🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ وَالنَّهْيِ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ وَالِاسْتِنْجَاءِ بِهَا
پانی سے استنجا کرنے کا بیان اور دائیں ہاتھ سے عضوِ خاص کو چھونے اور اس سے استنجاء کرنے سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِيْنَ بِالْمَاءِ وَقَالَتْ: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنَ الْبَاسُورِ، تَقُولُهُ عَائِشَةُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اہل بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس آئیں، سیدہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ خود بھی پانی کے ساتھ استنجا کیا کریں اور اپنے خاوندوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح استنجا کرتے تھے اور یہ بواسیر سے شفا بھی ہے۔ یہ آخری جملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے از خود کہا یا ابو عمار رحمہ اللہ نے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: وھو شفاء من الباسور ان كان من قول عائشة، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، شداد ابو عمار لم يدرك عائشة ؓ۔ أخرجه الترمذي: 19، والنسائي: 1/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25130»
وضاحت: فوائد: … سنن بیہقی کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ بواسیر سے شفا بھی ہے والا جملہ سیدہ عائشہؓ نے کہا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 541
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ، فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
(اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور طریق (سند) سے روایت ہے کہ) انہوں نے (عورتوں سے) فرمایا: تم اپنے شوہروں کو حکم دو کہ وہ (پانی کے ذریعے) قضاءِ حاجت اور پیشاب کے اثر کو دھو لیا کریں، کیونکہ ہمیں انہیں (براہِ راست) یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے، اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25402»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 542
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ مَقْعَدَتَهُ ثَلَاثًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مقعد کو تین دفعہ دھویا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 542]
تخریج الحدیث: «اسناده مسلسل بالضعفاء علي نسق، شريك النخعي، وجابر الجعفي، و زيد العمي۔ أخرجه ابن ماجه: 356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26281»
وضاحت: فوائد: … مَقْعَد سے مراد پائخانہ والی جگہ ہے۔ معلوم ہوا کہ پانی سے استنجا کرنا افضل ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابٌ مَا جَاءَ فِي الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ
پیشاب سے بچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 543
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: ( (إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ (وَقَالَ وَكِيعٌ: مِنْ بَوْلِهِ) وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: بیشک ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ (مسند احمد: 1980) [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 218، ومسلم: 292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1980 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ،وَاِنَّہٗ لَکَبِیْرٌ … اور ان کو مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، اور وہ بڑے گناہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا اور چغلی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق یہ دو مسلمان تھے، ان کو بقیع میں دفن کیا گیا تھا، البتہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود نہیں تھے، یہ تفصیل ایک روایت کے ان الفاظ سے ثابت ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ دَفَنْتُمُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا؟)) … آج تم لوگوں نے یہاں کن کو دفن کیا ہے۔ اس قسم کی احادیث سے ہمیں متنبہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ ہماری ان ہستیوں سے کیا نسبت ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر براہِ راست ایمان لائی تھیں۔ جب وہ عظیم ہستیوں میں شامل ہونے کے باوجود مذکورہ کوتاہیوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہو گئے تو ہم ان کمزوریوں کی وجہ سے عذاب الٰہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عذاب قبر زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8313»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
عَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ بْنِ فَسَائَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْتُرْ ذَكَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) )
یزداد بن فساء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ اپنے عضو خاص کو تین دفعہ نچوڑے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،عيسي بن يزداد وأبوه مجھولان۔ أخرجه ابن ماجه: 326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19264»
وضاحت: فوائد: … یزداد بن فساء ہ کے بارے میں صحیح رائے یہ ہے کہ ان کی صحابیت کا شرف حاصل نہیں ہوا، سو اس کی روایت مرسل ہو گی، امام بخاری، ابو حاتم رازی، ابوداود اور دیگر اہل علم نے یزداد کے صحابی نہ ہونے کی صراحت کی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَزَادَ: فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ
(دوسری سند) اسی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ اپنے عضو خاص کو تین دفعہ نچوڑے، پس بیشک یہ عمل اس کو کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 546]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19263»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی مخصوص آدمی کو ظن غالب کی حد تک شبہ ہو جائے تو وہ عضو ِ خاص کو نچوڑ کر یا انگلی مار کر یا کچھ دیر بیٹھ کر اس شبہ کو ختم کر سکتا ہے، لیکن اس ضمن میں شیطان کے وسوسوں کو سمجھنا اور ان سے بچنا ضروری ہے، وگرنہ طہارت کے معاملات میں کئی اشکالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ استنجا کا اصل طریقہ یہی ہے کہ پیشاب منقطع ہو جانے کے بعد پتھر یا پانی استعمال کر لیا جائے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَقُومَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذَى مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی نماز کے لیے اس حالت میں نہ جائے کہ اس کے ساتھ پائخانہ یا پیشاب کی نجاست لگی ہوئی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 547]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابن ماجه: 618، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10096»
وضاحت: فوائد: … اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا بول و براز نجس ہے اور اس سے اجتناب کرنا اور کپڑے یا جسم کے کسی حصہ کو لگ جانے کی صورت میں اس سے پاکی حاصل کرنا فرض ہے۔ اس ضمن میں احناف نے ایک درہم کی مقدار کے برابر نجاست کی اجازت دی ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے، اس کی تفصیل حدیث نمبر (۴۴۰)میں گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. فَصْلٌ فِي نَضْحِ الْفَرْجِ بِالْمَاءِ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ
استنجاء کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ أَنَا سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ، وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ (وَفِي لَفْظٍ: بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ)
سیدنا حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور وضو کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کے الفاظ یہ تھے: بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 548]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 167، 168، وابن ماجه: 461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23863»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ
(دوسری سند) بنو ثقیف کے ایک آدمی کا باپ رضی اللہ عنہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23614»
وضاحت: فوائد: … حضرت زید بن حارثہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَتَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِيْ أَوَّلِ مَا أُوْحِيَ إِلَیْہِ، فَعَلَّمَہٗ الْوُضُوْئَ وَالصَّلَاۃَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوْئِ، أَخَذَ غُرْفَۃً مِنْ مَّائٍ فَنَضَحَ بِھَا فَرْجَہٗ۔)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کے ابتدائی زمانے میں جبریل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو اور نماز کی تعلیم دی، جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا ایک چلو لیا اور اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑک دیا۔ (ابن ماجہ:۱/۱۷۲ـ ۱۷۳، صحیحہ: ۸۴۱)معلوم ہوا کہ وضو کے بعد پانی کا ایک چلو شرمگاہ پر چھڑک دینا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں