🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الصُّلْحِ
 باب: صلح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2878 ترقیم الرسالہ : -- 2913M
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، نَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ" فِي الرَّجُلِ يُرْتَهَنُ الرَّهْنَ فَيُضِيعُ، قَالَ: إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ، رَدَّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ" .
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا ہے، جو کوئی چیز گروی رکھتا ہے اور پھر اسے ضائع کر دیتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر یہ ایسی چیز سے کم ہو، جس کے عوض میں اسے گروی رکھا گیا تھا، تو اس کے تمام حق کو اسے واپس کیا جائے اور اگر اس سے زیادہ ہو، تو وہ شخص امانت دار ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2913M]
ترقیم العلمیہ: 2878
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11347، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2913، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5897»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2879 ترقیم الرسالہ : -- 2914
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ وَرَّاقٌ الْحُمَيْدِيُّ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ذَكَرَ الْجَوَائِحَ بِشَيْءٍ" ، قَالَ سُفْيَانُ: فَلا أَدْرِي كَمْ ذَلِكَ الْوَضْعُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفت کی وجہ سے (معاوضے میں کمی کے حوالے سے) کچھ ذکر کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے کس حد تک کمی کا حکم دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2914]
ترقیم العلمیہ: 2879
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1534،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2287، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4531، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3370، 3373، 3374، 3375، 3404، 3405، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1290، 1313، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2659، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2216، 2218، 2266،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2912، 2914، 2941، 2990، 2991، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14542»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2880 ترقیم الرسالہ : -- 2915
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مَوْلًى لأُمِّ حَبِيبَةَ أَفْلَسَ، فَأُتِيَ بِهِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَضَى فِيهِ عُثْمَانُ ،" أَنْ مَنْ كَانَ اقْتَضَى مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يُفْلِسَ فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے غلام کو مفلس قرار دے دیا گیا، اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، تو اس کے بارے میں سیدنا عثمان نے یہ فیصلہ دیا: اس کے مفلس ہونے سے پہلے جس شخص نے اپنے حق میں سے کچھ وصول کر لیا تھا، وہ اس کا ہوا اور جو شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے، وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2915]
ترقیم العلمیہ: 2880
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11371، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2915»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2881 ترقیم الرسالہ : -- 2916
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ" ، لا يَثْبُتُ هَذَا عَنْ حُمَيْدٍ، وَكُلُّ مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شَيْخِنَا ضُعَفَاءُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: گروی رکھی ہوئی چیز مکمل طور پر (گروی شمار ہوتی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2916]
ترقیم العلمیہ: 2881
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11344، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2916، 2917، 2918، 2931»
«قال الدارقطني: هذا لا يثبت عن حميد ومن بينه وبين شيخنا كلهم ضعفاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 319)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2882 ترقیم الرسالہ : -- 2917
ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: گروی رکھی ہوئی چیز (مکمل طور پر گروی شمار ہوتی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2917]
ترقیم العلمیہ: 2882
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11344، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2916، 2917، 2918، 2931»
«قال الدارقطني: هذا لا يثبت عن حميد ومن بينه وبين شيخنا كلهم ضعفاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 319)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2882/2 ترقیم الرسالہ : -- 2918
قَالَ: وَحَدَّثَنَا قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ" إِسْمَاعِيلُ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَهَذَا بَاطِلٌ عَنْ قَتَادَةَ، وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گروی والی چیز اس کے ساتھ ہی ہوتی ہے، جو کچھ اس میں ہو۔ یہ اسماعیل نامی راوی حدیث گھڑتا تھا اور اس حدیث کا قتادہ اور حماد بن سلمہ سے مروی ہونا باطل ہے، واللہ اعلم۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2918]
ترقیم العلمیہ: 2882/2
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11344، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2916، 2917، 2918، 2931»
«قال الدارقطني: وهذا باطل عن قتادة وعن حماد بن سلمة والله أعلم، سنن الدارقطني: (3 / 437) برقم: (2918)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2883 ترقیم الرسالہ : -- 2919
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ الْخَبَّازُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ الْقَوَّاسُ ، نَا بِشْرُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ، نَا أَبُو عِصْمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُغَلُّ الرَّهْنُ، لَهُ غُنْمُهُ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" ، أَبُو عِصْمَةَ، وَبِشْرٌ، ضَعِيفَانِ، وَلا يَصِحُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: رہن بند نہیں ہوتا (اسے جس کے پاس رکھوایا گیا ہو)، اس کے فوائد وہ حاصل کرے گا اور اس کا تاوان بھی اسی شخص کے ذمے ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2919]
ترقیم العلمیہ: 2883
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»
«قال الدارقطني: أبو عصمة وبشر ضعيفان ولا يصح عن محمد بن عمرو، سنن الدارقطني: (3 / 437) برقم: (2919)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2884 ترقیم الرسالہ : -- 2920
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ لَهُ غُنْمُهُ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ الثِّقَاتِ، وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: رہن بند نہیں ہوتا، اس کے فوائد وہ حاصل کرے گا اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہو گا (جس کے پاس رہن رکھوایا گیا ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2920]
ترقیم العلمیہ: 2884
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»
«قال الدارقطني: وهذا إسناد حسن متصل، سنن الدارقطني: (3 / 437) برقم: (2920)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2885 ترقیم الرسالہ : -- 2921
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لِصَاحِبِهِ غُنْمُهُ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: رہن اس شخص کے لیے بند نہیں ہوتا، جس کے پاس رکھوایا گیا ہے، اس کا فائدہ وہ حاصل کرے گا اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2921]
ترقیم العلمیہ: 2885
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2886 ترقیم الرسالہ : -- 2922
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: رہن بند نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا فائدہ وہ آدمی لے گا اور تم پر اس کا تاوان ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2922]
ترقیم العلمیہ: 2886
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1336، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5934، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2328، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2441،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2919، 2920، 2921، 2922، 2923، 2924، 2925، 2926، 2927، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں