الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. فِيمَا جَاءَ فِي الْإِحْتِرَازِ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ وَتَجْوِىْدِ أَلْفَاظِهِ كَمَا صَدَرَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوئے
حدیث نمبر: 283
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدٍ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا إِذَا جِئْنَاهُ قُلْنَا: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّا قَدْ كَبُرْنَا وَنَسِينَا وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ
ابن ابی لیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے اور کہتے: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرو“ (پس وہ بیان کرتے تھے، لیکن جب وہ بوڑھے ہو گئے تھے تو) کہتے تھے: ”بیشک ہم عمر رسیدہ ہو گئے ہیں اور بھول گئے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو بیان کرنا سخت معاملہ ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19519»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ یقین یا ظن غالب ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی یہ احادیث بیان کی ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا أَبُو هَارُونَ الْغَنَوِيُّ عَنْ مُطَرِّفٍ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ) قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيْ مُطَرِّفُ! وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرَى أَنِّي لَوْ شِئْتُ حَدَّثْتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ لَا أُعِيدُ حَدِيثًا، ثُمَّ لَقَدْ زَادَ بِي بُطْءً عَنْ ذَلِكَ وَكَرَاهِيَّةً لَهُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهِدْتُ كَمَا شَهِدُوا وَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعُوا يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ مَا هِيَ كَمَا يَقُولُونَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُمْ لَا يَأْلُونَ عَنِ الْخَيْرِ، فَأَخَافُ أَنْ يُشَبَّهَ لِي كَمَا شُبِّهَ لَهُمْ، فَكَانَ أَحْيَانًا يَقُولُ: لَوْ حَدَّثْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا، رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ صَدَقْتُ، وَأَحْيَانًا يَعْزِمُ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا
مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ”اے مطرف! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں دو دن مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کروں تو ایک حدیث دوسری دفعہ پڑھنے کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ مجھ پر سستی غالب آنے لگی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرنے لگا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض لوگ میری طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر رہتے اور میری طرح احادیث سنتے تھے، لیکن جب وہ احادیث بیان کرتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتیں، جیسے وہ بیان کرتے ہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ خیر میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اب مجھے بھی یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی (احادیث کا معاملہ) مشتبہ ہو جائے، جیسے ان پر مشتبہ ہو گیا ہے۔“ بسا اوقات سیدنا عمران رضی اللہ عنہ یوں کہتے تھے: ”اگر میں تم کو یہ بیان کروں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ یہ احادیث سنی ہیں تو میرا یہی خیال ہو گا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں گا،“ اور بسا اوقات تو بڑے عزم کے ساتھ کہتے تھے: ”میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے کہتے سنا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 284]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو ھارون الغنوي لم يسمعه من مطرف، بينھما هانيء الاعور وھو ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20134»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 285
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِي هَارُونَ الْغَنَوِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَانِئٌ الْأَعْوَرُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ هُوَ ابْنُ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَاسْتَحْسَنَهُ وَقَالَ: زَادَ فِيهِ رَجُلًا
(امام احمد کے بیٹے) بو عبدالرحمن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مطرف نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی، پھر میں نے یہ حدیث اپنے باپ (امام احمد) کو بیان کی، تو انہوں نے اس کو اچھا قرار دیا، البتہ عبداللہ نے اس میں ایک راوی (ہانی اعور) زیادہ کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ھانيء الاعور ضعيف، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20135»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 286
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ) قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرنے سے فارغ ہوتے تو کہتے: «أَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم » (یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔) [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13155»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 287
عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَهْمِ: ( (يُتَوَخَّى) ) قَالَ لَهُ رَجُلٌ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فِيمَا أَعْلَمُ
سلیمان یشکری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے (نماز میں) وہم ہو جانے کے بارے میں یتوخی کا لفظ استعمال کیا، ایک آدمی نے ان سے کہا کہ ”کیا یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی جا رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میرے علم کے مطابق تو یہی بات ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11440»
وضاحت: فوائد: … یتوخی کے معانی یُتَحَرّٰی کے ہیں، یعنی تحقیق وجستجو کی جائے اور بہتر کو تلاش کیا جائے۔ امام سفیان نے اپنی جامع میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکی ایک حدیث کے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ((اِذَا شَکَّ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ فَلْیَتَوَخَّ حَتّٰی یَعْلَمَ اَنَّہٗ قَدْ اَتَمَّ)) … جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ بہتر صورت کو تلاش کرے، یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ اس نے نماز مکمل کر لی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 288
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ”کیا ابو ہریرہ تم کو تعجب میں نہیں ڈالتے؟ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر مجھے سناتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے، جبکہ میں نفلی نماز پڑھ رہی تھی، پھر وہ میری نماز پوری ہونے سے پہلے چلے گئے، اگر میں ان کو پا لیتی تو میں نے ان کا رد کرنا تھا، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح تسلسل کے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاريِ 3567، ومسلم: 2493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25377»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ ؓیہ کہنا چاہتی ہیں کہ نبی ٔ کریم لوگوں کو سمجھانے کی خاطر ٹھہر ٹھہر کر احادیث بیان کرتے تھے اور ابوہریرہؓ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 289
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كُلُّ الْحَدِيثِ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُحَدِّثُنَا أَصْحَابُنَا عَنْهُ، كَانَتْ تَشْغَلُنَا عَنْهُ رَعْيَةُ الْإِبِلِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”یہ ساری احادیث ہم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنیں، ہمارے ساتھی ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، کیونکہ ہم اونٹ چرانے کی وجہ سے مصروف رہتے تھے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18687»
وضاحت: فوائد: … خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بعض صحابہ احادیث ِ نبویہ بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے اور ان کو یہ خطرہ سا لاحق رہتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ غلطی ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام اور بعد میں ایسے لوگ بھی پیدا کر دیئے کہ جنہوں نے احادیث ِ مبارکہ کو اچھی طرح ضبط کیا اور پھر ان کو آگے بیان کیا، لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے کو بند نہ کریں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث، جو سند کے لحاظ سے قابل حجت ہوں، ان کو بیان کریں اور بد احتیاطی سے مکمل پرہیز کریں۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابٌ فِي مَعْرِفَةِ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِصَحِيحِهِ وَضَعِيفِهِ وَحَمْلِ مَا ثَبَتَ مِنْهُ عَلَى أَكْمَلِ وُجُوهِهِ
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
حدیث نمبر: 290
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَعَنْ أَبِي أَسِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ وَتَنْفِرُ مِنْهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ) )
سیدنا ابو حمید اور سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میری طرف منسوب حدیث سنو (تو دیکھو کہ آیا) تمہارے دل اس سے مانوس ہو رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس کے لیے نرم ہو رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ وہ بات تم بھی کر سکتے ہو تو میں ایسی (حدیث بیان کرنے کا) بالاولی مستحق ہوں گا۔ لیکن اگر تم دیکھو کہ جو حدیث میری طرف منسوب ہے، تمہارے دل اس کا انکار کر رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس سے نفرت کر رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ تم بھی (اس کی قسم کی) بات نہیں کر سکتے، تو میں اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والا ہوں گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 290]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه البزار: 187، وابن حبان: 63، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24005»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 291
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَحْيَا، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرو،“ ایک روایت میں ہے: ”جب میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث خیال کرو جو زیادہ ہدایت والی ہو، ہیئت میں زیادہ اچھی ہو اور زیادہ تقوے والی ہو۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «صحيح۔أخرجه ابن ماجه: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 985»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 292
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْنَاهُ وَأَتْقَاهُ وَأَهْدَاهُ
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جو بات زیادہ خوشگوار، زیادہ تقویٰ والی اور زیادہ ہدایت والی ہو، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث خیال کرو۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 987»
وضاحت: فوائد: … سب سے پہلے دو باتیں عرض کرنا ضروری ہیں: (۱) صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تک عام طور پر معتبر محدثین کا یہی قانون رہا کہ سند کی روشنی میں حدیث کو پرکھا جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی حدیث پیش کی گئی، اس کی سند کا مطالبہ کیا گیا اور صحیح سند ثابت ہونے کے بعد ہر کسی نے اس کو بحیثیت ِ حدیث قبول کر لیا۔ صحابہ کرام کا تو معیار ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس زبان تھی، نہ کہ ان کی فطرت و طبیعت۔ ابو بکر کو صدیق کا لقب ملنے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے بلا تردّد اسرا و معراج کا سفر تسلیم کر لیا تھا۔ (۲) قرآن مجید اور متواتر احادیث میں بھی ایسے امور موجود ہیں، جو کئی لوگوں کے لیے طبعی اور فطرتی لحاظ سے نامنظور ہیں۔ وہ صرف اس بنا پر ان کی صداقت و حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات و فرمودات ہیں۔
قارئین کرام! اس لیے ایک خاص طبقے کو مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ کا مخاطَب سمجھا جائے گا، یعنی وسیع علم حدیث سے گہری دلچسپی رکھنے والے محدثین اور فقہاء، جن کا اوڑھنا بچھونا حدیث تھا، جو احادیث ِ مبارکہ کا ذوق رکھنے والے اور ان کے ذوق کو پہچاننے والے تھے۔ ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب بات کے مزاج کو دیکھ کر اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں، پھر جب تحقیق کرتے ہیں تو ان کا دعوی درست ثابت ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حسان عبد المنان سیدنا علی ؓکے آنے والے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی وہ حدیث جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل ہدایت کے زیادہ لائق، آپ سے زیادہ موافقت کرنے والی اور آپ کے تقوی کے زیادہ مناسب ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین درستی اور خیر خواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب العمل ہیں، کیونکہ ان کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور لوگوں تک پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث منقول ہو، جس میں دو احتمال پائے جاتے ہوں، تو جو احتمال مقام نبوت کے زیادہ مناسب اور کاملیت والا ہو گا، اس حدیث کو اسی احتمال پر محمول کیا جائے گا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بیوی کی یوں شکایت کی: ((اِنَّ امْرَأَتِیْ لَاتَرُدُّ یَدَ لَامِسٍ۔)) (میری بیوی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے پھر کہا: میں تو اس سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے اپنے پاس روکے رکھ۔ سوال یہ ہے کہ چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی کا مفہوم کیا ہے؟ دو قول بیان کیے گئے ہیں: (۱) جو آدمی اس سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے دے دیتی ہے۔ (۲) وہ ہر زانی کو زنا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
امام احمد اور جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ پہلا معنی ہی درست اور زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابی کو یہ حکم دیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے عقد میں بحال رکھے جو زنا کرتی ہے۔ (بلوغ الامانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۹۸، ۹۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو حدیث ِ مبارکہ سند کے ساتھ ثابت ہو جائے لیکن معنی کے لحاظ سے اس سے مختلف احتمالات نکالے جا سکتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ِ مقدسہ اور صفات ِ حسنہ کو سامنے رکھ کر اچھے احتمال کو ترجیح دینی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب (رحم اللہ السلف الصالح رحمۃ واسعۃ)۔
قارئین کرام! اس لیے ایک خاص طبقے کو مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ کا مخاطَب سمجھا جائے گا، یعنی وسیع علم حدیث سے گہری دلچسپی رکھنے والے محدثین اور فقہاء، جن کا اوڑھنا بچھونا حدیث تھا، جو احادیث ِ مبارکہ کا ذوق رکھنے والے اور ان کے ذوق کو پہچاننے والے تھے۔ ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب بات کے مزاج کو دیکھ کر اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں، پھر جب تحقیق کرتے ہیں تو ان کا دعوی درست ثابت ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حسان عبد المنان سیدنا علی ؓکے آنے والے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی وہ حدیث جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل ہدایت کے زیادہ لائق، آپ سے زیادہ موافقت کرنے والی اور آپ کے تقوی کے زیادہ مناسب ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین درستی اور خیر خواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب العمل ہیں، کیونکہ ان کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور لوگوں تک پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث منقول ہو، جس میں دو احتمال پائے جاتے ہوں، تو جو احتمال مقام نبوت کے زیادہ مناسب اور کاملیت والا ہو گا، اس حدیث کو اسی احتمال پر محمول کیا جائے گا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بیوی کی یوں شکایت کی: ((اِنَّ امْرَأَتِیْ لَاتَرُدُّ یَدَ لَامِسٍ۔)) (میری بیوی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے پھر کہا: میں تو اس سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے اپنے پاس روکے رکھ۔ سوال یہ ہے کہ چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی کا مفہوم کیا ہے؟ دو قول بیان کیے گئے ہیں: (۱) جو آدمی اس سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے دے دیتی ہے۔ (۲) وہ ہر زانی کو زنا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
امام احمد اور جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ پہلا معنی ہی درست اور زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابی کو یہ حکم دیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے عقد میں بحال رکھے جو زنا کرتی ہے۔ (بلوغ الامانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۹۸، ۹۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو حدیث ِ مبارکہ سند کے ساتھ ثابت ہو جائے لیکن معنی کے لحاظ سے اس سے مختلف احتمالات نکالے جا سکتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ِ مقدسہ اور صفات ِ حسنہ کو سامنے رکھ کر اچھے احتمال کو ترجیح دینی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب (رحم اللہ السلف الصالح رحمۃ واسعۃ)۔
الحكم على الحديث: صحیح