🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الصُّلْحِ
 باب: صلح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2887 ترقیم الرسالہ : -- 2923
ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَصْرِ بْنِ بُجَيْرٍ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لَهُ غُنْمُهُ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" ،.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: رہن بند نہیں ہوتا، آدمی اس کا فائدہ لیتا ہے اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2923]
ترقیم العلمیہ: 2887
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2888 ترقیم الرسالہ : -- 2924
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2924]
ترقیم العلمیہ: 2888
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2889 ترقیم الرسالہ : -- 2925
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ الْحِنَّائِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الرَّوَّاسِ ، نَا كُدَيْرٌ أَبُو يَحْيَى ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لَكَ غُنْمُهُ، وَعَلَيْكَ غُرْمُهُ" ، أَرْسَلَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَغَيْرُهُ عَنْ مَعْمَرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: رہن بند نہیں ہوتا، تمہیں اس کا فائدہ ملے گا اور اس کا تاوان تمہارے ذمے ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2925]
ترقیم العلمیہ: 2889
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2890 ترقیم الرسالہ : -- 2926
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لَهُ غُنْمُهُ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" .
سعید بن مسیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: رہن بند نہیں ہوتا، اس کا فائدہ آدمی لیتا ہے اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2926]
ترقیم العلمیہ: 2890
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2891 ترقیم الرسالہ : -- 2927
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَرِمِيسِينِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِطَرَسُوسَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ الأَصَمُّ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، وَالرَّهْنُ لِمَنْ رَهَنَهُ، لَهُ غُنْمُهُ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: رہن بند نہیں ہوتا ہے، رہن اس شخص کے پاس ہوتا ہے، جس کے پاس اسے رکھوایا گیا ہے، وہ شخص اس کا فائدہ لیتا ہے اور اس کا تاوان بھی اس کے ذمے ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2927]
ترقیم العلمیہ: 2891
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»
«قال الدارقطني: وهذا إسناد حسن متصل، سنن الدارقطني: (3 / 437) برقم: (2920)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2892 ترقیم الرسالہ : -- 2928
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الظَّهْرِ يُرْكَبُ بِالنَّفَقَةِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کسی سواری کو گروی رکھا گیا ہو، تو آدمی خرچ ادا کر کے اس پر سواری کر سکتا ہے، اسی طرح جب کسی جانور کو گروی رکھا گیا ہو، تو اس کا دودھ دوہ سکتا ہے، جو شخص اوپر سواری کرتا ہے اور جو شخص اس کا دودھ پیتا ہے، اس کے خرچ اسی شخص کے ذمے ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2928]
ترقیم العلمیہ: 2892
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2511، 2512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 722، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5935، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2360، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1254، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2440، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2928، 2929، 2930، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7246»
«قال ابن عبدالبر: هذا الحديث ترده أصول يجتمع عليها وآثار ثابتة لا يختلف في صحتها، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (14 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2893 ترقیم الرسالہ : -- 2929
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ نَفَقَتُهُ وَيَرْكَبُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کسی جانور کو رہن رکھا گیا ہو، تو جس شخص کے پاس رہن رکھا گیا ہے، اس کا چارہ اسی شخص کے ذمے ہو گا، اسی طرح دودھ دینے والے جانور کا دودھ وہ شخص پی سکتا ہے، جو شخص دودھ پیتا ہے اور سوار ہوتا ہے، اس جانور کا خرچ اسی شخص کے ذمے ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2929]
ترقیم العلمیہ: 2893
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2511، 2512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 722، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5935، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2360، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1254، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2440، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2928، 2929، 2930، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7246»
«قال ابن عبدالبر: هذا الحديث ترده أصول يجتمع عليها وآثار ثابتة لا يختلف في صحتها، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (14 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2894 ترقیم الرسالہ : -- 2930
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: رہن (رکھے ہوئے جانور) پر سوار ہو جا سکتا ہے، اس کا دودھ دوہا جا سکتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2930]
ترقیم العلمیہ: 2894
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2511، 2512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 722، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5935، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2360، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1254، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2440، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2928، 2929، 2930، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7246»
«قال الدارقطني: والموقوف أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 112)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2895 ترقیم الرسالہ : -- 2931
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَدَّادُ ، نَا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّة الزَّارِعُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ" ، إِسْمَاعِيلُ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَهَذَا لا يَصِحُّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: رہن رکھی ہوئی چیز مکمل طور پر رہن شمار ہوتی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2931]
ترقیم العلمیہ: 2895
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11344، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2916، 2917، 2918، 2931»
«قال الدارقطني: إسماعيل هذا يضع الحديث وهذا لا يصح، سنن الدارقطني: (3 / 441) برقم: (2931)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2896 ترقیم الرسالہ : -- 2932
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ اللُّؤْلُئِيُّ ، نَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، نَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" أَشْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي دَرَقَةٍ سُلِّحْنَاهَا، وَأَشْرَكَنَا فِيمَا أَصَبْنَا، فَأَخْفَقْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، عمار اور سعد بن ابی وقاص کو مشترکہ طور پر ایک ڈھال دی، ہم نے مشرکین کے مال غنیمت میں سے جو چیزیں لی تھیں، آپ نے ان میں ہمیں شریک قرار دیا، میں اور عمار تو کچھ نہ لا سکے، البتہ سعد دو قیدی لے آئے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2932]
ترقیم العلمیہ: 2896
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3969، 4711، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4654، 6250، 8605، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3388، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2288، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11545، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2932، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 34301»
«قال الشيخ الألباني: ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3388»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں