صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2482 ترقیم شاملہ: -- 6379
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ ".
معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ (کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتایا، میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6379]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات فرمائی تو میں نے آپ کے بعد کسی کو وہ نہیں بتائی، مجھ سے میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں پوچھا تو میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2482
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
33. باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2483 ترقیم شاملہ: -- 6380
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لِحَيٍّ يَمْشِي إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ".
عامر بن سعد نے کہا: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا، بلاشبہ وہ جنت میں جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6380]
حضرت عامر بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے بارے میں، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا یہ نہیں سنا کہ ”وہ جنتی ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2483
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2484 ترقیم شاملہ: -- 6381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: " كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ فَتَحَدَّثْنَا، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ، قُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ، قَالَ رَجُلٌ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ سَعَتَهَا، وَعُشْبَهَا، وَخُضْرَتَهَا، وَوَسْطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ، وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لِي: ارْقَهْ، فَقُلْتُ لَهُ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ، فَقَالَ: بِثِيَابِي مِنْ خَلْفِي وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ، فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ، فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقِيلَ لِيَ: اسْتَمْسِكْ فَلَقَدِ اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تِلْكَ الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى، وَأَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ، قَالَ: وَالرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ".
معاذ بن معاذ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی، کہا: میں مدینہ منورہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع کا اثر (نظر آتا) تھا، لوگوں میں سے ایک نے کہا: یہ اہل جنت میں سے ایک آدمی ہے۔ اس آدمی نے دو رکعت نماز پڑھی جن میں اختصار کیا پھر چلا گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گیا، میں بھی (اجازت) لے کر اندر گیا، پھر ہم نے آپس میں باتیں کیں۔ جب وہ کچھ میرے ساتھ مانوس ہو گئے تو میں نے ان سے کہا: جب آپ (کچھ دیر) پہلے مسجد میں آئے تھے تو آپ کے متعلق ایک شخص نے اس طرح کہا تھا۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کوئی بات کہے جس کا اسے پوری طرح علم نہیں اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کیونکر ہوا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا اور وہ خواب آپ کے سامنے بیان کیا۔ میں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں دیکھا۔ انہوں نے اس باغ کی وسعت، اس کے پودوں اور اس کی شادابی کے بارے میں بتایا۔ باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون تھا، اس کا نیچے کا حصہ زمین کے اندر تھا اور اس کے اوپر کا حصہ آسمان میں تھا، اس کے اوپر کی جانب ایک حلقہ تھا، مجھ سے کہا گیا: اس پر چڑھو۔ میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا، پھر ایک منصف آیا۔ ابن عون نے کہا: منصف (سے مراد) خادم ہے۔ اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے تھام لیے اور انہوں (عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) نے واضح کیا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے انہیں پیچھے سے اوپر اٹھایا تو میں اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ میں ستون کی چوٹی پر پہنچ گیا اور حلقے کو پکڑ لیا تو مجھ سے کہا گیا: اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور وہ میرے ہاتھ ہی میں تھا کہ میں جاگ گیا۔ میں نے یہ (خواب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ باغ اسلام ہے۔ اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ (ایمان کا) مضبوط حلقہ ہے اور تم موت تک اسلام پر رہو گے۔“ (قیس بن عباد نے) کہا: اور وہ شخص عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6381]
قیس بن عباد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں مدینہ منورہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین بھی تھے، پھر ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع کا اثر (نظر آتا) تھا، لوگوں میں سے ایک نے کہا: یہ اہل جنت میں سے ایک آدمی ہے۔ اس آدمی نے دو رکعت نماز پڑھی جن میں اختصار کیا پھر چلا گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گیا، میں بھی (اجازت) لے کر اندر گیا، پھر ہم نے آپس میں باتیں کیں۔ جب وہ کچھ میرے ساتھ مانوس ہو گئے تو میں نے ان سے کہا: جب آپ (کچھ دیر) پہلے مسجد میں آئے تھے تو آپ کے متعلق ایک شخص نے اس طرح کہا تھا۔ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کوئی بات کہے جس کا اسے پوری طرح علم نہیں اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کیونکر ہوا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا اور وہ خواب آپ کے سامنے بیان کیا۔ میں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں دیکھا۔ انہوں نے اس باغ کی وسعت، اس کے پودوں اور اس کی شادابی کے بارے میں بتایا۔ باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون تھا، اس کا نیچے کا حصہ زمین کے اندر تھا اور اس کے اوپر کا حصہ آسمان میں تھا، اس کے اوپر کی جانب ایک حلقہ تھا، مجھ سے کہا گیا: اس پر چڑھو۔ میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا، پھر ایک منصف آیا۔ ابن عون نے کہا: منصف (سے مراد) خادم ہے، اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے تھام لیے اور انہوں (عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) نے واضح کیا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے انہیں پیچھے سے اوپر اٹھایا تو میں اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ میں ستون کی چوٹی پر پہنچ گیا اور حلقے کو پکڑ لیا تو مجھ سے کہا گیا: اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور وہ میرے ہاتھ ہی میں تھا کہ میں جاگ گیا۔ میں نے یہ (خواب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ باغیچہ اسلام ہے اور وہ ستون، اسلام کا ستون ہے اور وہ کنڈا ﴿الْعُرْوَةِ الْوُثْقَى﴾ [سورة البقرة: 256] (مضبوط کنڈا) ہے اور تم موت تک اسلام پر قائم رہو گے“ اور وہ آدمی عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6381]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2484 ترقیم شاملہ: -- 6382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ : " كُنْتُ فِي حَلَقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، وَابْنُ عُمَرَ، فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ، فَقَالُوا: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُمْتُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُمْ قَالُوا كَذَا وَكَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ، إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ، وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ، وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ، فَقِيلَ لِيَ: ارْقَهْ، فَرَقِيتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى ".
قرہ بن خالد نے ہمیں محمد بن سیرین سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: قیس بن عباد نے کہا: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو لوگوں نے کہا: یہ اہل جنت میں سے ایک شخص ہے۔ میں اٹھا اور ان سے کہا: آپ کے متعلق لوگ اس طرح کہہ رہے تھے، انہوں نے کہا: سبحان اللہ! انہیں زیبا نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں (پوری طرح) علم نہ ہو۔ میں نے (خواب میں) دیکھا کہ ایک ستون جو ایک سرسبز باغ کے اندر لا کر اس میں نصب کیا گیا تھا۔ اس کی چوٹی پر ایک حلقہ تھا اور اس کے نیچے ایک منصف تھا۔ اور منصف خدمتگار ہوتا ہے۔ مجھ سے کہا گیا: اس پر چڑھ جاؤ۔ میں اس پر چڑھ گیا یہاں تک کہ حلقے کو پکڑ لیا، پھر میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ کی موت آئے گی تو اس نے عروہ ثقیٰ (ایمان کا مضبوط حلقہ) تھام رکھا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6382]
قیس بن عباد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو لوگوں نے کہا: ”یہ اہل جنت میں سے ایک شخص ہے۔“ میں اٹھا اور ان سے کہا: آپ کے متعلق لوگ اس اس طرح کہہ رہے تھے، انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» انہیں زیبا نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں (پوری طرح) علم نہ ہو۔ میں نے (خواب میں) دیکھا کہ ایک ستون جو ایک سرسبز باغ کے اندر لا کر اس میں نصب کیا گیا تھا، اس کی چوٹی پر ایک حلقہ تھا اور اس کے نیچے ایک وصیف (خدمت گار) تھا، اور وصیف خدمت گار ہوتا ہے۔ مجھ سے کہا گیا: ”اس پر چڑھ جاؤ۔“ میں اس پر چڑھ گیا یہاں تک کہ حلقے کو پکڑ لیا، پھر میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ کی موت آئے گی تو اس نے ﴿الْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ﴾ [سورة البقرة: 256] (ایمان کا مضبوط حلقہ) تھام رکھا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2484 ترقیم شاملہ: -- 6383
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ: " كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلَقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَفِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ، قَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ: أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ، قَالَ: فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ لَمَّا قُمْتَ مَنْ سَرَّهُ، أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّ، قَالُوا ذَاكَ: إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ، فَقَالَ لِي: قُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ، عَنْ شِمَالِي، قَالَ: فَأَخَذْتُ لِآخُذَ فِيهَا، فَقَالَ لِي: لَا تَأْخُذْ فِيهَا، فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، قَالَ: فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَى يَمِينِي، فَقَالَ لِي: خُذْ هَاهُنَا فَأَتَى بِي جَبَلًا، فَقَالَ لِيَ: اصْعَدْ، قَالَ: فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي، قَالَ: حَتَّى فَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ، وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ فِي أَعْلَاهُ حَلْقَةٌ، فَقَالَ لِيَ: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَزَجَلَ بِي، قَالَ: فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ، قَالَ: وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِكَ، فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، قَالَ: وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ، فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ ".
خرشہ بن حر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ کی مسجد کے اندر ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، کہا: اس میں خوبصورت ہیت والے ایک حسین و جمیل بزرگ بھی موجود تھے۔ وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے، کہا: انہوں نے ان لوگوں کو خوبصورت احادیث سنانی شروع کر دیں، کہا: جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا معلوم ہو، وہ اس کو دیکھے۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور ان کا گھر دیکھوں گا۔ پھر میں ان کے پیچھے ہوا، وہ چلے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ شہر سے باہر نکل جائیں، پھر وہ اپنے مکان میں گئے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت چاہی۔ انہوں نے اجازت دی، پھر پوچھا کہ اے میرے بھتیجے! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ جب آپ کھڑے ہوئے تو میں نے لوگوں کو سنا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا لگے، وہ ان کو دیکھے تو مجھے آپ کے ساتھ رہنا اچھا معلوم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جنت والوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور میں تجھ سے لوگوں کے یہ کہنے کی وجہ بیان کرتا ہوں۔ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ خواب میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کھڑا ہو۔ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا، میں اس کے ساتھ چلا، مجھے بائیں طرف کچھ راہیں ملیں تو میں نے ان میں جانا چاہا تو وہ بولا کہ ان میں مت جا، یہ بائیں طرف والوں (یعنی کافروں) کی راہیں ہیں۔ پھر دائیں طرف کی راہیں ملیں تو وہ شخص بولا کہ ان راہوں میں جا۔ پس وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے آیا اور بولا کہ اس پر چڑھ۔ میں نے اوپر چڑھنا چاہا تو پیٹھ کے بل گرا۔ کئی بار میں نے چڑھنے کا قصد کیا لیکن ہر بار گرا۔ پھر وہ مجھے لے چلا، یہاں تک کہ ایک ستون ملا جس کی چوٹی آسمان میں تھی اور تہہ زمین میں، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا۔ مجھ سے اس شخص نے کہا کہ اس ستون کے اوپر چڑھ جا۔ میں نے کہا کہ میں اس پر کیسے چڑھوں کہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے۔ آخر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا اور میں نے دیکھا کہ میں اس حلقہ کو پکڑے ہوئے لٹک رہا ہوں۔ پھر اس شخص نے ستون کو مارا تو وہ گر پڑا اور میں صبح تک اسی حلقہ میں لٹکتا رہا (اس وجہ سے کہ اترنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا)۔ کہتے ہیں پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو راہیں تو نے بائیں طرف دیکھیں، وہ بائیں طرف والوں کی راہیں ہیں اور جو راہیں دائیں طرف دیکھیں، وہ دائیں طرف والوں کی راہیں ہیں۔ اور وہ پہاڑ شہیدوں کا مقام ہے، تو وہاں تک نہ پہنچ سکے گا اور ستون، اسلام کا ستون ہے اور حلقہ، اسلام کا حلقہ ہے اور تو مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے گا۔“ (اور جب اسلام پر خاتمہ ہو تو جنت کا یقین ہے، اس وجہ سے لوگ مجھے جنتی کہتے ہیں) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6383]
خرشہ بن حر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد کے اندر ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، اس میں خوبصورت ہیئت والے ایک حسین و جمیل بزرگ بھی موجود تھے، وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے لوگوں کو خوبصورت احادیث سنانی شروع کر دیں، جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا: ”جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا معلوم ہو، وہ اس کو دیکھے۔“ میں نے (اپنے دل میں) کہا: ”اللہ کی قسم! میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور ان کا گھر دیکھوں گا۔“ پھر میں ان کے پیچھے ہوا، وہ چلے یہاں تک کہ قریب ہوا کہ وہ شہر سے باہر نکل جائیں، پھر وہ اپنے مکان میں گئے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت چاہی، انہوں نے اجازت دی، پھر پوچھا: ”اے میرے بھتیجے! تجھے کیا کام ہے؟“ میں نے کہا: ”جب آپ کھڑے ہوئے تو میں نے لوگوں کو سنا (کہتے ہوئے کہ) جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا لگے، وہ ان کو دیکھے، تو مجھے آپ کے ساتھ رہنا اچھا معلوم ہوا۔“ انہوں نے کہا: ”جنت والوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور میں تجھ سے لوگوں کے یہ کہنے کی وجہ بیان کرتا ہوں۔ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ خواب میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا: «قُمْ» ”کھڑے ہو جاؤ۔“ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا، میں اس کے ساتھ چلا، مجھے بائیں طرف کچھ راہیں ملیں تو میں نے ان میں جانا چاہا تو وہ بولا: «لَا تَسْلُكْهَا؛ فَإِنَّهَا سُبُلُ أَهْلِ الشِّمَالِ» ”ان میں مت جا، یہ بائیں طرف والوں (یعنی کافروں) کی راہیں ہیں۔“ پھر دائیں طرف کی راہیں ملیں تو وہ شخص بولا: «اسْلُكْ هَذِهِ السُّبُلَ» ”ان راہوں میں جا۔“ پس وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے آیا اور بولا: «اصْعَدْ» ”اس پر چڑھ جا۔“ میں نے اوپر چڑھنا چاہا تو پیٹھ کے بل گرا، کئی بار میں نے چڑھنے کا قصد کیا لیکن ہر بار گرا۔ پھر وہ مجھے لے چلا یہاں تک کہ ایک ستون ملا جس کی چوٹی آسمان میں تھی اور تہہ زمین میں، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا۔ مجھ سے اس شخص نے کہا: «اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا» ”اس ستون کے اوپر چڑھ جا۔“ میں نے کہا: میں اس پر کیسے چڑھوں کہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے؟ آخر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا اور میں نے دیکھا کہ میں اس حلقہ کو پکڑے ہوئے لٹک رہا ہوں۔ پھر اس شخص نے ستون کو مارا تو وہ گر پڑا اور میں صبح تک اسی حلقہ میں لٹکتا رہا (اس وجہ سے کہ اترنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا)۔“ کہتے ہیں: پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو راہیں تو نے بائیں طرف دیکھیں، وہ بائیں طرف والوں کی راہیں ہیں اور جو راہیں دائیں طرف دیکھیں، وہ دائیں طرف والوں کی راہیں ہیں۔ اور وہ پہاڑ شہیدوں کا مقام ہے، تو وہاں تک نہ پہنچ سکے گا اور رہا عمود تو وہ اسلام کا ستون ہے، رہا کنڈا تو وہ اسلام کا کنڈا ہے اور تو اسے ہمیشہ مضبوطی سے پکڑے رکھے گا، حتیٰ کہ فوت ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6383]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
34. باب فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2485 ترقیم شاملہ: -- 6384
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كُلُّهُمْ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ، قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے (معلوم ہوا کہ اشعار جو اسلام کی تعریف اور کافروں کی برائی یا جہاد کی ترغیب میں ہو مسجد میں پڑھنا درست ہے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (غصہ سے) دیکھا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں (اس وقت بھی) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے حسان! میری طرف سے جواب دے، اے اللہ اس کی روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) سے مدد کر۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں نے سنا ہے یا اللہ تو جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6384]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (غصہ سے) دیکھا۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں (اس وقت بھی) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”اے حسان! میری طرف سے جواب دے، اے اللہ! اس کی روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) سے مدد کر۔“”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، یا اللہ! تو جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2485 ترقیم شاملہ: -- 6385
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ : أَنَّ حَسَّانَ ، قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ایک حلقے میں کہا جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موجود تھے: ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟ اس کے بعد اس کے مانند یوں بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6385]
حضرت ابن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے اس مجلس میں جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موجود تھے، کہا: ”میں تم سے اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے نام سے سوال کرتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟“ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6385]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2485 ترقیم شاملہ: -- 6386
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَا حَسَّانُ، أَجِبْ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ ".
زہری نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کر رہے تھے، (کہہ رہے تھے:) میں تمہارے سامنے اللہ کا نام لیتا ہوں! کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”حسان! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے سے اس کی تائید فرما!“؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6386]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کر رہے تھے: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اے حسان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دے، «اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”اے اللہ! اس کی روح القدس سے تائید فرما۔““ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6386]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2486 ترقیم شاملہ: -- 6387
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: " اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ".
معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان (کافروں) کی ہجو کرو، یا (فرمایا:) ہجو میں ان کا مقابلہ کرو، جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6387]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے سنا: ”ان کی ہجو یا مذمت کرو، جبریل بھی تیرے ساتھ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6387]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2486 ترقیم شاملہ: -- 6388
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ كلهم، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر غندر اور عبدالرحمان (بن مہدی) دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6388]
امام صاحب یہ روایت اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة