🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الصُّلْحِ
 باب: صلح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2858 ترقیم الرسالہ : -- 2894
وَعَنْ وَعَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ مِنْ ذَلِكَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مسلمانوں کی شرائط کی پابندی کی جائے گی، جبکہ وہ حق کے مطابق ہوں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2894]
ترقیم العلمیہ: 2858
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2323، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14546، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2894»
«قال ابن حجر: وإسناده واه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 55)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2859 ترقیم الرسالہ : -- 2895
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ مَاهَانَ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلالِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَنَفْسِهِ كُتِبَ لَهُ صَدَقَةً، وَمَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ عِرْضَهُ كُتِبَ لَهُ بِهِ صَدَقَةً، وَمَا أَنْفَقَ الْمُؤْمِنُ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّ خَلَفَهَا عَلَى اللَّهِ ضَامِنٌ، إِلا مَا كَانَ فِي بُنْيَانٍ أَوْ مَعْصِيَةٍ" ، فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: مَا يَعْنِي وَقَى بِهِ الرَّجُلُ عِرْضَهُ؟، قَالَ: أَنْ يُعْطِيَ الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ الْمُتَّقَى.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہر نیکی صدقہ ہے، آدمی اپنی بیوی پر، اپنی جان پر جو خرچ کرتا ہے، یہ اس کے لیے صدقہ کے طور پر لکھا جاتا ہے، اس چیز کے ذریعے آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے، یہ بات اس کے لیے صدقے کے طور پر لکھی جاتی ہے، آدمی جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے، تو اللہ اس کا ضامن ہوتا ہے (یعنی اس کا اجر و ثواب عطا کرے گا)، ماسوائے اس چیز کے، جو کسی تعمیر میں خرچ کیا جائے یا کسی گناہ کے کام میں خرچ کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے محمد بن منکدر سے دریافت کیا: آدمی اس کے ذریعے اپنی عزت کی حفاظت کرے، اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ کہ وہ کسی شاعر کو یا کسی بدزبان آدمی کو (معاوضہ دے، تاکہ وہ اس کے ساتھ بدتمیزی نہ کرے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2895]
ترقیم العلمیہ: 2859
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6021، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3379، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2324، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1970، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21194، 21195، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2895، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 673، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14936»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2860 ترقیم الرسالہ : -- 2896
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا مُوسَى بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ أَخَذَهُ، وَطَلَبَ ذَلِكَ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص اپنا سامان کسی شخص کے پاس پائے، وہ اسے حاصل کرے اور دوسرا شخص اس سے مطالبہ کرے گا، جس سے اس نے خریدا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2896]
ترقیم العلمیہ: 2860
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1102، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2896»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2861 ترقیم الرسالہ : -- 2897
نَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ . ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَتْبَعُ الْبَيْعَ مَنْ بَاعَهُ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص اپنا مال بعینہ کسی شخص کے پاس پائے، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا اور دوسرا شخص اس شخص کے پاس جائے گا، جس سے اسے خریدا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2897]
ترقیم العلمیہ: 2861
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4685، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6233، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3531»
«هو من رواية الحسن البصري عنه وفي سماعه منه خلاف معروف لكنه يشهد لصحته حديث البابحديث ابى هريرة، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 250)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2862 ترقیم الرسالہ : -- 2898
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْمَيْمُونِيُّ ، قَالَ: ذَكَرْتُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ إِلَى حَدِيثٍ رَوَاهُ هُشَيْمٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَتْبَعُ الْمُشْتَرِي مَنْ بَاعَهُ" ، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَاهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ هُشَيْمٍ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ هُشَيْمٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ، وَرَوَى النَّاسُ عَنْهُ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَكَنَّاهُ أَبَا سَعْدَةَ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کا مال کسی کے پاس بعینہ پایا جائے، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا اور خریدار اس شخص کے پاس جائے گا، جس نے اسے فروخت کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2898]
ترقیم العلمیہ: 2862
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4685، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6233، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3531»
«هو من رواية الحسن البصري عنه وفي سماعه منه خلاف معروف لكنه يشهد لصحته حديث البابحديث ابى هريرة، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 250)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2863 ترقیم الرسالہ : -- 2899
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا الْحَجَّاجُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَتْبَعُ صَاحِبَهُ مَنِ اشْتَرَى مِنْهُ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص اپنے سامان کو بعینہ کسی کے پاس پائے، تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہے اور جس کے پاس وہ سامان تھا، وہ اس شخص کے پیچھے جائے گا، جس سے اس نے سامان کو خریدا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2899]
ترقیم العلمیہ: 2863
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4685، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6233، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3531»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2864 ترقیم الرسالہ : -- 2900
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالا: نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ " فِي صَاحِبٍ لَنَا أُصِيبَ لِهَذَا الدَّيْنِ يَعْنِي أَفْلَسَ، فَقَالَ: ثُمَّ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ، أَنَّ صَاحِبَ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ أَنْ يَتْرُكَ صَاحِبَهُ وَفَاءً" .
عمر بن خلدہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے ایک ساتھی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو مرض کی وجہ سے مفلس قرار دیا جا چکا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا، جو انتقال کر چکا ہو یا جو مفلس ہو چکا ہو: سامان کا حقیقی مالک جب اپنے مال کو بعینہ کسی کے پاس پائے، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا، البتہ وہ اپنے ساتھی کو پوری ادائیگی کرے (یعنی جو اس ساتھی کا حصہ بنتا ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2900]
ترقیم العلمیہ: 2864
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2402، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1559، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4681، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3519، 3520، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1262، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2632، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2900، 2901، 2902، 2903، 2904، 2905، 2906، 2907، 4546، 4547، 4548، 4549، 4550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7245، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1065، 1066»
«أبو المعتمر مجهول على ما ذكره أبو داود، المفهم لما أشكل من تلخيص مسل

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2865 ترقیم الرسالہ : -- 2901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمْرِو بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ ، وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُ قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ، فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ" .
ابن خلدہ زرقی، جو مدینہ منورہ کے قاضی تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ وہ مسئلہ ہے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے: جو شخص فوت ہو جائے یا مفلس قرار دے دیا جائے اور پھر کسی سامان کا مالک بعینہ اپنے سامان کو اس کے پاس پائے، تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2901]
ترقیم العلمیہ: 2865
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2402، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1559، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4681، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3519، 3520، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1262، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2632، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2900، 2901، 2902، 2903، 2904، 2905، 2906، 2907، 4546، 4547، 4548، 4549، 4550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7245، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1065، 1066»
«أبو المعتمر مجهول على ما ذكره أبو داود، المفهم لما أشكل من تلخيص مسل

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2866 ترقیم الرسالہ : -- 2902
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کوئی سامان فروخت کرتا ہے، پھر اس کا ساتھی مفلس قرار دیا جاتا ہے اور پہلا شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پاتا ہے اور اس پہلے شخص نے سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، تو وہ سامان اسی شخص کو مل جائے گا، لیکن اگر اس نے اس قیمت میں سے کچھ وصول کر لیا تھا، تو پھر وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2902]
ترقیم العلمیہ: 2866
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2402، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1559، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4681، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3519، 3520، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1262، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2632، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2900، 2901، 2902، 2903، 2904، 2905، 2906، 2907، 4546، 4547، 4548، 4549، 4550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7245، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1065، 1066: (4 / 430)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2867 ترقیم الرسالہ : -- 2903
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ . ح وَنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدٍ الْخَبَايِرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلانِيُّ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ وَلَمْ يَكُنْ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ" ، وَقَالَ دَعْلَجٌ:" فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ"، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ، وَلا يَثْبُتُ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ مُسْنِدًا، وَإِنَّمَا هُوَ مُرْسَلٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کوئی سامان فروخت کرتا ہے اور پھر اس سامان کو بعینہ کسی شخص کے پاس جائے، جو مفلس قرار دیا جا چکا ہو، اس فروخت کرنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو، تو وہ سامان اس شخص کو مل جائے گا، لیکن اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ وصول کر چکا ہو، تو وہ باقی قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔ یمان بن عدی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اگر اس شخص نے اس کی قیمت میں سے کچھ ادا کر دی ہو، تو وہ دوسرے شخص باقی قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2903]
ترقیم العلمیہ: 2867
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2402، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1559، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4681، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3519، 3520، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1262، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2632، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2900، 2901، 2902، 2903، 2904، 2905، 2906، 2907، 4546، 4547، 4548، 4549، 4550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7245، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1065، 1066»
«قال ابن عبدالبر: إسماعيل بن عياش فيما روى عن أهل المدينة ليس بالقوي،

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں