سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ الصُّلْحِ
باب: صلح کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2897 ترقیم الرسالہ : -- 2933
قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ لُوَيْنٌ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا أَبُو هَمَّامٍ الأَهْوَازِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْنِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا" ، قَالَ لُوَيْنٌ: لَمْ يُسْنِدْهُ أَحَدٌ، إِلا أَبُو هَمَّامٍ وَحْدَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں دو شراکت داروں کے ساتھ ہوتا ہوں، جب تک ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہیں کرتا، جب وہ خیانت کر لیتا ہے، تو میں ان دونوں کے درمیان سے نکل جاتا ہوں (یعنی میری رحمت ان کے ساتھ نہیں رہتی)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2933]
ترقیم العلمیہ: 2897
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2335، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3383، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11541، 11542، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2933، 2934»
ترقیم العلمیہ : 2898 ترقیم الرسالہ : -- 2934
ثنا هُبَيْرَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّيْبَانِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ النَّهَاوَنْدِيُّ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدُ اللَّهِ عَلَى الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ رَفَعَهَا عَنْهُمَا" .
ابوحیان تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ کا کرم دو شراکت داروں پر ہوتا ہے، جب تک ان میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کرتا، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے اپنا کرم اٹھا لیتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2934]
ترقیم العلمیہ: 2898
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2335، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3383، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11541، 11542، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2933، 2934»
ترقیم العلمیہ : 2899 ترقیم الرسالہ : -- 2935
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے امانت واپس کر دو اور جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2935]
ترقیم العلمیہ: 2899
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2935 انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 2900 ترقیم الرسالہ : -- 2936
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، وَقَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے وہ امانت ادا کر دو، جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2936]
ترقیم العلمیہ: 2900
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2309، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3535، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1264، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2639، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21359، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2936، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 9002، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 1831، 1832، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3595»
ترقیم العلمیہ : 2901 ترقیم الرسالہ : -- 2937
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَالِمٍ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، نَا ابْنُ شَوْذَبٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے امانت ادا کرو اور جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2937]
ترقیم العلمیہ: 2901
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2737، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2310، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21360، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2937، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 760، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 475»
«قال ابن حجر: أيوب بن سويد مختلف فيه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 209)»
«قال ابن حجر: أيوب بن سويد مختلف فيه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 209)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2902 ترقیم الرسالہ : -- 2938
ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى وَ، هِشَامٍ ابْنِي عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ اخْتَصَمَا فِي أَرْضٍ غَرَسَ أَحَدُهُمَا فِيهَا نَخْلا وَالأَرْضُ لِلآخَرِ،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَ لِصَاحِبِهَا، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ، وَقَالَ: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ" ، قَالَ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ رَأَى النَّخْلَ وَهِيَ عَمٌّ، تُقْلَعُ أُصُولُهَا بِالْفُؤُوسِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: الْعَمُّ: الشَّبَابُ، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ، قَالَ:" أَنْ تَأْتِيَ أَرْضَ غَيْرِكَ فَتَزْرَعَ فِيهَا".
عروہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا ہوا، ان دونوں میں سے ایک نے وہاں کھجور کا درخت لگایا تھا اور زمین دوسرے کی ملکیت تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ زمین اس کے مالک کو مل جائے گی، آپ نے کھجور لگانے والے سے کہا کہ تم اپنے درخت کو وہاں سے نکال لو، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی بے آباد جگہ کو آباد کرتا ہے، وہ اس آباد کرنے والے کو مل جاتی ہے، لیکن کوئی شخص کسی دوسرے کی زمین پر (زبردستی) کچھ نہیں لگا سکتا۔“ راوی کہتے ہیں: جن صاحب نے مجھے یہ روایت سنائی، انہوں نے یہ بتایا کہ انہوں نے اس کھجور کے درخت کو دیکھا ہے کہ بہت اونچا لمبا تھا، جس کی جڑیں کلہاڑی کے ذریعے کاٹی گئی تھیں۔ روایت کے یہ الفاظ کسی ظالم کے لیے نہیں ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ تم کسی دوسرے کی زمین میں جاؤ اور وہاں کاشت شروع کر دو (یعنی اس کی مرضی کے بغیر ایسا کرو)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2938]
ترقیم العلمیہ: 2902
تخریج الحدیث: «صحيح مرسل، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2335، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1355، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3073،برقم: 3076،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1378،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2938، 4506، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25523»
«قال الدارقطني: والمرسل عن عروة أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (4 / 414)»
«قال الدارقطني: والمرسل عن عروة أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (4 / 414)»
الحكم على الحديث: صحيح مرسل
ترقیم العلمیہ : 2903 ترقیم الرسالہ : -- 2939
وثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: إِنَّمَا تُزْرَعُ ثَلاثَةٌ، رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا، أَوْ رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُهَا، أَوْ رَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ" .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کاشت کاری تین طرح کی ہوتی ہے: ایک یہ کہ کسی شخص کی زمین ہو اور وہ اس میں کاشت کرے، ایک وہ شخص جسے عطیے کے طور پر کوئی زمین دی گئی ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور ایک وہ شخص جو سونے اور چاندی کے عوض میں زمین کرائے پر حاصل کرے (تو وہ اس میں کاشت کر سکتا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2939]
ترقیم العلمیہ: 2903
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2191، 2383، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1540،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5002، 5198، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3874، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3363، 3400، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1303، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2267، 2449، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2939، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16057»
ترقیم العلمیہ : 2904 ترقیم الرسالہ : -- 2940
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، نَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ " عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، فَقَالَ لَهُ أَبَى: الذَّهَبَ وَالْوَرِقَ؟، فَقَالَ: أَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلا بَأْسَ بِهِ" .
حنظلہ بن قیس زرقی یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج سے زمین کرائے پر لینے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے، تو حنظلہ نے ان سے دریافت کیا: ”کیا سونے اور چاندی کے عوض میں بھی؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”سونے اور چاندی کے عوض میں دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2940]
ترقیم العلمیہ: 2904
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2286، 2327، 2332، 2339، 2343، 2345، 2346، 2722، 4012، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1536،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1317، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3389، 3392، 3393، 3394،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1384، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2450، 2453، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2940، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2117، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 409، 410»
ترقیم العلمیہ : 2905 ترقیم الرسالہ : -- 2941
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، إِلا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے، البتہ سونے اور چاندی کے عوض میں (زمین کرائے پر دی جا سکتی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2941]
ترقیم العلمیہ: 2905
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1534،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4957، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3370، 3373، 3374، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1290، 1313، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2659، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2216، 2218، 2266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2912، 2914، 2941، 2990، 2991، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14542،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1316، 1317، 1318، 1319، 1329»
ترقیم العلمیہ : 2906 ترقیم الرسالہ : -- 2942
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" خَرَجَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَإِذَا هُوَ بِزَرْعٍ تَهْتَزُّ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذَا الزَّرْعُ؟، قَالُوا: لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَكَانَ أَخَذَ الأَرْضَ بِالنِّصْفِ أَوْ بِالثُّلُثِ، فَقَالَ: انْظُرْ نَفَقَتَكَ فِي هَذِهِ الأَرْضِ فَخُذْهَا مِنْ صَاحِبِ الأَرْضِ، وَادْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ وَزَرْعَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر جا رہے تھے کہ آپ نے ایک کھیت کو دیکھا، جو لہلہا رہا تھا، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کھیت کس کا ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: یہ کھیت سیدنا رافع بن خدیج کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، وہ نصف یا ایک تہائی پیداوار کے عوض میں زمین (کرائے پر) لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس زمین میں جو خرچ کیا ہے، اس کا حساب لگاؤ اور پھر زمین کے مالک سے اسے لے لو اور اس شخص کی زمین اور اس کا کھیت اس کے سپرد کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2942]
ترقیم العلمیہ: 2906
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2942، انفرد به المصنف من هذا الطريق»