🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الصُّلْحِ
 باب: صلح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2907 ترقیم الرسالہ : -- 2943
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا إِلَى الْيَهُودِ مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور وہاں کے کھجوروں کے باغات یہودیوں کو دے دیے تھے کہ وہ (مسلمانوں کو) نصف ادائیگی کر دیا کریں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2943]
ترقیم العلمیہ: 2907
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3410، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1820، 2468، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11742، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2943، 2949، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2291، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2341، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 12062، 15001»
«قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3410»

الحكم على الحديث: إسناده حسن صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2908 ترقیم الرسالہ : -- 2944
ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَفَعَ خَيْبَرَ إِلَى أَهْلِهَا عَلَى الشَّطْرِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر وہاں کے رہنے والوں کو دے دیا تھا، اس شرط پر کہ وہ وہاں کی پیداوار میں سے، خواہ وہ پھل ہوں یا زراعت ہو، نصف (مسلمانوں کو) ادا کر دیا کریں گے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2944]
ترقیم العلمیہ: 2908
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2909 ترقیم الرسالہ : -- 2945
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا، وَقَالَ: " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ" .
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ طے کیا تھا کہ وہاں کی جو پیداوار ہو گی، خواہ وہ پھل ہوں یا زراعت ہو (اس کا نصف حصہ وہ لوگ مسلمانوں کو ادا کریں گے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2945]
ترقیم العلمیہ: 2909
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2910 ترقیم الرسالہ : -- 2946
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ أَبُو رَوَّادٍ بِمِصْرَ، نَا وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَجْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، كَانَ يَقُولُ:" كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ: إِنَّهُ قَدْ أَصَابَ التَّمْرُ مُرَاقٌّ وَأَصَابَهُ قُشَامٌ، عَاهَاتٌ كَانُوا يَحْتَجُّونَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ: أَمَا لا فَلا تَبْتَاعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُ الثَّمَرِ، كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے، جب فصل کاٹنے کا وقت ہوتا، تو قرض وصولی کرنے والا آ جاتا، تو جس نے ادائیگی کرنی ہوتی، وہ یہ کہتا تھا: اس دفعہ پیداوار کو فلاں آفت لاحق ہو گئی ہے، اس میں یہ خرابی آ گئی ہے، مختلف طرح کی آفات کا تذکرہ کرتے، جن کی وجہ سے لوگوں کے درمیان مقدمات ہونے لگے، جب یہ مقدمات زیادہ ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: تم اس وقت تک سودا نہ کرو، جب تک پھل پک کر تیار نہیں ہو جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے طور پر یہ بات کی تھی، کیونکہ اس بارے میں لوگوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف ہونے لگا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2946]
ترقیم العلمیہ: 2910
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3372، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10715، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2833، 2946، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22016، 22064، 22065، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5570، 5588، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4788، 4810، 4820، 4826، 4845، 4846، 4847، 4861، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8122»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2911 ترقیم الرسالہ : -- 2947
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ وَالزَّرْعِ" ، وَقَالَ يُوسُفُ: مِنَ النَّخْلِ وَالشَّجَرِ، قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: وَهِمَ فِي ذِكْرِ الشَّجَرِ، وَلَمْ يَقُلْهُ غَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے رہنے والوں کے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ وہاں پیدا ہونے والی کھجوروں اور زراعت میں سے نصف پیداوار کو وہ لوگ مسلمانوں کو ادا کیا کریں گے۔ روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2947]
ترقیم العلمیہ: 2911
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2912 ترقیم الرسالہ : -- 2948
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نَا عَمِّي ، نَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَاقَى يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى تِلْكَ الأَمْوَالِ عَلَى الشَّطْرِ، وَسِهَامُهُمْ مَعْلُومَةٌ، وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ إِنَّا إِذَا شِئْنَا أَخْرَجْنَاكُمْ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے رہنے والے یہودیوں کو وہاں کی زمینوں پر کام کرنے کی اجازت دی تھی، اس شرط پر کہ وہ نصف پیداوار (مسلمانوں کو ادا کریں گے) اور یہ حصے متعین تھے، آپ نے ان کے لیے یہ شرط رکھی تھی: جب ہم چاہیں گے، تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2948]
ترقیم العلمیہ: 2912
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2913 ترقیم الرسالہ : -- 2949
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، ح وثنا ابْنُ صَاعِدٍ نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَا أَبِي سَهْلُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ الْقَرَنِيُّ ، قَالا: نَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ" ، زَادَ ابْنُ عُمَرَ:" بِهِ أَعْطَى الْيَهُودَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور وہاں کی کھجوروں کے باغات نصف پیداوار کی ادائیگی کی شرط پر (یہودیوں کو) دیے تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2949]
ترقیم العلمیہ: 2913
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3410،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1820، 2468، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11742، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2943، 2949، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2291، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2341، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 12062، 15001»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2914 ترقیم الرسالہ : -- 2950
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَلامٍ ، نَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْطَى خَيْبَرَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ كُلِّ نَخْلٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ شَيْءٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں، زرعی پیداوار اور دیگر تمام (قسم کی پیداوار میں) نصف حصے کی ادائیگی کی شرط پر خیبر (کی زمین یہودیوں کو دی تھی)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2950]
ترقیم العلمیہ: 2914
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْعَارِيَّةِ
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2915 ترقیم الرسالہ : -- 2951
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا صَالِحُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَدْرَاعًا وَسِلاحًا فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ؟، قَالَ: عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ عارضی طور پر لیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر ہے، جسے واپس کر دیا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عارضی طور پر لیا ہے، جسے واپس کیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2951]
ترقیم العلمیہ: 2915
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2314، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11593، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2951»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2916 ترقیم الرسالہ : -- 2952
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا مُسْلِمٌ الْجُهَنِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: اسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ سِلاحًا، فَقَالَ صَفْوَانُ:" أَمُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے کچھ اسلحہ ادھار لیا، تو صفوان نے عرض کی: کیا یہ واپس کر دیا جائے گا، یا رسول اللہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2952]
ترقیم العلمیہ: 2916
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2952، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں