🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا فَكَتَمَهُ أَوْ لَمْ يَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَعَلَّمَ لِغَيْرِ اللَّهِ
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: أُلْجَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 337، وابن ماجه: 572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7561»
وضاحت: فوائد: … اہل علم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہر وقت مستعد رہیں اور لوگوں کے شرعی مسائل کے حل کو اپنے حق میں باعث ِ اعزاز سمجھیں اور اجر ِ عظیم کی امید میں ان معاملات کو آسان سمجھیں۔

الحكم على الحديث:
حسن ۔ أخرجه ابوداود: 337
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 274
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ مَثَلَ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جس علم سے فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا، اس کی مثال اس خزانے کی سی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کیا جاتا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين۔ أخرجه الدارمي: 556، والبزار: 176، والطبراني في الاوسط: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10481»
وضاحت: فوائد: … خزانہ کوئی بھی ہو، اس کے مالکان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ اس میں سے خرچ کرتے رہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين ۔ أخرجه الدارمي: 556
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے،“ میں نے کہا: ”اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ آپ کی امت کے وہ خطیب لوگ ہیں، جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4966، وابويعلي: 4160، وابن حبان: 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:13421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13454»
وضاحت: فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، کوئی بھی مذہبی رہنما یا خطیب ہو، اس کو سب سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه البيھقي: 4966
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 276
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ عُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ، خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ، مَنْ تَرَكَ فِيهِ عُشَيْرَ مَا يَعْلَمُ هَوَى، أَوْ قَالَ: هَلَكَ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقِلُّ عُلَمَاؤُهُ وَيَكْثُرُ خُطَبَاؤُهُ، مَنْ تَمَسَّكَ فِيهِ بِعَشِيْرِ مَا يَعْلَمُ نَجَا) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم ایسے زمانے میں ہو کہ جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطباء کم ہیں، ایسے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل نہ کیا تو وہ ہلاک ہو جائے گا، لیکن عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جس میں علماء کم ہوں گے اور خطباء زیادہ ہوں گے، اس زمانے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کر لیا تو وہ نجات پا جائے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مؤمل بن اسماعيل سييء الحفظ ولابھام الراوي عن ابي ذر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21699»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 277
عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَلَا تَدْخُلُ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَلَا تُكَلِّمُ عُثْمَانَ) قَالَ: فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ، وَاللَّهِ! لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَادُونَ أَنْ أَفْتَحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ فَتَحَهُ وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ يَكُونَ عَلَيَّ أَمِيرًا إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ إِنَّكَ خَيْرُ النَّاسِ وَإِنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا) بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى، قَالَ: فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ إِلَيْهِ، فَيَقُولُونَ: يَا فُلَانُ! أَمَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى! قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ فَلَا آتِيهِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ) )
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ”کیا تم اس آدمی یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر گفتگو نہیں کرتے،“ انہوں نے کہا: ”کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں جب بھی ان سے گفتگو کروں تو تم کو سناوں گا، اللہ کی قسم ہے! کسی چیز کا اعلان کیے بغیر میں نے ان سے گفتگو کی ہے، جبکہ اس مجلس میں صرف میں اور وہ تھے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایسے امور کا پہلے میں اعلان کروں،“ میں یہ حدیث سننے کے بعد کسی بندے کے بارے میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ لوگوں میں سب سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرا امیر بھی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کو قیامت کے روز لایا جائے گا اور اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکل آئیں گی اور وہ جہنم میں ان کے ارد گرد چکر کاٹنا شروع کر دے گا، جیسے گدھا چکی کے چکر کاٹتا ہے، اس کی یہ حالت دیکھ کر جہنمی لوگ اس کے پاس جمع ہو کر کہیں گے: کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، لیکن میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود اس کو نہیں کرتا تھا اور تم کو برائی سے منع کرتا تھا، لیکن خود اس کا ارتکاب کر جاتا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 277]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3267، ومسلم: 2989، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22143»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان ؓسے گفتگو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ان تک یہ بات پہنچائی جائے کہ وہ اپنے رشتہ داروں میں مختلف عہدے تقسیم کر رہے ہیں، لوگوں کو ان کی اس کاروائی پر اعتراض ہے، آگے سے سیدنا اسامہ ؓنے جواب دیا کہ اس نے مصلحت اور ادب کے ساتھ اُن کے ساتھ گفتگو کی ہے، اب یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ کھلے عام انکار شروع کر دے، اس سے تو مسلمانوں میں اختلاف پڑ جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3267
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 278
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) يَعْنِي رِيحَهَا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ علم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کیا جاتا ہے، جو آدمی اس کو سامانِ دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3664، وابن ماجه: 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8438»
وضاحت: فوائد: … جو چیز محض عبادت ہو، جیسے قرآن و حدیث کی تعلیم، صدقہ و خیرات، جہاد اور دوسرے امورِ اسلام، ان کے حصول کے وقت کوئی دنیوی مقصد مدنظر نہیں رکھنا چاہیے، یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے اور کم لوگ ہیں، جو اس نزاکت کو سمجھ پاتے ہیں، جبکہ یہ معاملات انتہائی سنجیدگی اور غور وفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3664
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابٌ فِي فَضْلِ تَبْلِيغِ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَنَقْلِهِ كَمَا سَمِعَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 279
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نَحْوًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ فَقُلْنَا: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: أَجَلْ، سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ، فَإِنَّهُ رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ أَبَدًا، إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَمُنَاصَحَةُ وَلَاةِ الْأَمْرِ وَاللُّزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ) ) وَقَالَ: ( (مَنْ كَانَ هَمُّهُ الْآخِرَةَ، جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِي رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ) ) وَسَأَلَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَهِيَ الظُّهْرُ
ابان بن عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تقریباً نصف النہار کے وقت مروان کے پاس سے نکلے، ہم نے کہا: اس نے اس وقت کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے ان کو بلایا ہو گا، چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں، اس نے مجھ سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کوئی حاملینِ فقہ فقیہ نہیں ہوتے اور کئی حاملینِ فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں۔ اگر تین چیزیں ہوں تو مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ عمل کرنا، دوسرا امراء کی ہمدردی کرنا اور تیسرا جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ مومنوں کی دعا ان کو پیچھے سے گھیر کر رکھتی ہے۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی فکر اور غم آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کا شیرازہ مجتمع کر دیتا ہے اور اس کے دل میں غنیٰ رکھ دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے، لیکن جس کی نیت اور عزم دنیا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مشاغل بڑھا دیتا ہے اور اس کی فقیری اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے اور دنیا بھی اس کو اتنی ہی ملتی ہے، جتنی اس کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔“ اس نے ہم سے نمازِ وسطیٰ کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ظہر ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3660، وابن ماجه: 4105، والترمذي: 2656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21923»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تروتازگی کی جو دعا کی ہے، محدثین اور ان کا منہج رکھنے والے اس دعا کا مصداق بنتے ہیں، جنھوں نے احادیث ِ نبویہ کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اپنی احادیث کو فقہ اس کا فہم رکھنے والے کو فقیہ قرار دیا ہے، ہمارے ہاں ایک مروّجہ فقہ کے لیے لفظ فقہ استعمال کیا جاتا ہے، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ وہ لوگ اس مقصد کے لیے فقہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو یا تو متعصب ہیں یا پھر اپنی مروجہ فقہ سے غافل ہیں، جو آدمی مروجہ فقہ کا مطالعہ کرے گا، وہ ان شاء اللہ اس کے لیے لفظ فقہ استعمال نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ عمل کرنا، امراء کی ہمدردی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، یہ تین ایسے اعمال ہیں کہ ان کے ذریعے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، جو شخص ان کا اہتمام کرے گا، اس کا دل دھوکے اور خیانت سے پاک ہو جائے گا۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں جس فکر اور غِنٰی کی ترغیب دلائی گئی، حقیقت میں یہی زندگی ہے اور جس حرص سے منع کیا گیا ہے، حقیقت میں وہی بے سکونی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 3660
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 280
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى فَقَالَ: ( (نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ، إِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَالنَّصِيحَةُ لِوَلِيِّ الْأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ) )
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی خیف وادی میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے میری بات سنی، پھر اس کو یاد کیا اور اس تک پہنچا دیا، جس نے اس کو نہیں سنا تھا، پس کئی حاملینِ فقہ ایسے ہیں کہ ان کے پاس فقہ نہیں ہوتی اور کئی حاملین فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں، اگر یہ تین چیزیں ہوں تو مومن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو خالص کرنا، امراء کی خیرخواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، پس بیشک ان کی دعا اس کے پیچھے ہوتی ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 231، 3056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16859»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 231
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 281
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَحْفَظُ لَهُ مِنْ سَامِعٍ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کئی ایسے لوگ ہیں کہ جن کو حدیث پہنچائی جاتی ہے، وہ سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2657، وابن ماجه: 232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4157»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ بعد والے لوگ زیادہ فقیہ اور احادیث کو زیادہ یاد کرنے والے ہوں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2657
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ، يُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سنتے ہو اور تم سے بھی سنا جائے گا اور جو تم سے سنیں گے، ان کو بھی سنا جائے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2945»
وضاحت: فوائد: … یہ خبر بمعنی امر ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ صحابہ کرام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر ضبط کریں اور پھر بعد والے لوگ ان سے سنیں، اس طرح یہ سلسلہ جاری رہے تاکہ اگلی نسلوں تک پیغام پہنچ سکے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 3659
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں