشتوں اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6356]
امام صاحب دو اور اساتذہ کی سندوں سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، لیکن ابن جریج کی حدیث میں فرشتوں، ملائکہ اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6356]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2471 ترقیم شاملہ: -- 6357
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مُجَدَّعًا، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
عبدالکریم نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: احد کے دن میرے والد کو اس طرح لایا گیا کہ ان کی ناک اور ان کے کان کاٹ دیے گئے تھے، انہیں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6357]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، احد کے دن میرے باپ کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کی ناک اور کان کٹے ہوئے تھے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6357]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
27. باب مِنْ فَضَائِلِ جُلَيْبِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2472 ترقیم شاملہ: -- 6358
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ فَأَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فُلَانًا، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فُلَانًا، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ، فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَى، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَتَلَ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، قَالَ: فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحُفِرَ لَهُ، وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلًا.
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک جنگ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (فتح کے ساتھ) مال غنیمت دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں سے فرمایا: ”تم میں سے کوئی غائب تو نہیں ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کوئی اور تو غائب نہیں ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تو کوئی غائب نہیں ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جلیبیب رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتا۔“ لوگوں نے ان کو مردوں میں ڈھونڈا تو ان کی لاش سات لاشوں کے پاس پائی گئی جن کو سیدنا جلیبیب نے مارا تھا۔ وہ سات کو مار کر شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پھر فرمایا: ”اس نے سات آدمیوں کو مارا، اس کے بعد خود مارا گیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھا اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ہی اس کی چارپائی تھے۔ اس کے بعد قبر کھدوا کر اس میں رکھ دیا۔ اور راوی نے غسل کا بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6358]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک جنگ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (فتح کے ساتھ) مال غنیمت دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں سے فرمایا: ”تم میں سے کوئی غائب تو نہیں ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کوئی اور تو غائب نہیں ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تو کوئی غائب نہیں ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جلیبیب رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتا۔“ لوگوں نے ان کو مردوں میں ڈھونڈا تو ان کی لاش سات لاشوں کے پاس پائی گئی جن کو حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے مارا تھا۔ وہ سات کو مار کر شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پھر فرمایا: ”اس نے سات آدمیوں کو مارا، اس کے بعد خود مارا گیا، «هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ» ”یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔“”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھا اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ہی اس کی چارپائی تھے۔ اس کے بعد قبر کھدوا کر اس میں رکھ دیا گیا اور راوی نے غسل کا بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2472
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة