الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَعْلِيمِ الْعِلْمِ وَآدَابِ الْمُعَلِّمِ
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 253
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو علم سکھاؤ اور آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات پیدا نہ کرو، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 253]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2556»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2556
حدیث نمبر: 254
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (بَشِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوشخبریاں سناو اور مشکلات پیدا نہ کرو اور لوگوں کو سکون و آرام پہنچاؤ اور ان کو متنفر نہ کرو۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 254]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 69، 6125، ومسلم: 1734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12358»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۲۳۵) کے فوائد میں اس حدیث کی تشریح کی جا چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 69
حدیث نمبر: 255
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 255]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطيالسي: 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21688»
وضاحت: فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت کے سارے احکام ومسائل کا علم ہو گیا تھا یا ہر پرندے کی حلت و حرمت، حلال پرندوں کے ذبح وغیرہ کے احکام اور اس سے متعلقہ دوسرے شرعی احکام بیان کر دیئے گئے تھے، اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو پرندوں سے فال لینا معلوم ہو گیا تھا، جو جاہلیت کی ایک رسم تھی۔
یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ پرندوں کے اڑنے سے اللہ کی قدرت سمجھ آتی ہے اور اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الملک (آیت: ۱۹) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی اس نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ پرندوں کے اڑنے سے اللہ کی قدرت سمجھ آتی ہے اور اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الملک (آیت: ۱۹) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی اس نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 479
حدیث نمبر: 256
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَ الْعَصْرَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمَنَا أَحْفَظُنَا
سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور نمازِ ظہر تک خطاب کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، بعد ازاں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ گئے اور پھر خطاب شروع کر دیا، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور عصر کی نماز پڑھا کر پھر منبر پر تشریف لائے اور غروبِ آفتاب تک خطاب جاری رکھا، پس جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ سب کچھ بیان کر دیا، پس ہم میں سب سے بڑا عالم وہی تھا، جو زیادہ حفظ کرنے والا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 256]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23276»
وضاحت: فوائد: … اس خطبے کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، ممکن ہے کہ مختلف صحابہ کرام جو احادیث بیان کرتے ہیں، ان میں بعض اسی خطبے میںسنی گئی ہوں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2892
حدیث نمبر: 257
عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأَيْنَا الْعَيْنَ، فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَهْلِي وَوَلَدِي فَذَكَرْتُ مَا كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ! نَافَقَ حَنْظَلَةُ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأَيْنَا عَيْنًا، فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِي وَأَهْلِي، فَقَالَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ( (يَا حَنْظَلَةُ! لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: بِأَجْنِحَتِهَا) وَأَنْتُمْ عَلَى فُرُشِكُمْ وَبِالطَّرِيقِ، يَا حَنْظَلَةُ! سَاعَةً وَسَاعَةً) )
سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: ”اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے،“ انہوں نے کہا: ”وہ کیسے؟“ میں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں،“ یہ سن کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اس طرح اور کبھی اس طرح۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2750، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19254»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعظ و نصیحت کا انداز نہایت مؤثر ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے صحابۂ کرام پر جو آثار مرتّب ہوتے تھے، وہ سیدنا ابو بکر ؓجیسے عظیم لوگ بھی بعد میں برقرار نہیں رکھ سکتے تھے، بہرحال اہل علم کو چاہیے کہ اپنے علم کے عملی تقاضوں کو پورا کر کے اپنی گفتگو کو پر اثر بنائیں اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی فکر کریں، یہاں اس چیز کی یادہانی ضروری ہے کہ معاشرے کے رہن سہن کے جن طریقوں کا شریعت کے ساتھ تصادم نہ ہو اور معاشرہ بھی ان کو باوقار لوگوںکی صفات سمجھتا ہو، ایسے امور کو اختیار کر لینا بہتر ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2750
حدیث نمبر: 258
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوبُنَا، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ”بیشک جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہم سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنی بیوی بچوں کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور ایسے ایسے کرتے ہیں (اور آپ کے پاس والی کیفیت زائل ہو جاتی ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے پاس والی گھڑی، اگر تم اسی پر برقرار رہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 258]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔أخرجه الطبراني في الاوسط: 2717، والبخاري في التاريخ الكبير: 3/37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12827»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔أخرجه الطبراني في الاوسط : 2717
5. بَابٌ فِي مَجَالِسِ الْعِلْمِ وَآدَابِهَا وَآدَابِ الْمُتَعَلِّمِ
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 259
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَوَجَدَ فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِهِمْ وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَبَرِ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ؟) ) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (أَمَّا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ فَآوَى فَآوَاهُ اللَّهُ، وَالَّذِي جَلَسَ مِنْ وَرَائِكُمْ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الَّذِي انْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ) )
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے تین افراد کا گزر ہوا، ان میں سے ایک فرد متوجہ ہوا اور مجلس کے اندر خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا، دوسرا فرد لوگوں کے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تین افراد کی بات بیان نہ کر دوں؟“ صحابہ کرام نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص آگے بڑھ کر بیٹھ گیا، اس نے جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جگہ دے دی، جو آدمی تمہارے پیچھے بیٹھ گیا، پس اس نے شرم محسوس کی اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے شرما گیا اور جو فرد چلا گیا، پس اس نے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 66، 474، ومسلم: 2176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22252»
وضاحت: فوائد: … یہ کل تین افراد تھے، تینوں کا انداز مختلف تھا، آگے سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رویہ بھی مختلف رہا۔ایک نے رغبت سے کام لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مزید قریب ہونے کے لیے محفل میں پڑی ہوئی خالی جگہ کی طرف بڑھا، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بندے کی زیادہ قدر کی گئی اور اُس نے اِس کو اپنی رحمت اور رضامندی میں جگہ دی، اس طرح آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں جائیں۔ دوسرے آدمی نے پہلے تو جانے کا ارادہ کیا، لیکن پھر شرما گیا اور آ کر بیٹھ گیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ یہی معاملہ کیا، یعنی اس سے شرما کر اس کے ساتھ رحم والا معاملہ کر دیا، مستدرک حاکم کے الفاظ یہ ہیں: وَمَضَی الثَّانِیْ قَلِیْـلًا ثُمَّ جَائَ فَجَلَسَ … اور دوسرا جانے کے لیے تھوڑا سا چلا، لیکن پھر آ کر بیٹھ گیا۔ تیسرا آدمی اس مجلس کا پاس و لحاظ کیے بغیر چل دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا اور اس پر ناراض ہو گیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے، جو شرعی علم پر مشتمل مجلسوں اور دروس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، جب مسجد میں نماز کے بعد درسِ قرآن و حدیث شروع ہوتا ہے تو لوگ یوں کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی عذاب آنے لگا ہے، جمعہ کے خطبوں اور نمازوں کا تو معاملہ ہی اور ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 66
حدیث نمبر: 260
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ حُذَيْفَةَ (بْنِ الْيَمَانِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الَّذِي يَقْعُدُ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ، قَالَ: مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مجلس کے درمیان میں بیٹھنے والے شخص کے بارے میں کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان کے مطابق اس شخص پر لعنت کی گئی ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو مجلز لاحق بن حميد لم يدرك حذيفة۔ أخرجه ابوداود:4826، والترمذي: 2753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23652»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 261
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ كَانَ يَقُولُ: يَا بُنَيَّ! لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ
عبداللہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان علیہ السلام نے کہا تھا: ”اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفوں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 261]
تخریج الحدیث: «ھذا بلاغ عن لقمان، فھو منقطع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1651»
الحكم على الحديث:
ھذا بلاغ عن لقمان
حدیث نمبر: 262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ( (مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ فَيَسْمَعُ الْحِكْمَةَ، ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرٍّ مَا سَمِعَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا فَقَالَ: يَا رَاعِي! اجْزُرْ لِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ، قَالَ: اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا، فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شر والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے سے آیا اور کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لے گیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ولجھالة اوس بن خالد۔ أخرجه ابن ماجه: 4172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8624»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ولجھالة اوس بن خالد۔ أخرجه ابن ماجه: 4172