الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. فَصْلٌ مِنْهُ فِي قَوْلِهِ ﷺ "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ جَبْلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ) )
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16959»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 221
حدیث نمبر: 244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ يَتَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُجَادِلَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَالنَّارُ لَهُ، فَالنَّارُ لَهُ) )
عبداللہ بن امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کے ساتھ متصل یہ کلام بھی اپنے باپ کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھا ہوا پایا اور انہوں نے اس پر لکیر بھی لگائی ہے، لیکن اب میں یہ نہیں جانتا کہ کیا انہوں نے مجھ پر یہ پڑھا تھا یا نہیں، وہ کلام یہ ہے: ”اور بیشک سننے والے اور اطاعت کرنے والے کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے اور سننے والے اور نافرمانی کرنے والے کے حق میں کوئی حجت نہیں ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 785، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17999»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 785
حدیث نمبر: 245
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخَيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی کان ہوتے ہیں، پس جو (خاندان اور قبیلے) جاہلیت کے زمانے میں بہتر شمار کیے جاتے ہیں، وہی زمانۂ اسلام میں بھی بہتر ہوتے ہیں، بشرطیکہ دین میں فقہ اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15008»
وضاحت: فوائد: … جیسے سونے، چاندی اور دوسری قیمتی اور گھٹیاں چیزوںکی کانیں ہوتی ہیں، اسی طرح بعض خاندانوں کے لوگ عمدہ، شریف النفس اور بہادر ہوتے ہیں اور بعض قبیلوں کے لوگ نامرد، گھٹیا اور بخیل قسم کے ہوتے ہیں، لیکن اگر اعلی خاندان والے بھی بے علم اور جاہل ہوں تو پھر خاندانی شرافت سے کچھ نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھٹیا خاندان کا ایک عالم، عالی خاندانوں کے جاہلوں سے بہتر ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام میں علوم شرعیہ کی فقہ اور فہم برتری کی علامت قرار دے رہے ہیں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اس کے وڈیروں نے قرآن و حدیث کے فہم کو عزت کی علامت ہی نہیں سمجھا، ظاہر پرستی اور مادیت پرستی اس قدر غالب آ گئی کہ جس ڈگری کی بنا پر تنخواہ زیادہ ملتی ہے، اس کو اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ بہت کم معاوضے لے کر مساجد اور مدارس میں دینِ اسلام کے لیے خدمات سرانجام دے رہے، ان کو بھی یہی مشورے دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے فیلڈ کو تبدیل کر لیں، تاکہ دنیا بہتر ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 246
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ) )
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم والے کو عبادت گزار پر اتنی فضیلت حاصل ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انہوں نے ورثے میں درہم و دینار نہیں لیے، بلکہ علم وصول کیا، پس جس شخص نے علم حاصل کیا، اس نے (نبوی میراث سے) بھرپور حصہ لے لیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود 3642، والترمذي: 2682، وابن ماجه: 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22058»
وضاحت: فوائد: … قرآن و حدیث کا علم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث ہے، کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ، جو اس میراث سے بڑی مقدار میں حصہ حاصل کرتے ہیں، لیکن اس موقع میں یہ گزارش ضرور کروں گا کہ اہل علم لوگ اپنی اصلاح کریں، اپنے اندر عاجزی و انکساری پیدا کریں، لوگوں کے سرمائیوں سے مستغنی ہو جائیں، صبر کے ساتھ شب وروز گزاریں، ہم کوئی اصحاب ِ صفہ سے برتر نہیں ہے کہ ہمارے لیے فوراً روسیع روزیوں کے دروازے کھل جائیں اور ان کا علم اُن کے وجود سے جو تقاضے کرتا ہے، وہ ان کو پورا کریں، حقیقی عزت اور بقا اسی شعبے میں ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود 3642
3. بَابٌ فِي الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَفَضْلِ طَالِبِهِ
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 247
عَنْ قَيْسٍ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ أَيُّ أَخِي؟ قَالَ: حَدِيثٌ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: مَا قَدِمْتَ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتانُ فِي الْمَاءِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ) )
قیس بن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی مدینہ منورہ سے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جو کہ دمشق میں تھے، انہوں نے اس سے پوچھا: ”میرے بھائی! کون سی چیز تجھے لے آئی ہے؟“ اس نے کہا: ”ایک حدیث کی خاطر آیا ہوں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہو،“ انہوں نے کہا: ”کیا تو تجارت کے لیے تو نہیں آیا؟“ اس نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”تو کسی اور ضرورت کے لیے تو نہیں آیا؟“ اس نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”تو صرف اس حدیث کے حصول کے لیے آیا ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ انہوں نے کہا: ”پس بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق عالم کے لیے بخشش کی دعا کرتی ہے، حتیٰ کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی، اور عالم کی عبادت گزار پر اتنی فضیلت ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انہوں نے ورثے میں دینار لیے نہ درہم، بلکہ انہوں نے تو صرف علم وصول کیا ہے، جس نے یہ علم حاصل کیا، اس نے (انبیائے کرام کی میراث سے) بھرپور حصہ لیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود 3642، والترمذي: 2682، وابن ماجه: 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22058»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود 3642
حدیث نمبر: 248
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ) )
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے گیا، انہوں نے کہا: ”کیوں آئے ہو؟“ میں نے کہا: ”حصولِ علم کے لیے،“ انہوں نے کہا: ”تو پھر کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناوں،“ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی: ”بیشک فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس چیز کی رضامندی کی خاطر جو وہ طلب کر رہا ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1165، 1166، والدارمي: 363، والطبراني في الكبير: 7359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18258»
وضاحت: فوائد: … یہ عظمتیں حاصل کرنے کے لیے جس قدر ممکن ہو، علمائے اسلام اور مبلغین علم اور عمل صالح کے ذریعے عظیم تر بننے کی کوشش کریں، حصول علم کے بعد دین کی تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مقصد اور مشن سمجھیں، اخلاص میں نکھار پیدا کریں، نمود ونمائش سے کنارہ کشی اختیار کریں، اس شعبے کو کسی مجبوری کا نتیجہ مت سمجھیں اور اس معاملے میں کسی دنیوی مقصد کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں، دنیا و آخرت کی رفعتیں اور برکتیں ایسے لوگوں کے لیے ہیں، کاش! ان برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس گُر ہوتے۔
حضرات! ذہن نشین کر لیں کہ مساجد و مدارس اور تبلیغِ دین کے ساتھ تعلق کا نتیجہ سرمایہ داری نہیں ہے، ہم سے پہلے جتنے لوگوں نے دین اسلام کے لیے کام کیا، ان کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کریں، اگر وہ خود مال دار نہیں تھے، تو انھوں نے اس شعبے کو مالداری کا ذریعہ بھی نہیں بنایا، گزارے کی زندگی گزار دی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ترقی کے لیے ان کے حصے کو قبول کر لیا۔
حضرات! ذہن نشین کر لیں کہ مساجد و مدارس اور تبلیغِ دین کے ساتھ تعلق کا نتیجہ سرمایہ داری نہیں ہے، ہم سے پہلے جتنے لوگوں نے دین اسلام کے لیے کام کیا، ان کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کریں، اگر وہ خود مال دار نہیں تھے، تو انھوں نے اس شعبے کو مالداری کا ذریعہ بھی نہیں بنایا، گزارے کی زندگی گزار دی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ترقی کے لیے ان کے حصے کو قبول کر لیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 1165
حدیث نمبر: 249
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمِ رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَمُدُّ نَاقَةً لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَتِكَ زَائِرًا، إِنَّمَا أَتَيْتُكَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ، فَرَآهُ شَعِثًا فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْبَلَدِ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ وَرَآهُ حَافِيًا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی، سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مصر میں تھے، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اونٹنی کو چارہ کھلا رہے تھے، آنے والے نے کہا: ”میں تمہیں ملنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پہنچی ہے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو گے،“ جب انہوں نے اس کو پراگندہ بالوں والا دیکھا تو پوچھا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تم کو پراگندہ بالوں والا دیکھ رہا ہوں، حالانکہ تم اس شہر کے امیر ہو؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زیادہ خوشحالی اور آسودگی سے منع کرتے تھے،“ نیز انہوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ انہوں نے جوتا پہنا ہوا نہیں تھا، انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بعض اوقات جوتا اتار دینے کا حکم دیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح (سنن ابي داود)۔ أخرجه ابوداود: 4160، وأخرجه النسائي: 8/ 185 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24469»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابۂ کرام کے نزدیک فرموداتِ نبویہ کی عظمت تھی کہ حدیث کی خاطر مصر تک کا سفر کیا جا رہا ہے، حدیث ِ مبارکہ کے اگلے حصے سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار سادگی بھی اختیار کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح (سنن ابي داود) ۔ أخرجه ابوداود: 4160
حدیث نمبر: 250
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ( (مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی علم تلاش کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8299»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ہمیں علم شرعی کا حقیقی طالب بنا دے۔ (آمین)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2699
4. بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَعْلِيمِ الْعِلْمِ وَآدَابِ الْمُعَلِّمِ
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 251
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، وَأَنَّهُ قَالَ: إِنَّ كُلَّ مَا نَحَلْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلَالٌ) )
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دے دوں، جن سے تم جاہل ہو، ان امور میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائے ہیں، نیز اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2865، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18529»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ شرعی علم کو عام کریں، دوسری نصوص میں حرام اشیاء کی تفصیل موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2865
حدیث نمبر: 252
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (عَلِّمُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعلیم دو اور خوشخبریاں سناو اور مشکلات پیدا نہ کرو اور جب کسی کو غصہ آ جائے تو وہ خاموش ہو جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 2608، وابن ابي شيبة: 8/532، والبزار: 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2136»
وضاحت: فوائد: … معلم، مربیّ اور مبلغ کو حکیم اور دانا ہونا چاہیے اورلوگوں کی ذہنی سطح اور ان کے مزاج کا اندازہ کر کے ان سے گفتگو کرنی چاہیے۔ غصے کی حالت میں عام لوگوں کو اچھے بھلے کی تمیز نہیں رہتی اور وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں، جن کی وجہ سے دلوں میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور خود بولنے والی کو بھی ندامت ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الطيالسي: 2608