الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب
مسواک کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: Q550]
49. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ
مسواک کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 550
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ) )
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک کرنا منہ کو پاک کرنے والا اور رب تعالیٰ کو راضی کرنے والا عمل ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 550]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 109، 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 62 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 62»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 551
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔أخرجه النسائي: 1/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25438»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 552
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ، فَإِنَّهُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ وَمَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسواک کا لازمی طور پر اہتمام کرو، کیونکہ یہ منہ کو پاک کرنے والا اور رب کو راضی کرنے والا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5865»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 553
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنَّ سَيَنْزِلُ فِيهِ قُرْآنٌ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب اس کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 553]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 23300، وابن ابي شيبة: 1/ 171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2125»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 554
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ السِّوَاكَ حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيَنْزِلُ عَلَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر زیادہ مسواک کرتے تھے، کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ اس کے بارے میں عنقریب قرآن نازل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 554]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2573»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 555
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيَّ) )
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ میں ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو فرض کر دیا جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16103»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 556
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12486»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 557
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِي بِالسِّوَاكِ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدَّمَ فِيَّ) )
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام جب بھی میرے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا، میں تو اس بات سے ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منہ کا سامنے والا حصہ ہی اکھاڑ دوں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر الافريقي وعلي بن يزيد الالھاني ضعيفان۔ أخرجه ابن ماجه: 289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22625»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 558
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَنُّ فَأَعْطَى أَكْبَرَ الْقَوْمِ وَقَالَ: ( (إِنَّ جِبْرِيلَ أَمَرَنِي أَنْ أُكَبِّرَ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک لوگوں کے بڑے آدمی کو دے دی اور فرمایا: ”بیشک جبریل علیہ السلام نے مجھے بڑے آدمی کو مسواک دینے کا حکم دیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البيھقي: 1/ 40، وأخرج نحوه مسلم: 2271، وعلقه البخاري: 246 بصيغة الجزم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6226»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَرَانِیْ اَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَائَ نِیْ رَجُلَانِ اَحَدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْاَصْغَرَ مِنْھُمَا فَقِیْلَ لِیْ: کَبِّرْ، فَدَفَعْتُہٗ اِلَی الْاَکْبَرِ مِنْھُمَا)) … میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں مسواک کر رہا تھا، پس میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، پس جب میں نے چھوٹے کو مسواک پکڑانا چاہی تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو دو، پس میں نے بڑے کو دے دی۔ (صحیح بخاری: ۲۴۶)
الحكم على الحديث: صحیح