سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ مَا تَبَقَّى بَعْدَ الْفَرِيضَةِ لِلْعَصَبَةِ
باب
ترقیم العلمیہ : 4028 ترقیم الرسالہ : -- 4099
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمُ ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4099]
ترقیم العلمیہ: 4028
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6736، 6742،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6034، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8053، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6294،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2890، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2093، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2932، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2721، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4097، 4098، 4099، 4100، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3766، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29659، 31724، 31725»
ترقیم العلمیہ : 4029 ترقیم الرسالہ : -- 4100
قُرِئَ عَلَى ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَةً، وَابْنَةَ ابْنِهِ، وَأُخْتَهُ لأَبِيهِ، وَأُمَّهُ، فَقَالَ: لِلابْنَةِ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ لِلأَبِ، وَالأُمِّ، وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، سَيَقُولُ مثل مَا قُلْتُ، فَسَأَلُوا ابْنَ مَسْعُودٍ، وَأَخْبِرُوهُ بِمَا قَالَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : كَيْفَ أَقُولُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لِلابْنَةُ النِّصْفُ، وَلابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ، وَالأُمِّ" .
ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو پس ماندگان میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک سگی بہن کو چھوڑ کر جاتا ہے، تو حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا: ”اس کی بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور جو باقی مال بچ جائے گا، وہ اس کی بہن کو مل جائے گا۔“ پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے فرمایا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی اسی کے مطابق جواب دیں گے، جو میں نے کہا ہے۔“ لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا اور انہیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے جواب کے بارے میں بھی بتایا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں، جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (ایسی صورت حال میں) بیٹی کو نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، اس طرح دو تہائی حصے مکمل ہو جائیں گے اور جو باقی بچ جائے گا، وہ سگی بہن کو مل جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4100]
ترقیم العلمیہ: 4029
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6736، 6742،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6034، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8053، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6294،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2890، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2093، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2932، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2721، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4097، 4098، 4099، 4100، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3766، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29659، 31724، 31725»
ترقیم العلمیہ : 4030 ترقیم الرسالہ : -- 4100M
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، أنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ، فَسَكَتَ وَهُوَ رَاكِبٌ فَسَارَ هُنَيْهَةً، فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَبْرَائِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا مِيرَاثَ لَهُمَا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو. وَرَوَاهُ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَهِمَ فِيهِ وَالأَوَّلُ أَصَحُّ، وَحَدِيثُ مَسْعَدَةَ يَأْتِي بَعْدَ هَذَا وَوَهِمَ فِيهِ وَالأَوَّلُ أَصَحُّ، وَحَدِيثُ مَسْعَدَةَ يَأْتِي بَعْدَ هَذَا.
سیدنا عبداللہ بن ابونمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ اس وقت سواری پر سوار تھے، آپ نے اپنی رفتار کم کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا ہے کہ ان دونوں کو وراثت میں حصہ نہیں ملے گا۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4100M]
ترقیم العلمیہ: 4030
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:، 4160، 4100/2، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31772»
ترقیم العلمیہ : 4031 ترقیم الرسالہ : -- 4101
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ، وَابْنَهَا زَيْدًا وَقَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، وَالْتَقَتِ الصَّائِحَتَانِ، فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا هَلَكَ قَبْلُ، فَلَمْ تَرِثْهُ وَلَمْ يَرِثْهَا، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا" .
جعفر صادق اپنے والد (محمد باقر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام کلثوم اور ان (خاتون) کے صاحبزادے زید (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے)، یہ دونوں ایک ہی دن انتقال کر گئے، ان کے انتقال کا وقت قریب قریب تھا، یہ پتا نہیں چل سکا کہ ان دونوں میں سے کون پہلے انتقال کر گیا تھا؟ تو وہ خاتون اس بچے کی وارث نہیں بنی اور وہ بچہ اس خاتون کا وارث نہیں بنا، اسی طرح اہل صفین بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے تھے، اسی طرح واقعہ حرہ (میں مارے جانے والے لوگ) ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4101]
ترقیم العلمیہ: 4031
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8101، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3089، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 240، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12382، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4101»
ترقیم العلمیہ : 4032 ترقیم الرسالہ : -- 4102
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نَا أَبُو هَانِئٍ عُمَرُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: سُئِلَ عَامِرٌ،" عَنْ مَوْلُودٍ لَيْسَ بِذَكَرٍ وَلا أُنْثَى، لَيْسَ لَهُ مَا لِلذَّكَرِ وَلَيْسَ لَهُ مَا لِلأُنْثَى يَخْرُجُ مِنْ سُرَّتِهِ كَهَيْئَةِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ، فَسُئِلَ عَامِرٌ عَنْ مِيرَاثِهِ، فَقَالَ عَامِرٌ: نِصْفُ حَظِّ الذَّكَرِ، وَنِصْفُ حَظِّ الأُنْثَى" .
ابوہانی عمر بن بشیر فرماتے ہیں: سیدنا عامر رضی اللہ عنہ سے ایسے بچے کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو نہ مذکر ہو نہ مونث ہو، نہ اس میں مرد کا کوئی علامتی نشان ہو، نہ مونث کا علامتی نشان ہو، بلکہ اس کی ناف کی جگہ سے پیشاب یا پاخانہ نکل آتا ہو، سیدنا عامر رضی اللہ عنہ سے اس کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اسے مرد کی وراثت کا نصف حصہ ملے گا اور عورت کی وراثت کا نصف حصہ ملے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4102]
ترقیم العلمیہ: 4032
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3014، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4102، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32017»
ترقیم العلمیہ : 4033 ترقیم الرسالہ : -- 4103
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالا: نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَمْرُو بْنُ حُمْرَانَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ الْهَجَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، فَإِنِّي امْرِؤٌ مَقْبُوضٌ، وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الاثْنَانِ فِي الْفَرِيضَةِ لا يَجِدَانِ مَنْ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا" ، قَالَ لِي تَابَعَهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ عَوْفٍ، وَرَوَاهُا الْمُثَنَّى بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ: وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ شَهْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، وراثت کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، کیونکہ میں انتقال کر جاؤں گا اور عنقریب علم کو بھی اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے، یہاں تک کہ وراثت کے حصے کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو گا، تو ان دونوں کو کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا، جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4103]
ترقیم العلمیہ: 4033
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8045، 8046، 8048، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6271، 6272، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2091 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 227، 2895، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4103، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 403، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 5028، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31679»
«قال ابن حجر: فيه انقطاع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 171)»
«قال ابن حجر: فيه انقطاع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 171)»
الحكم على الحديث: منقطع
ترقیم العلمیہ : 4034 ترقیم الرسالہ : -- 4104
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ اللُّجِّيِّ ، نَا الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، فَإِنِّي امْرِؤٌ مَقْبُوضٌ، وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفُ الاثْنَانِ فِي فَرِيضَةٍ، فَلا يَجِدَانِ أَحَدًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، وراثت کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، میں عنقریب انتقال کر جاؤں گا اور عنقریب علم کو بھی اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے، یہاں تک کہ دو آدمیوں کے درمیان وراثت کے حصے کے بارے میں اختلاف ہو گا، تو ان دونوں کو ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا، جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4104]
ترقیم العلمیہ: 4034
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4104، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: من طريق عطية وهو ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 6)»
«قال ابن حجر: من طريق عطية وهو ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 6)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4035 ترقیم الرسالہ : -- 4105
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدِ الْجِنَانِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الرَّمْلِيُّ، نَا ضَمْرَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ:" لَوْ وُلِّيتَ الْقَضَاءَ بِفَرَائِضِ مَنْ كُنْتَ تَأْخُذُ؟، قَالَ: بِفَرَائِضِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ" .
سعید بن حسن بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان ثوری سے کہا: اگر آپ وراثت کے بارے میں فیصلہ دینے کا عہدہ سنبھال لیں، تو اس بارے میں کس سے رہنمائی حاصل کریں گے؟ تو سفیان نے جواب دیا: ”سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے وراثت سے متعلق (فیصلوں سے رہنمائی حاصل کروں گا)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4105]
ترقیم العلمیہ: 4035
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4105، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 4036 ترقیم الرسالہ : -- 4106
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَسَمَ فِينَا فَأَعْطَى الابْنَةَ النِّصْفَ، وَالأُخْتَ النِّصْفَ، وَلَمْ يُوَرِّثِ الْعَصَبَةَ شَيْئًا" .
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا، انہوں نے ہمارے درمیان (وراثت) تقسیم کی، تو انہوں نے بیٹی کو نصف حصہ دیا، بہن کو نصف حصہ دیا اور عصبہ رشتہ داروں کو کچھ بھی نہیں دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4106]
ترقیم العلمیہ: 4036
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6734، 6741،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8067، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2893، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4106، 4108، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31715، 31716»
ترقیم العلمیہ : 4037 ترقیم الرسالہ : -- 4107
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بَحْرُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " أَعْطَى الابْنَةَ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الأُخْتَ مَا بَقِيَ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیٹی کو نصف حصہ دیا تھا اور باقی بچ جانے والا مال کو دے دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4107]
ترقیم العلمیہ: 4037
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8071، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4107، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31719، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 7412، 7413»