🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ
حیض سے متعلقہ احکام کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 855 ترقیم الرسالہ : -- 867
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَرْفَجَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لا يَحِلُّ لِلنُّفَسَاءِ إِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ إِلا أَنْ تُصَلِّيَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جب نفاس والی عورت طہر دیکھ لے تو اب اس کے لیے نماز کو ترک کرنا جائز نہیں ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 867]
ترقیم العلمیہ: 855
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1645، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 867»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا يَلْزَمُ الْمَرْأَةَ مِنَ الصَّلَاةِ إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ
باب: جب عورت حیض سے پاک ہوجائے تو اس پر کون سی نماز لازم ہوگی؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 856 ترقیم الرسالہ : -- 868
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، أنا عُبَادَةُ بْنُ نُسِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَأَلْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَنِ الْحَائِضِ تَطْهُرُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ بِقَلِيلٍ؟ قَالَ:" تُصَلِّي الْعَصْرَ"، قُلْتُ: قَبْلَ ذَهَابِ الشَّفَقِ؟ قَالَ:" تُصَلِّي الْمَغْرِبَ"، قُلْتُ: قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ؟ قَالَ:" تُصَلِّي الْعِشَاءَ"، قُلْتُ: فَقَبِلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ؟ قَالَ:" تُصَلِّي الصُّبْحَ"، هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُعْلِمَ نِسَاءَنَا . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ایسی حائضہ عورت کے بارے میں دریافت کیا جو سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے پاک ہو جاتی ہے تو انہوں نے فرمایا: ”وہ عصر کی نماز ادا کرے گی۔“ میں نے دریافت کیا: ”جو شفق غروب ہونے سے پہلے پاک ہو جائے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ مغرب کی نماز ادا کرے گی۔“ میں نے دریافت کیا: ”اگر وہ صبح صادق ہونے سے پہلے پاک ہو گئی؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ عشاء کی نماز ادا کرے گی۔“ میں نے دریافت کیا: ”جو سورج طلوع ہونے سے پہلے پاک ہو جائے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ صبح کی نماز ادا کرے گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی ہدایت کی تھی: ”ہم عورتوں کو یعنی اپنی خواتین کو اس بات کی تعلیم دیں۔“ اس روایت کو محمد بن سعید نامی راوی نے نقل کیا ہے۔ یہ شخص متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 868]
ترقیم العلمیہ: 856
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 868، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«‏‏‏‏قال الدارقطني: لم يروه غير محمد بن سعيد وهو متروك الحديث سنن الدارقطني:، 868»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ مَعَ خُرُوجِ الدَّمِ السَّائِلِ مِنَ الْبَدَنِ
باب: جسم سے خون بہہ رہاہو تو اس کے ہمراہ نماز ادا کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 857 ترقیم الرسالہ : -- 869
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْكُوفِيُّ ، قَالا: ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، فَأَصَابَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ أَنَّهُ لا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نزل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلا، وَقَالَ الْقَاضِي: فَلَمَّا نزل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلا، قَالَ:" مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟"، قَالَ: فَيَبْتَدِرُ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ:" كُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ"، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ نَزَلُوا الشِّعْبَ مِنَ الْوَادِي، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلانِ إِلَى فَمِّ الشِّعْبِ قَالَ الأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ تُحِبُّ أَنْ أَكْفِيَكَ أَوَّلُهُ أَوْ آخِرُهُ؟ قَالَ: بَلِ اكْفِنِي أَوَّلَهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ، وَقَامَ الأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ عَادَ لَهُ بِالثَّالِثِ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ أَهَّبَ صَاحِبَهُ، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَقَدْ أَثْبَتَ فَوَثَبَ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ فَهَرَبَ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَفَلا أَهْبَبْتَنِي، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: أَفَلا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ؟ قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا فَلَمْ أُحِبُّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَأَذَنْتُكَ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْلا أَنِّي أُضِيعُ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ ذات الرقاع میں شریک ہوئے۔ اس دوران ایک شخص نے ایک مشرک عورت کے ساتھ صحبت کر لی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے تھے تو اس کا شوہر بھی آ گیا جو پہلے وہاں موجود نہیں تھا۔ اس نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک باز نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی ایک کا خون نہیں بہائے گا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہو گیا۔ جہاں کہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑاؤ کرتے (قاضی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں)۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”آج رات کو ہماری پہرے داری کون کرے گا؟“ تو ایک انصاری اور ایک مہاجر شخص آگے بڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں گھاٹی کے کنارے پر رہنا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے وادی کی گھاٹی میں پڑاؤ کیا۔ جب یہ دونوں حضرات گھاٹی کے سرے پر پہنچے تو انصاری شخص نے مہاجر سے کہا: ”تم رات کے کون سے حصے میں سونا پسند کرو گے، پہلے حصے میں یا آخری حصے میں؟“ اس نے کہا: ”پہلے حصے میں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ مہاجر شخص ہٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا۔ وہی شخص (مشرک) آیا۔ جب اس نے ایک شخص کا چہرہ دیکھا تو اسے پتہ چل گیا کہ یہ لوگوں کی حفاظت کے لیے ہے۔ تو اس نے اس انصاری کو تیر مارا جو اسے لگا۔ اس انصاری نے اس تیر کو نکالا، کھڑا رہا۔ پھر اس شخص نے دوسرا تیر مارا جو اسے لگا۔ تو انصاری نے اسے بھی نکال دیا اور خود نماز پڑھتا رہا۔ اس شخص نے تیسرا تیر مارا جو اس انصاری کو لگا تو اس انصاری نے اسے نکال کر رکھ دیا۔ پھر وہ انصاری رکوع میں گیا، پھر سجدے میں گیا، پھر اس نے اپنے ساتھی کو اٹھا دیا (اور اس سے کہا): ”اٹھ جاؤ کیونکہ میرا بہت خون بہہ گیا ہے۔“ جب اس مشرک نے ان دونوں حضرات کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اب یہ اسے ماریں گے۔ جب مہاجر نے انصاری کا خون بہتا ہوا دیکھا تو بولا: ”سبحان اللہ! تم نے مجھے پہلے بیدار کیوں نہیں کیا؟“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب اس نے تمہیں پہلے تیر مارا تھا تم نے اس وقت مجھے کیوں نہیں بتایا؟“ تو اس انصاری نے کہا: ”میں ایک ایسی سورت پڑھ رہا تھا، اسے ختم کرنے سے پہلے مجھے درمیان میں چھوڑنا اچھا نہیں لگا۔ لیکن جب اس شخص نے مسلسل میری طرف تیر اندازی کی تو پھر میں رکوع میں چلا گیا (نماز ختم کرنے کے بعد) پھر میں نے تمہیں بیدار کیا۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس چیز کی حفاظت کی ہدایت کی تھی اگر میں اس کو ضائع کرنے والا نہ ہوتا تو (میری یہ خواہش تھی) اس کو ختم کرنے سے پہلے مر جاتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 869]
ترقیم العلمیہ: 857
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 36، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1096، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 559، 560، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 198، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 673، 674، 18516، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 869، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14930، 15094»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 858 ترقیم الرسالہ : -- 870
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي، وَآخَرُونَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، نا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" صَلَّى وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا" .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نماز ادا کرتے رہے جبکہ ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 870]
ترقیم العلمیہ: 858
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3692، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 117، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1703، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 870، 871، 1511، 1750، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 579، 580، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8474، 30998، 38222، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8181»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 859 ترقیم الرسالہ : -- 871
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَآخَرُونَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 871]
ترقیم العلمیہ: 859
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3692، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 117، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1703، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 870، 871، 1511، 1750، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 579، 580، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8474، 30998، 38222، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8181»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابٌ فِي بَيَانِ الْعَوْرَةِ وَالْفَخِذُ مِنْهَا
باب: ستر کا بیان، ران اس کا حصہ ہے
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 860 ترقیم الرسالہ : -- 872
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، حَدَّثَنِي آلُ جَرْهَدٍ ، عَنْ جَرْهَدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ قَدِ انْكَشَفَتْ فَخِذُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ" .
سیدنا جرھد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے۔ وہ اس وقت مسجد میں تھے۔ انہوں نے ایسی چادر لی ہوئی تھی جس میں ان کی ران ظاہر ہو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ران پردے کی چیز ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 872]
ترقیم العلمیہ: 860
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1710، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7453، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4014، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2795،، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 880، 881، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 872، 873، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16172»
«قال ابن حزم: حديث جرهد فإنه عن ابن جرهد وهو مجهول وعن مجهولين ومنقطع، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 142)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 861 ترقیم الرسالہ : -- 873
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، نا سفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 873]
ترقیم العلمیہ: 861
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1710، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7453، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4014، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2795،، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 880، 881، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 872، 873، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16172»
«قال ابن حزم: حديث جرهد فإنه عن ابن جرهد وهو مجهول وعن مجهولين ومنقطع، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 142)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 862 ترقیم الرسالہ : -- 874
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَكْشِفْ عَنْ فَخِذِكَ فَإِنَّ الْفَخِذَ مِنَ الْعَوْرَةِ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: ”تم اپنی ران پر پردہ رکھنا کیونکہ ران پردے کی چیز ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 874]
ترقیم العلمیہ: 862
تخریج الحدیث: «إسناده منقطع، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 515، 516، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7455، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3140، 4015، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1460، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 874، 875، 1876»
«قال ابن الملقن: الانقطاع في موضوعين أحدهما بين ابن جريج وحبيب بن أبي ثابت وثانيهما بين حبيب وعاصم فإنه لم يسمعه منه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 142)»

الحكم على الحديث:
إسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 863 ترقیم الرسالہ : -- 875
وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَكْشِفْ عَنْ فَخِذِكَ، وَلا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلا مَيِّتٍ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: ”تم اپنی ران کو بے پردہ نہ کرنا اور کسی زندہ یا مردہ شخص کی ران کی طرف نہ دیکھنا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 875]
ترقیم العلمیہ: 863
تخریج الحدیث: «إسناده منقطع، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 515، 516، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7455، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3140، 4015، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1460، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 874، 875، 1876»
«قال ابن الملقن: الانقطاع في موضوعين أحدهما بين ابن جريج وحبيب بن أبي ثابت وثانيهما بين حبيب وعاصم فإنه لم يسمعه منه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 142)»

الحكم على الحديث:
إسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ جَوَازِ الْمَسْحِ عَلَى الْجَبَائِرِ
باب: پٹی پر مسح کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 864 ترقیم الرسالہ : -- 876
ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَهُوَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَبَائِرِ يَكُونُ عَلَى الْكَسِيرِ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ صَاحِبُهَا وَكَيْفَ يَغْتَسِلُ إِذَا أَجْنَبَ؟ قَالَ:" يَمْسَحَانِ بِالْمَاءِ عَلَيْهَا فِي الْجَنَابَةِ وَالْوُضُوءِ"، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ فِي بَرْدٍ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ إِذَا اغْتَسَلَ؟ قَالَ:" يَمُرُّ عَلَى جَسَدِهِ"، وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29، وَيَتَيَمَّمُ إِذَا خَافَ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پٹی کے بارے میں پوچھا جو زخم پر باندھی جاتی ہے کہ ایسا شخص وضو کیسے کرے گا، اور اگر وہ جنبی ہو جائے تو غسل کیسے کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص جنابت کی حالت میں پانی سے اس پر مسح کر لے گا۔“ پھر میں نے عرض کیا: اگر سردی ہو یا جان کا اندیشہ ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے پورے جسم پر مسح کر لے گا۔“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ”تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تمہارے بارے میں رحم کرنے والا ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”ایسے شخص کو جب اندیشہ ہو تو وہ تیمم کر لے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 876]
ترقیم العلمیہ: 864
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 657، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1100، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 876، 877، 878، 879، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 623»
«قال ابن الملقن: هذا الحديث ضعيف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (2 / 610)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں