🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. بَابُ السِّوَاكِ عِنْدَ الِاسْتِيقَاظِ مِنَ النَّوْمِ وَعِنْدَ التَّهَجُّدِ وَدُخُولِ الْمَنْزِلِ
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 569
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سوتے تھے، مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتی تھی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوتے تو مسواک سے شروع کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابو يعلي: 5749، والطبراني في الكبير: 13598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5979»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا تَسَوَّكَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات اور دن کو جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25412»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا قَامَ مِنَ التَّهَجُّدِ) يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تھے، ایک روایت میں ہے: جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 245، ومسلم: 255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23631»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطْرَ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا) ) قَالَ: وَسَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: «اللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا»اے اللہ! نفع مند بارش نازل فرما۔ شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو کسی چیز سے ابتدا کرتے تھے، انہوں نے کہا: مسواک سے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 164، وأخرجه مسلم: 253 دون القسم الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24645»
وضاحت: فوائد: … نیند، گفتگو اور کچھ دیر گزر جانے سے معدہ کے بخارات کی وجہ سے منہ میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسے اوقات میں مسواک کی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ لِلصَّائِمِ وَالْجَائِعِ
روزے دار اور بھوکے کے مسواک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان گنت اور بے شمار دفعہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2364، والترمذي: 725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15678، 15688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15766»
وضاحت: فوائد: … امام شافعی نے روزے دار کے لیے دن کے شروع میں اور آخر میں مسواک کرنے کو جائز قرار دیا ہے، جبکہ امام احمد نے دن کے آخری حصے میں مسواک کرنے کو ناپسند کیا ہے، جبکہ ناپسند کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَسَنٌ ثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ قَابُوسٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا فَقَالَ لَهُ: ( (أَلَا تَسْتَاكُ؟) ) فَقَالَ: إِنِّي لَا أَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں کی ایک قسم کی ضرورت تھی، جب ان میں سے ایک آدمی نے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے بدبو محسوس کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم مسواک نہیں کرتے؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتا ہوں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، پس اس نے اس کو جگہ دی اور اس کی ضرورت پوری کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قابوس بن ابي ظبيان ليِّن يكتب حديثه ولا يحتج به۔ أخرجه الطبراني: 12611، والبيھقي: 1/ 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2409»
وضاحت: فوائد: … مسواک کے عام دلائل روزے دار کو بھی شامل ہیں، جبکہ خاص دلائل بھی موجود ہیں، نیز کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے، جس میں روزے دار کو مسواک کرنے سے منع کیا گیا ہو، علاوہ ازیں اگر روزے دار کے لیے وضو میں کلی کرنا درست ہے، جس میں سارے منہ میں پانی کو حرکت دے کر گھمایا جاتا ہے تو مسواک بھی درست ہونا چاہیے۔ ذہن نشین رہے کے روزے دار کہ منہ کی بو، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی پاکیزہ ہے، کا تعلق روزے دار کے معدے سے ہے، نہ کہ منہ سے، اس لیے مسواک سے وہ بو متأثر نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں